دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بونی گول میں بھوت جو شاہ نواز نے اپنی انکھوں سے دیکھا ( واقعہ نمبر ۲ )

تحریر : شمس الحق قمرؔ بونی

اس سے پہلے ہم نے گلگت میں محترم سرفراز علی شاہ صاحب کے ساتھ پیش آنے والا جن بھوت کا ایک واقعہ اُن کی اپنی زبانی سن کر اُپ کے گوش گزار کیا تھا ۔ اب  ایک اور دل دہلانے والا واقعہ جو میرے لنگوٹیا یار شاہ نوازخان کے ساتھ بونی گول میں رات کے وقت پیش آیا  اور انہوں نے خود مجھے بتایا ۔ یہ کہانی سن کر آُ پ بھی لرز اُٹھیں  گے ۔ یہ کسی فلم کا منظر نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جادو ٹونا ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے شاہ نواز کے علاوہ بھی اُن کے ایک اور رفیق کار نے دیکھا اور  دیکھ کر دو بار بے ہوش بھی ہو گئے۔شاہ نواز خان کا کہنا ہے کہ ایسے میں بدن سن ہوجاتا ہے ، حواس اُڑ جاتے ہیں ، سانسیں مدہم  پڑجاتی ہیں ، آواز حلق میں پھنس جاتی ہے   اور انسان بے بس ہوتا ہے ۔ یہی کچھ بونی گول کے پہاڑوں پر رات کے وقت موصوف کے ساتھ  پیش آیا ۔اس سے پہلے کہ ہم اُس واقعے پر گفتگو کریں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ شاہ نواز بھائی کا مختصر تعارف ہو جائے ۔

شاہ نواز بھائی کا تعلق بونی وریجنیغاندہ سے ہے ۔ تعلیم یافتہ نوجواں ، اعلی پائے کے شاعر اور سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ  فطرت کی کھوج بین ، پہاڑوں پر چڑھنے اور فطرت کو قریب سے دیکھنے کا ایک جنون اُن کی زندگی پر سوار ہے  ۔ اسی ذوق کی تکمیل کے لئے وہ کئی بار خطرات سے دو چار ہو چکے ہیں اور نبرد آزمائی جاری ہے ۔  بقول غالب

؎ جذبہ بے اختیا ر شوق دیکھا چاہئے
سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

  وہ اپنے شوق کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں؛  حالات جتنے بھی نا ہموار کیوں نہ ہوں اُن کے شوق کا پلڑا بھاری رہتا ہے ۔ گرمی ہو سردی ، طوفان ہو یا بارش  وہ اپنی دھن میں مست رہتے ہیں ، پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں  ، پتھروں کے نیچے یا غاروں میں راتیں گزار کر صبح سویرے اُٹھ کر قدرت کے دل فریب مناظرسے بہرہ ور ہونا اُن کا معمول رہا ہے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ  پہاڑوں میں  ایک سے زیادہ راتیں گزار نی  پڑتی ہیں  ۔ کبھی دوست اُن کے ساتھ ہوتے ہیں اور کبھی تن تنہا پہاڑوں میں گم سم ہوتے ہیں ۔ اکیلے جب جاتے ہیں تو اُن کی شاعری کی ڈائری اور اُن کا  تخیل اُن کی تنہائی کے ہم دم و دم ساز  ہوتے ہیں ۔

 یہ  آج سے آٹھ سال  قبل جولائی کے  مہینے کا کوئی دن تھا جب شاہ نواز بھائی ایک اور دوست کے ساتھ  بونی گول کی طرف نکلے ۔ اُن کے ضروری سامان میں ، ہاتھ کی بجلی (ٹارچ) ، ایک ہلکی فرشی دری ،  مختصر یک تہی  پلاسٹکی خیمہ  ،چائے جوش ، ایک لائیٹر اور ایک ماچس شامل تھے ۔ انہوں نے صرف ایک رات گزار نی تھی ۔ پروگرام کے مطابق آج بونی گول  غاری ( چراہ گاہ) میں گوجر کے ساتھ رات گزار کر صبح واپس لوٹنا تھا  ۔آج موسم بھی معمول کے مطابق بہتر  تھا  ۔ آسمان صاف اور آُ ب و ہوا خوشگوار ۔ شاہ نواز کو اپنی منزل یعنی گوجر کے گھروندے تک پہنچنے کےلئے چار گھنٹے کی مسافت طے کرنی تھی۔ غاری پہنچنے کے بعد انہوں نے گوجر سے دور ایک ٹیلے کے اوپر رات گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ ایک ٹیلے کے اوپر کوئی بیس مربع فٹ کے لگ بھگ ہموار جگہ تھی ، چاروں طرف سے خطرناک پہاڑی کھائیوں  سے گھرا ہوا  ہونے کے باوجود بھی تمام قدرتی آفات سے محفوظ مقام ۔ یہاں انہوں نے پڑاؤ ڈال دیا ۔ رات کے دوسرے پہر موسم نے اپنے تیور بدل ڈالے ۔ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ سیلاب اُمڈ آیا۔ دس منٹ کے اندراندر گویا سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا تھا ۔ اُس ٹیلےکے علاوہ کوئی جگہ ایسی نہیں تھی کہ جہاں سیلابی ریلا نہ پہنچا ہو۔ شاہ نواز بھائی بتانے ہیں کہ آسمانی بچلی کی تیز چمک کے ساتھ آمنے سامنے پہاڑوں سے گرنے والے سیلابی ریلوں کے اندر ایک دوسرے سے ٹکر کے نتیجےمیں پتھروں سے نکلنے والے شغلوں سے ایسا لگتا تھا کہ گویا پہاڑوں میں آگ لگی ہے اور قیامت کا دن آگیا ہے  ۔ ۱۰ یا  ۱۵ منٹ کی قیامت خیز بارش تھی ۔ یہ انہوں دنوں کی بات ہے جب دس منٹوں کی بارش کے بعد ریشن ایک ہیبت ناک سیلابی ریلے کی زد میں آکر اپنا حسن کھو گیا تھا ۔

شاہ نواز اور ان کے ساتھیوں کو اُس ٹیلے کے اوپر نیند تو نہیں آئی لیکن ان کی جانین سلامت تھیں۔ صبح جب پو پھٹی تو تمام نقشہ بدل چکا تھا ۔ تا حد نگاہ سیلابی ریلوں کی آلودگی تھی۔ اکثر جگہوں میں بجلی گرنے سے بڑے بڑے سنگلاخ پہاڑ رہزہ رہزہ ہو کر گرے تھے ۔ یہاں سے واپس غاری( پاسچر) کے لئے ایک گھنٹے کی مسافت تھی، لیکن اس وقت تمام راستے مسدود ہونے کی وجہ سے انہیں واپس غاری پہنچنے میں ۳ گھنٹے لگے۔ اُن کے پاس صرف ایک دن کی خوراک تھی۔  انہوں نے سوچا کہ واپس غاری جاکر گوجر کے یہاں سے کچھ کھا پی کے گاؤں کا راستہ لیں گے ۔ لیکن جب غاری پہنے تو گوجر بھی غائب تھا ۔ اُن کے  کچے گھر ( شال ) کے اندر پانی بھرا ہوا تھا ۔ اور اُس میں رکھے آٹے کی دو بوریاں کیچڑ میں جل تھل تھیں، ایک طرف چھت  مکمل  گری ہوئی تھی اور اندر کیچڑ جما تھا ۔ باہر ایک مردہ بکرا دو مردہ مرغیاں اور ایک نحیف نزار نیم مردہ مرغی زندگی کی آخری سانس لے رہی تھی ۔ موصوف کو بڑی فکر ہوئی کہ گوجر اپنے خاندان کو لیکر کہاں گیا ہوگا ۔

تھوڑی دیر بعد گوجر( گڈیریا) بھی ایا اور انہوں نے بتایا  کہ رات کو سخت بارش اور سیلاب کے ڈر سے وہ بوری بستر کنبہ  سمیت سمیٹ کر اوپر ایک محفوظ مقام پر رات گزار آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  کہ نیچے جانے کے تمام راستے بند ہیں  اور انہیں یہیں رات گزرانی ہوگی ۔ اب گوجر کے پاس بھی کھانے کو کچھ نہیں تھا البتہ ایک دو پھلکے بناکے شام کی ضیافت کا انتظام کیا  اور گوجر بھائی نے انہیں اپنے ساتھ چلنے ایک اور ٹیلے پر جانے کو کہا لیکن یہ لوگ تھکے ہوئے تھے لہذا اسی جگہے میں رات گزار کی ٹھان لی۔ چونکہ گوجر کے گھر سے متصل چھت سے عاری ایک گھروندا نما کمرہ تھا  ۔ جولائی کی  تپتی دھوپ سے یہ جگہ خشک ہو گئی تھی  ۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے خیمےکو  اوپر چھت بنا کر اسی کے اندر سو ئیںگے اور صبح جیسے ہی راستہ موزوں ہوگا گاؤں کو سدھاریں گے ۔

 اصلی کہانی کا آغاز گوجر کے اسی کچے مکان  سے ہوتا ہے ۔ شاہ نواز کی ہاتھ کی بجلی اور لائیٹر پچھلی رات اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے تھے ۔ لیکن قسمت اچھی تھی کہ چاند کی روشنی کا یارانہ تھا   ۔اسی کھنڈر کے اندر  یہ لوگ ابھی سوئے نہیں تھے ۔ موصوف کے ایک ساتھی نے موصوف کے ذانو پر سر رکھ کر تھوڑا سا سستانے کی کوشش کی ۔ شاہ نواز کا چہرہ  دروازے کی جانب تھا  ۔  اُن کے ذانو پر سر رکھے ساتھی کو یکایک  ایک زور دارجھٹکا لگا اور ساتھ ہی شاہ نواز کی نظر باہر دروازے کی چوکھٹ سے عاری دروازے پر گئی ۔ ۔۔۔۔۔۔

رات ۱۲ بجکر ۱۵ منت کا وقت تھا ۔ ایک خوف ناک انسانی ہاتھ  دروازے سے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ ہاتھ تو انسان کا  تھا لیکن کسی بڑے قد کے انسان سے زیادہ  طویل ہاتھ تھا ۔  موصوف کہتے ہیں کہ انہوں نے قرآنی آیات کی ورد  شروع کی۔ یہ سیکنڈوں کا معاملہ تھا جو ہو گزرا  ۔  موصوف کے ساتھی یکدم بیدار ہوہے اور بولے ( لال اوا اورارہ  زبردست زرن ہوتام ) ۔ کیوں کہ انہوں نے اس آسیبی ہاتھ کو دیکھا نہیں تھا بلکہ نیند میں اس ہاتھ کی حرکت کا اُس پر اثر ہوا تھا ۔ شاہ نواز نے انہیں بیدار رہنے کو کہا  ۔ کوئی ۲۰ منٹ گزرے تھے کہ موصوف کے  ساتھی نے ایک زوردار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئے ۔ شاہ نواز کہتے ہیں کہ میں  نے دیکھا تو وہ ہاتھ دوبارہ ہماری طرف بڑھ رہا تھا اوروہ پہلے سے زیادہ خوفناک جسامت اختیار گر گیا تھا ( آپ اندازہ لگائیں کہ ایسی جہگے پر انسانی ہاتھ نما بھوت آپ کا پیچھا کرے تو آپ پر کیا گزرے گا )۔ میں نے اُٹھ کر اُس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو میرا پورا جسم گویا خشک اور بے جان  ہوا تھا ۔ آواز نکل رہی تھی نہ میں کلمہ پڑھنے کے قابل تھا ۔ البتہ اتنا  ہوا کہ میں نے دل ہی دل میں قران کی آیات کا ورد کرنا شروع کیا اور آسیب کا ہاتھ مدہم پڑتے پڑتے دور ہو گیا ۔ میں نے اپنے ساتھی کو جھنجھوڑ کر ہوش میں لایا ، گھڑی دیکھی تو ڈھائی بج رہے تھے ۔

وہ ہاتھ دوبارہ ہماری طرف تو نہیں بڑھا لیکن اس سے بھی عجیب واقعہ یہ ہوا کہ وہ  ہمارے دیوار کے عین پیچھے  ایک سرگرمی کرتے رہے۔  ایسا لگتا تھا کہ جیسے دھوپ میں خشک چمڑوں کو کوئی اپنے ہاتھوں سے مسلسل دبارہا ہو ۔ سچ بات یہ ہے کہ باہر نکلنے کی ہمت ہم دونوں ہار چکے تھے۔ محسوس ایسا ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے ہمیں ہڑ پ کر ڈالے گا ۔ یوں ہم قرانی آیات کی ورد کرتے رہے یہاں تک کہ کسی ٹیلے کے اوپر سے گوجر کے مرغ نے صبح کی آمد کی بانگ بلند کی۔ انسانی ہاتھ نما جن دھیرے دھیرے ہمیں چھوڑ گیا ۔

صبح گوجر ایک سڑا پھلکا  معے سلیمانی چائے ناشہ لے کر ۳۰ منٹ کی مسافت طے کر کے نیچے آیا ۔ حوال احوال پوچھا تو ہم نے ساری کہانی بتادی ۔ گوجر نے کہا کہ یہی واقعہ کل رات اُسی بارش کے دوران اُن کے ساتھ بھی ان کی زندگی میں پہلی بار پیش آیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے بچوں کو لیکر محفوظ مقام کی طرف گئے تھے ۔ گوجر نے یہ بھی کہا کہ یہ واقعہ اس سیلاب کے ساتھ ساتھ پش آیا ہے ورنہ وہ کئی سالوں سے اسی جگہے میں خیمہ زن ہیں اور ماضی میں کبھی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا ہے ۔

میں نے شاہ نواز سے کہا کہ بھائی یہ کے دماغ کی پیچیدگی ہو سکتی ہے تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے ایسا ہو لیکن جن کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں اُن کے لئے کم از کم یہ کوئی خیالی  حرکات و سکنات نہیں ہیں ۔  بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کچھ اور عجیب واقعات کا ذکر کیا اور یہ واقعات دن دھاڑے اُن کے ساتھ پیش آئے ہیں ۔

ہم اگلی نشست میں ان پر بات چیت کریں گے تب تک آپ اسی ہاتھ پر اکتفا کیجئے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments