خداحافظ میر، ویلکم راجہ

میرآف ہنزہ میر غضنفر علی خان نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ،انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوادیا ہے، ان سطور کے لکھنے تک ان کا استعفیٰ اب تک قبول نہیں کیا گیا ہے اور ممکن ہے اس کالم کو پڑھنے تک ان کا استعفیٰ بھی قبول ہوجائے ، میر غضنفر علی خان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد وفاقی حکمران پارٹی سے مقامی سطح پر گورنر کے امیدواروں کا ایک لاوا اٹھ کھڑا ہوا تھا تاہم وفاقی حکومت نے اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے صوبائی صدر راجہ جلال حسین مقپون کو گورنر بنانے پر اتفاق کرلیا ہے ۔

میر غضنفر علی خان نے نومبر 2015میں اس وقت گورنر کا حلف لیا تھا جب وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور میر غضنفر علی خان خود ہنزہ کی نشست سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے تھے بعد ازاں گورنربننے کے لئے انہیں اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینا پڑا،جہاں پر ایک ضمنی الیکشن تو ہوچکا ہے دوسرے کا انتظار ہے ۔ گلگت بلتستان کے گورنر کو ہٹانے کی خبریں اسی دن سے بازگشت تھی جس دن وفاق میں پاکستان تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی تھی ، دھیرے دھیرے بازگشت خبروں میں جان آگئی اور گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان کو عہدے سے ازخود استعفیٰ دینا پڑگیا۔ میر غضنفر علی خان استعفیٰ دینے سے چند روز قبل ایک بار پھر اخبارات کی شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگے جب ان پر مبینہ طور پر ایک ویڈیو سکینڈل کے زریعے سی پیک کے خلاف سازش کا الزام لگادیا گیا اور اس خفیہ ویڈیو کے بنیاد پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ میر غضنفر ہنزہ کا الحاق چائینہ سے کررہے ہیں، خبر نے جنگل میں آگ لگادی اور پھیلی بھی آگ کی طرح، جس پر تمام حلقوں نے اس واقعہ اور الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ، لیکن سابق امیدوار جی بی اسمبلی حلقہ 6ہنزہ کرنل (ر) عبید اللہ بیگ کی قیادت میں ایک وفد نے تو تمام حدود پار کرلیے ، انہوں نے نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ ہنزہ کی بعض ہوٹلوں میں نہ صرف فحاشی کا کاروبار ہے بلکہ منشیات کا گھناؤنا کاروبار بھی چل رہاہے، عوامی سطح پر یہی نظر آتا رہا کہ ان الزامات کی بنیاد پر ہی گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے استعفیٰ دیدیا ہے یا پھر لے لیا گیا ہے تاہم میر فیملی کے ذرائع نے ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کا گورنر مقرر کرے۔ میر غضنفر کے گورنر ی سے الزامات کے ساتھ رخصتی کرکے ہم نے ایک بار پھر وہی تاریخ دہرائی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آنے والے کو ویلکم اور جانے والوں کی بے توقیری، کرنل (ر) عبید اللہ بیگ ، امتیاز گلگتی سمیت سیاسی لوگ اس وقت میر فیملی کے آگے پیچھے نظر آرہے تھے جب میرغضنفر نے ہنزہ کی نشست سے استعفیٰ دیدیا تھا اور وہ ضمنی الیکشن کے ٹکٹ کے لئے لابنگ کررہے تھے ، اس وقت دونوں امیدوار ان جی بی اسمبلی تحریک انصاف میں شامل بھی نہیں ہوئے تھے ، بعد ازاں ٹکٹ نہ ملنے کے بعد سے یکطرفہ لفظی گولہ باری کا آغاز ہوا اور گورنر سیکریٹریٹ یا رانی عتیقہ کی جانب سے کبھی کوئی جوابی بیان تک نہیں دیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف ہنزہ کے نام سے کی گئی پریس کانفرنس کاجواب تحریک انصاف ہنزہ نے ہی دیدیا اور وضاحت طلب کی کہ اولاً پریس کانفرنس کرنے والو ں میں سے کوئی ہنزہ کا ہی نہیں ہے ، گلگت اور دنیور کے باسیوں نے ہنزہ کے نام پر پریس کانفرنس کی ہے ۔ میں یہاں پر کسی کی جانب سے جواب نہیں دے رہا ہوں بلکہ یہ عجیب سی کیفیت نظر آتی ہے کہ جس کے پاس عہدہ ہوتا ہے اس سے یا تو لوگ بہت دور ہوتے چلے جاتے ہیں یا پھر قربت میں انتہاکرجاتے ہیں۔ کمزور معاشروں اور کمزور نظام میں یہی رویے ہوتے ہیں کہ کسی بھی عہدے کو اس شخصیت کی بنیاد پر اچھا اور برا قرار دیا جاتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ ان کا متبادل جو بھی آئیگا وہ کام بہتر کرے گا ، ایسا معمول میں نہیں ہوتا ہے غیر معمولی سانحات میں شاز و نادر ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔میر غضنفر کے اس دورانیہ میں یونیورسٹی کے کیمپسز سمیت متعدد کام (بالخصوص ہنزہ میں) مکمل ہوئے ہیں شکریہ اور الوداع کے الفاظ استعمال نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہے ۔

میر غضنفر علی خان کے استعفیٰ دینے سے گلگت بلتستان میں ’گورنری بحران ‘پیدا ہوچکا تھا اور کم و بیش دو درجن امیدوار وں نے اسلام آباد میں ڈیڑے ڈالے ہوئے تھے بالآخر یہ عہدہ راجہ جلال حسین مقپون کے نام رہا، راجہ جلال حسین مقپون سکردو سے جی بی اسمبلی کے امیدوار تھے جہاں پر سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ اور موجودہ سینئر وزیر اکبر تابان کے مقابلے میں بڑی دلیری سے مقابلہ کیا اور ڈرامائی صورتحال کے بعد ایک ووٹ سے ہار گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی حکومت کے ترجیحات کے مطابق اطلاعات یہی ہیں کہ راجہ جلال حسین مقپون کو بھی گورنر ہاؤس جی بی میں نہ رہنے کی تاکید کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نجی طور پر مکان کرایہ پر لیں جس سے دو کمرے وزیر امور کشمیر کے دفتری امور کے لئے ہونگے۔ تحریک انصاف نے ملک بھر میں گورنر ہاؤسز کو عوام کے لئے کھول دئے ہیں وہی پر گلگت بلتستان گورنر ہاؤس پہ بھی امید ہے کہ وہ اب عوام کے لئے کھول دیا جائیگا تاہم گلگت بلتستان کے گورنر ہاؤس کی ایسی کوئی مخصوص جغرافیہ بھی نہیں اور نہ ہی وسیع اور عریض اراضی ہے جس سے عوامی امور کا کوئی اہم کارنامہ سرانجام دیا جاسکے ، تاہم گلگت بلتستان کی طلبہ برادری نے اس صورتحال میں مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان گورنر ہاؤس کو میڈیکل کالج یا انجینئرنگ یونیورسٹی کے لئے مختص کردیا جائے ،اور اگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر چیف سیکریٹری ہاؤس کو گورنرہاؤس منتقل کرکے چیف سیکریٹری ہاؤس میں کوئی تعلیمی ادارہ کھول دیا جائے چونکہ چیف سیکریٹری ہاؤس کی اراضی گورنر ہاؤس سے زیادہ ہے ۔

راجہ جلال حسین کے گورنر بننے کے بعد ’سٹیٹس کو‘ کو مضبوط کیا گیا ہے ، پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پیر کرم علی شاہ گورنر بنے ، مسلم لیگ ن کے دور میں میر غضنفر علی خان گورنر اور اب پی ٹی آئی کے دور میں راجہ جلال حسین مقپون گورنر ، تینوں گورنروں کا تعلق جی بی کے تناظر میں اپر کلاس سے ہے ، تینوں کا آپس میں قریبی رشتہ داری بھی ہے ۔بہرحال تحریک انصاف گلگت بلتستان میں سخت امتحان کی صورتحال سے دوچار ہے، اب تک کسی بھی قسم کے وفاقی سرگرمیوں میں جی بی کا نام تک نہیں لیا گیا ہے جو کہ مقامی قیادت کی نااہلی بھی ہے اور آئندہ کے لئے سخت ترین محنت کی نوید بھی ہے ۔ راجہ جلال حسین مپقون پر بھی زمہ داری کا بارگراں آچکا ہے ، انہیں گورنر بننے پر نہ صرف مبارکباد پیش کرتا ہوں بلکہ امیدبھی رکھتاہوں کہ وفاقی سطح پر پارٹی میں گلگت بلتستان کی حیثیت کو بڑھائیں گے یا پھر سمجھائیں گے۔

*چند روز قبل پریس کلب گلگت میں گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سماجی شعبوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والے افراد کی حوصلہ افزائی اور خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈز دئے گئے ۔ کالم نگاری کے شعبے میں جی بی ایجوکیشنل سوسائٹی نے بندہ ناچیز اور جناب ایمان شاہ صاحب کا انتخاب کیا ، جبکہ شعراء میں ظفر وقار تاج، حاجی نائب خان، گلوکاروں میں جابر خان جابر، مبارک علی ساون ، اور وکلاء میں ایڈوکیٹ احسان علی کو ایوارڈ دیدیا گیا ، گلگت بلتستان کی سطح پر یہ کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے پہلا باضابطہ پروگرام یا تقریب تھی جہاں پر خدمات کا اعترافف کرتے ہوئے ایوارڈز دئے گئے ۔ اس بابت گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کے چیئرمین ولی الرحمن حامی اور ان کی پوری کابینہ کا دوران تقریب بھی شکریہ ادا کیا تھا اور اب اس کالم میں ان کی اس کاوش کا زکر کرنا ان کے خدمات کااعتراف کرنا ہے ۔ گلگت بلتستان جیسے معاشروں میں یہ معمولی بات نہیں کہ بغیر حکومتی امداد کے ایسے اقدامات کئے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments