دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔ آسیب کا قصہ جو سرفراز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا (قصہ نمبر ۱ )

تحریر شمس الحق قمر 

لوگ عجیب کہانیاں سناتے ہیں ۔ کچھ پر یقین آتا ہے کیوں کہ سنانے والے کہتے ہیں کہ اُنہوں نے خود اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا تھا ۔ بعض واقعات اتنے خوفناک ہوتے ہیں کہ سن کرخون خشک ہو جاتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے  ۔ میں چونکہ عرصہ دراز سےگلگلت میں رہتا ہوں تو یہاں پر جن ، پری ، بھوت اور خاص کر چڑیلوں کی کہانیاں مشہور ہیں۔ چڑیل کو کھوار میں’’ گور‘‘ کہتے ہیں اور چترال میں ’’پیاڑو گور‘‘ کی ڈراونی کہانیاں زبان ذدِ خاص و عام ہیں ۔  گور کے بال گندمی مگر کانٹے دار ہوتے ہیں ، ایک دانت نچلے جبڑے سے سرتک جبکہ دوسرا دانت اوپر کے جبڑے سے ناف تک لمبا ہوتا ہے ، ایڑیاں آگے ہوتی ہیں ، آنکھیں شیشے کی مانند ٹمٹاتی رہتی ہیں ، منہ خون آلود اور خشک ہوتا ہے ،جب کہیں کسی قرب جوار میں  فوتگی  ہونی ہو تو اُس دن صبح سے یہ مخلوق خوشی سے پھولا نہیں سماتی  ۔ پنیاڑ یا پیاڑ میں ’’گور‘‘ کا وجود ہے یا نہیں اس پر کسی اور نشست میں بات چیت ہوگی لیکن سرِ دست میں گلگت بلتسان میں جن واقعات کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ تمام کہانیاں اپنے دوست سرفراز شاہ سے اُن کی زبانی سن چکا ہوں ۔

سرفراز شاہ صاحب سیاسی راہنما ، ماہر تعلیم ، مصنف ، تحقیق کار ، تاریخ دان ، مذہی سکالر اور سماجی کارکن ہیں۔ جو کہ اِن دونوں گلگت میں جن بھوت کے وجود پر تحقیق کر رہے اور اُمید ہے کہ اس موضوع پر اُن کی تصنیف جلد شائع ہوگی ۔ کہتے ہیں کہ  جب وہ محکمہ تعلیم میں مصروف عمل تھے تو اُن کا تبادلہ اسکردو کے ایک دورافتادہ علاوقے میں ہوا جس سکول میں اُن کا تبادلہ ہوا تھا وہ سکول ایک ٹیلے کے اوپر واقع تھا  اور اُسی سکول سے ملحق گوروں کا ایک پرانا قبرستان  بھی ہے جس میں ایک صدی قبل کے گورے مدفون ہیں اور اس کے ساتھ اُسی زمانے کا ایک آسیب زدہ ڈاک بنگلہ بھی خستہ حالت میں بمشکل استادہ ہے ۔ موصوف نے اُسی ڈاک بنگلے پر ڈھیرا ڈال دیا اور رہنے لگے ۔ سکول کے باقی اساتذہ نے موصوف کو  اُس عمارت میں نہ رہنے کی کئی بار تنبیہ کی لیکن سرفراز شاہ صاحب اپنے دھن کے پکے تھے  لہذا کسی کی نہ سنی ۔ سرفراز شاہ کے اس آسیب زدہ عمارت میں رہنے کی خبر علاقے کے آغا تک پہنچی کہ  غذر کے رہنے والےایک ہیڈ ماسٹر گورہ قبرستان سے متصل ڈاک بنگلے کے ایک کمرے میں قیام پذیر ہیں جو کہ طویل عرصے سے بد روحوں کا مسکن ہے اور اسی وجہ سے سنسان  اور خالی ہے ۔  یہ جگہ اتنی سنسان ہے کہ لوگوں کی کوئی ٹولی  دن کے وقت بھی  داخل ہو تو بال کھڑے ہوجاتے ہیں ، یہاں ہمیشہ سناٹا چھایا رہتا ہے ۔ لہذا آغا( اہل تشیع اپنے  دینی عالم کو آغا کے نام سے یاد کرتے ہیں ) نے سرفراز استاد کو  اپنے گھر دعوت پر بلایا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ اس سنسان علاقے کو چھوڑ کر محلے میں  رہے اور آغا صاحب نے بغیر کسی عوض کے مفت مکان دلوانے کا بھی وعدہ کیا ۔ دعوت سے فارغ ہوتے ہوتے  آغا صاحب نے اپنے ملازم کو ہدایت کی کہ وہ ہیڈماسٹر صاحب کو نہ صرف اُن کے مکان تک پہنچائے بلکہ اُن کے ساتھ رات بھی گزارے اور صبح اُن کے بستر وغیرہ بھی سمیٹ کر محلے کے ایک صاف و شفاف گھر میں لا کر پیوست کرے ۔ موصوف کے پاس بیٹری والی بجلی تھی ۔ جاڑے کا موسم تھا ۔

سرفراز استاد آغا کے ملازم کو لیکر اپنے آسیب زدہ گھر کی طرف چل پڑے سکوت اتنا تھا کہ  راستے  میں جاڑے کا کوئی ایک خشک  پتا گر جاتا تو خوف کا سا سما بندھ جاتا ۔ سرفراز استاد نے یہاں دو مہینے گزارے تھے اور کوئی نا خوشگوار واقعہ ابھی تک  پیش نہیں آیا تھا ۔ لیکن اب ۔۔۔۔۔۔ اب ایک عجیب واقعہ ہوا جو کہ ابھی تک سرفراز صاحب کے ذہن کو جھنجھوڑتا رہتا ہے ۔ ہوا یوں کہ آغا کے ملازم اورہیڈ ماسٹرسرفرازشاہ صاحب ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے ، موصوف نے اپنے کمرے کا لالٹن ماچس سے جلایا ، ہاتھ کی بجلی بند کی اور کمرے میں لالٹٰن کی روشنی پھیل گئی ۔ یہ دونوں لوگ بیٹھے نہیں تھے کہ ایک بے لگام گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا سرفراز کے کمرے کے عین سامنے سے گزر گیا ۔ آغا صاحب کے نوکر میں جتنی بھی طاقت تھی وہ ایک قیامت خیز چیخ میں بدل گئی اور آغا کے نوکر ہیڈ ماسٹر کے ساتھ چپک کر اول کلمہ شہادت کو ادھورے بلتی ہجے کے ساتھ پڑھنا شروع کیا ۔  استاد کہتے ہیں کہ مجھے نوکر کے اس حوصلے پر ہنسی بھی آرہی تھی اور میں سوچ میں بھی مگن تھا کہ آخر یہ ماجرا ہے کیا؟  ۔ میں دوبارہ باہر نکلا اور دور تک بچلی کی روشنی سے دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا اور نظر آنا بھی نہیں چاہئے تھا کیوں کہ ہم نے قبرستان کے حصار کا آہنی دروازہ بند کیا تھا اور کسی بھی قسم کے جانور کے اندر داخل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ جب میں باہر نکلا تو نوکر بھی میرا دامن پکڑے کانپتے ہوئے میرے ساتھ  حواس باختگی کے عالم میں چلتے رہے اور ہمیں کچھ نظر نہ آیا ۔ یوں ہم دوبارہ کمرے کی طرف آئے اور ہم کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ گھوڑا تھوڑی دیر پہلے جس جانب گیا تھا اُسی جانب سے واپس پہلے سے بھی تیز دوڑتے اوراوپر سے ہنہناتے  لپک جھپکنے میں گزر گیا ۔  ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ،ایک عجیب وقعہ تھا ۔

آغا کے نوکر نے یہ کہتے ہوئے رونا شروع کیا کہ ہم لقمہ اجل ہوئے اب ہم نہیں بچیں گے ۔  اُس نے میری منت سماجت کی کہ میں اُسے لیکر اس آسیب زدہ کمرے سے نکلوں ورنہ صبح تک ہم دونوں  زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔

لہذا سرفراز صاحب آغا کے نوکر کو لیکر محلے کی جانب چل پڑے ۔ سرفرازکو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ انسان سے خطرناک مخلوق کم از کم اس کرہ ارض پر نہیں ہے  ۔ اُسے اس غیر متوقع حرکت سے خوشی ہوئی تھی وہ اکیلے میں اس معاملے کی تہہ تک جانے کے لئے بے تاب تھے ۔ نوکر کو اُس کے محلے تک لے جاکر چھوڑ کے خود واپس ہوئے ۔ نوکر نے ہزار بار گھر رکنے کی منت کی لیکن سرفراز کے زہن میں آسیب سے ملاقات  کا شوق سوار تھا ۔ سرفراز صاحب واپس ڈاک بنگلہ پہنچے چاردیواری کا دروازہ بند کیا اپنے کمرے میں لالٹین دوبارہ جلاکر کچھ دیر کے لئے بیتے ہوئے واقعے پر سوچتے رہے  ۔ تھوڑی دیر بعد جب آنکھ کھلی تو سکول کا وقت ہوا تھا ۔

جب میں نے سرفراز  صاحب سے استفسار کیا کہ اُس واقعے کے بعد کوئی دوسرا وااقعہ بھی ہوا ؟ تو انہوں نے کہا کہ اُس واقعے کے بعد مزید ایک سال کا عرصہ میں نے اسی بنگلے میں گزارا اور تاک میں رہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہوجائے اور میں قریب سے دیکھ سکوں اور جان سکوں کہ اصل معاملہ  ہے کیا لیکن کبھی بھولے سے بھی اس طرح کی حرکت دوبارہ نہیں ہوئی۔

سرفراز استاد کی نظر میں ان مخلوقات کا وجود اپنی جگہے پر درست ہے لیکن ان کی کوئی وقعت نہیں  جب ہم اُن کا ذکر کرتے ہیں ، اُن سے ڈرنے کی باتیں کرتے ہیں اور اُنہیں اہمیت دیتے ہیں  تو وہ اپنے آپ کو کار امد ثابت کرنے کے لئے یہ حرکتیں کرتی ہیں ۔ ان کو توجہ دینے سے سر پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں توجہ نہ دو تو گویا ان کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ ہم جب ان سے ڈریں گے تو یہ ہمارے ذہن پر سوار ہو کر ہمں ہراساں کریں گے ۔  آسیب کی دوسری کہانی میرے دوست شاہ نواز بونی کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعے کی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اُپ کی نذر ہوگی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments