اے وطن تونے پکارا تو لہو کھول اٹھا

اے وطن تونے پکارا تو لہو کھول اٹھا

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :فیض اللہ فراق

وطن کی محبت سے سرشار سرفروشان ملت کی داستان بہت پرانی ہے۔ مملکت پاکستان کی در و دیوار عشروں سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے خونی قربانی سے رنگین ہیں۔ 1947ء میں گلگت بلتستان کی ڈوگرہ سے آزادی کے پس منظر میں بھی وہ نظریہ کارفرما تھا جس کے تحت پاکستان کا قیام ممکن ہواتھا۔ گلگت بلتستان کا پاکستان سے غیر مشروط الحاق کے باطن میں بھی یہی نظریہ اورسوچ کا عمل دخل تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لاالہ الہ اللہ‘‘۔

1947ء کے بعد ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے کئی معرکے ہوئے ان تمام جنگوں میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی قربانی مثالی اورقابل تقلید رہی 1965کا معرکہ ہو یا 1971کی پاک بھارت کشیدگی یا 1999ء کا معرکہ کرگل ہو ان تمام جنگوں میں گلگت بلتستان کے سینکڑوں نوجوان جام شہادت نوش کر گئے۔ملک سے محبت کا عوامی شعور اس حد تک پختہ ہے کہ آج بھی اگر کوئی گلگتی یا بلتی پاکستان کے خلاف کوئی با ت کریں تو پہلے اس کے گھروالے اس کا سماجی بائیکاٹ کرتے ہیں۔ قربانیوں اور حب الو طنی کا یہ تسلسل بڑے مربوط انداز میں جاری ہے۔ جب بھی وطن نے پکارا گلگت بلتستان والے قربانی کیلئے پیش ہوئے ہیں۔ ضرب عضب کی کامیابی ہو یا بلوچستان میں اندرونی دشمنوں کی کیخلاف آپریشن ہو یہاں کے جوان صف اول کے مجاہد بنے ہیں۔ اب تو ردالفساد کی عملی تفسیر بھی گلگت بلتستان کے سپوت بن گئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی اشرف نورنے آپریشن ردالفساد میں خود کو مٹی کے حوالے کیا جو کہ عظیم قربانی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کو اس وقت بیرونی سے زیادہ اندورنی خطرات کا سامنا ہے۔ ملک کے اندرونی محاذوں پر لڑی جانیوالی جنگ نے ملک کا بہت نقصان کیا ہے ۔مٹی سے حقیقی وابستگی کی بجائے ہم قومیت ،لسانیت ،فرقہ واریت اوروطن فروشی کے ایجنڈے کو پروان چڑھا رہے ہیں،ملک کے تم اداروں میں اعلیٰ سطح کے عہدوں پر بیٹھے ہوئے زیادہ تر ذمہ دار افراد ذاتی مفادات ،مسلکی تعصب اور لسانی تقسیم کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مرکز یت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ ہم سب پاکستانی ہونے کے دعویدار ہیں مگر پاکستانیت سے عاری ہیں۔ ملک کی خدمت کے بجائے مال بنانے اور لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔آج کے جدید زمانے کا سب سے مہلک جنگ معیشت کا ہے اور یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ پاکستان میں ا فراد اور شخصیات کے پاس اتنی دولت موجود ہے جتنی ملک کے اداروں کے پاس نہیں ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ شخصیات بااثر ہیں جبکہ ادارے آئے روز کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ ملک کے سیکورٹی اداروں کا کام امن کا قیام ہے لیکن اب بڑھتی ہوئی کرپشن کی وجہ سے امن کے قیام کے ساتھ شفافیت اور احتساب کامنظم قیام بھی ناگزیر ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ردالفساد میں بھی ایسے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو دشمن طاقتوں کے آلہ کاربن کر ریاست میں فساد پھیلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

اشرف نورشہید بھی محکمہ پولیس پشاور میں فسادیوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے اور اندرونی دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر قیام امن ،انسانی وقار کی بلندی اور کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا فرض منصبی نبھارہے تھے۔ دہشت گردوں کو اشرف نورشہید کی یہ سرگرمیاں قبول نہیں تھیں اوراسے راستے سے ہٹادیا گیا۔ یوں نومبر کی ٹھٹھرتے موسم میں ملک کیلئے گلگت بلتستان کی ایک اورقربانی میں اضافہ ہوا۔ اشرف نور شہید اس عظیم روایت کے امین ٹھہرے جو کئی برسوں سے چلی آرہی ہے۔ یہ روایت قانون شکنوں سے نبرد آزمائی، دہشت گردوں کا تعاقب، ملکی سرحدوں کی پاسبانی اور ملک و قوم کیلئے خون کی قربانی ہے جسے ہم بھلانہیں سکتے۔ اشرف نور شہید کی شہادت سے چند روز قبل میجراسحاق شہید بھی اس روایت کے وارث ٹھہرے تھے۔یہ شہادت کا عظیم رتبہ ہے جو ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی اشرف نورشہید کا تعلق گلگت بلتستان کے دور دراز علاقہ سرمیک سے تھا۔بڑی محنت اورلگن سے مقابلے کا امتحان پاس کر کے پاکستان پولیس سروس جوائن کیاتھا۔ انتہائی ملنسار دلیر اور دوستانہ مزاج کے حامل شخصیت تھا۔ گلگت بلتستان کے لوگوں سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔ اشرف نورشہید کو بلتستان میں اعلیٰ سول و عسکری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور گلگت بلتستان کے تمام طبقہ فکر نے ان کی عظیم قربانی کو سلام پیش کیا ہے۔

گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں روز اول سے قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ بھارت کو گلگت بلتستان کے حوالے سے کافی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اس لئے بھارتی میڈیا گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج کو ملک دشمنی ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ گلگت بلتستان نے بہت سارے لالک جان ،اشرف نور،میجر عبدالوہاب جیسے جوان رکھا ہے جو کسی بھی وقت ہندوستان کے عزائم کو خاک میں ملا نے کیلئے کافی ہیں۔ اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے باسیوں کی ملک سے بے پناہ محبت اور بے شمار قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیڈریشن اورگلگت بلتستان میں اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کر کے ہندوستان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔