کربلا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بہترین نمونہ ہے، سید طہ شمس الدین

شگر(عابدشگری) علمائے امامیہ شگر کے صدر اور معروف عالم دین سید طہٰ شمس دین نے کہا ہے کہ کربلا امر معروف نہی عن ا لمنکر کا بہترین نمونہ ہے امام مظلوم کربلا نے دین محمدی کو بچانے کے لئے باطل کے خلاف قیام کیا اور رہتی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے جھک جانے سے سر کٹانا بہتر ہے مسجد زینیبیہ ؑ شگر میں مجلس عز ا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہشگر کے تمام اداروں کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے اپنے ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔اور تمام ادارے بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دینگے تو شگر ضلع دیگر اضلاع کیلئے مثال بن جائے گا۔ تاہم ادارے اپنے فرائض کو ہٹ کر دیگر امور میں مبتلاء ہوگئے ہیں۔جوکہ نیک شگون نہیں۔انہوں نے کہا کہ کربلا ہمیں حق کی راہ میں کٹ مرنے کا درس دیتا ہے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حق اور باطل دونوں کی حمایت اور سرمایہ خرچ کرئے انہوں نے کہا کہ امام مظلوم کربلا امت کی اصلاح کے اور جد امجد کی دین کو بچانے کے لئے نکلے اور کربلا میں اپنا سب کچھ قربان کرکے دین محمدی کو بچایا انہوں نے کہ کہا واقعہ کربلاء حق و باطل کا معرکہ تھا۔اور عزاداری ہماری شہہ رگ حیات ہے ۔ہمیں واقعات کربلاء اور امام مظلوم کی شہادت کو مناتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ سید طہٰ شمس دین نے کہا کہ منکرات کے خلاف آواز حق بلند کرنے اور بے ضمیر وں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کا نام کربلا ہے۔

ادھر، ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کرنے کیلئے مختلف امام بارگاہوں اور جلوسوں کے مقامات کا دورہ کیا اور سکیورٹی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔انہوں نے جلوس اور امام بارگاہوں کے منتظمین سے بھی ملاقات کی اور جلوس اور مجالس کے دوران سکیورٹی اور دیگر مسائل کے حوالے سے گفتگو کی اور مسائل دریافت کئے۔ انہوں نے منتظمین اور عزاداروں سے مجالس اور جلوس کے روٹ میں سکیورٹی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے۔انہوں نے زوردیکرکہا کہ شگر انتظامیہ عزادروں کی سہولیات کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں ۔ تاہم مقامی رضاکاروں اور منتظمین کو بھی انتظامیہ کی ہاتھ بٹائیں۔ انتظامیہ عزاداروں کی سہولیات اور جلوس میں سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کو کمی نہیں ہونے دینگے۔ڈپٹی کمشنر شگر نے کوتھنگ پائین،مرہ پی مسجد زینیبیہ ؑ ،چھورکاہ اور دیگر علاقوں سے نکلنے والی ماتمی جلوسوں کا دورہ کیا۔جبکہ متعدد امام بارگاہوں کا بھی دورہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments