گرفتار۔۔!

تحریر: ڈاکٹر عاطف علی 

1898 میں ، برطانوی راج کے دوران ، لنڈی کوتل میں ایک رات برطانوی آفیسر جیمز سکویڈ (James Squid) شراب کے نشے میں دھت اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اسے ہوا کی وجہ سے ہلتے ہوئے درخت پہ چلنے اور اپنی جگہ چھوڑ کے حرکت کرنے کا گمان ہوا۔ اپنی بادشاہی کے رعب میں شاید جیمز نے درخت کو “رکنے” کا بھی حکم دیا ہوگا ، مگر حکم کی تعمیل نہ ہونے پر سپاہیوں کو بلا کر درخت کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ سپاہی ڈھونڈ ڈھانڈ کے زنجیریں لائے ، کسی میں یہ ہمت نہ تھی کہ صاحب بہادر کو ٹوک سکے کہ حضور یہ مسلے کا حل نہیں ، اور درخت کو زنجیروں سے باندھ دیا۔ تقسیم کے بعد بھی پاکستانی حکام نے اس درخت کو زنجیروں کے ساتھ ہی رکھا اور یہ آج بھی آرمی میس کے لان میں موجود ہے۔اس درخت پر لگی ایک تختی میں یہ عبارت لکھی یوئی ہے کہ” مجھے برطانوی آفسر نے ہلنے کے جرم میں گرفتار کیا ہوا ہے ” تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہ اقتدار کا نشہ انسان سے کیسی کیسی بے ہودہ حرکتیں کرواتا ہے۔
شاید اس وقت لوگوں کو یہ خوش گمانی تھی کہ colonial era ختم ہو چکا ہے ، اس لئیے abuse of power کی یادگار کے طور پر اس درخت کو اسطرح رکھ لینا چاہئیے۔ انھیں شاید ادراک نہ تھا کہ انگریز اپنے پیچھے بیوروکریسی کے نام پر ایک ایسی پرت چھوڑے جا رہا ہے ، جو ان کی کمی محسوس نہ ہونے دے گی اور نہ ہی ایسے “نادر احکامات” نادر رہیں گے۔
انھیں شاید یہ بھی علم نہ تھا کہ اس درخت کی گرفتاری کے 120 سال بعد پاکستان کے ضلع ہنزہ میں، جہاں شرح خوندگی 100 فیصد ہے ، ایک ایسے صاحب بہادر وارد ہونگے جو کئی سالوں سے موجود ڈاکٹروں کی کمی اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے رینگ رینگ کے چلنے والے ہسپتال کو بہتر کرنے کے اقدامات کرنے کی بجائے سیل کرنے کا حکم دے دیں گے۔ ان سپاہیوں کی طرح یہاں بھی کسی گماشتے کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ صاحب بہادر کو کہہ سکیں کہ “حضور کا اقبال بلند ہو ، ابھی دو چار مکے شکے مار لیں ہسپتال کو ، مگر سیل کرنے کے احکامات پر “اترنے” تک نظر ثانی کر لیں ” ( یہاں اترنے سے مراد کریم آباد سے اتر کر علی آباد آنے سے ہے ، کوئی اور مطلب پڑھنے والے کی اپنی ذہنی اختراع شمار ہوگی) اور یوں شاید موجودہ انسانی تاریخ کا جس میں بدترین جنگوں میں بھی ہسپتال بند نہیں کئیے جاتے ، صاحب بہادر نے یہ اعزاز بھی اپنے نام کرا دیا۔
مدعا اب یہ نہیں ہے کہ مبینہ ہسپتال کتنا فعال اور کتنا غیرفعال ہے ، مدعا اب یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں سہولیات کی فراہمی بذات خود ایک بڑا چیلنج ہے وہاں ایسے سربراہان کیا کارکردگی دکھائیں گے جن کو خود اپنے غصے اور اپنے فیصلوں پر قابو نہیں؟ سیل اگر جائز بنیادوں پر قانونی طریقے سے کیا گیا تھا تو چند گھنٹوں بعد کھولا کیوں ؟
میری صاحب بہادر سے یہ گزارش ہے کہ اپنی روایات کو برقرار رکھنے کیلئے اور جیمز سکویڈ کی روح کی تسکین کیلئے کریم آباد ہسپتال کو بھی “گرفتار” کر کے زنجیروں میں جکڑنے کا فرمان جاری کردیں۔ تاکہ سند رہے اور آنے والی نسلوں کو دکھایا جا سکے کہ ہم نے انگریزوں سے آزادی لے کر کن کواپںنے اوپر مسلط کئیے رکھا ہے۔

ڈی سی کا اقبال بلند ہو ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments