دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورتوں کو گھورنا ایک عارضہ ہے

تحریر: شمس الحق قمرؔ

میں اپنی گاڑی میں کہیں جا رہا تھا پہلو میں بیگم صاحبہ براجمان تھیں ۔ دور سے میرے  ایک جگری دوست میری گاڑی کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہا تھا ۔ ساتھ سے گزرنے سے ایک دو پل پہلے میں نے گرم جوشی سے  ہاتھ ہلا ہلا کر  آداب بجا لائے تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا  حالانہ وہ ہماری طرف توجہ سے دیکھ رہا تھا ۔ میرا ارادہ اُن کے پاس رکنے   اورحال احوال پوچھنےکا تھا  لیکن اُن کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں اُن کے پاس روکوں ۔ آگے چلتے چلتے میں نے کئی بار سوچا کہ واپس مڑ جاؤں اور اُس سے پوچھ لوں کہ آخر اس بے رخی بلکہ بد تمیزی کی وجہ کیا ہے لیکن پھر بھی مناسب نہیں سمجھا ۔

بہر حال گھر پہنچتے ہی اُسے فون کیا ۔ میرا فون اُٹھا تے ہی الٹا اُس نے مجھے بے نقط سنانا شروع کردیا ۔ جو بھی لفظ زبان پر آیا،  نہیں بخشا ۔مجھے ایک لفظ  نہ بولنے دیا۔ یہاں تک کہ میں نے اپنا فون اس ڈر سے بند کیا کہ کہیں میں بھی بکنا شروع ہو جاوں اور یوں  ہمارے بہترین  تعلقات میں آنچ آجائے!

جب میں نے اپنا فون بند کیا تو اُس نے  دوبارہ فون کیا ۔ میں نے سوچا کہ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوا ہوگا  اور اپنے تلخ روئے پر ضرور اظہار  ندامت اور اقرار جرم  بھی کرے گا ۔لیکن میرا اندازہ غلط تھا۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ اب کی بار انہوں نے انداز سخن  شائستہ اور دھیما رکھا ہوا تھا  ۔ اُن کے تما م تر گلے شکوؤں کا لب لباب یہ تھا کہ پچھلے دنوں وہ اپنی فیملی کے ساتھ کہیں جا رہے تھے اور میں عین راستے میں کھڑا  تھا ، اُن کی گاڑی کو تکتا رہا لیکن جب انہوں نے سلام کیا تو میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اُس کی خواہش تھی کہ وہ میرے پاس رکے اور حال احوال پوچھے لیکن میرے رویے کی وجہ سے وہ مجھ سے سخت ناراض ہوگیاتھا۔ عجیب اتفاق تھا۔ جو الزام میں نے اُس پر لگانا تھا وہ الزام خود مجھ ہی پر لاگو ہوگیا ۔ میں نے کہا کہ آج ہی کہیں بیٹھ کر  آمنا سامنا ہو جاتے ہیں۔ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

لہذا ہم نے اپنی نشست  طے کر لی ۔ ہماری بات چیت اور گلے شکوؤں کا دور شروع ہوا ۔ اصل کہانی یہ تھی کہ جس دن وہ اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ  میرے راہگزر  سے گزرے تھے اُس وقت  بد قسمتی سے میری تمام تر توجہ اُس گاڑی میں بیٹھی خاتون پر تھی اور میں انتے انہماک سے دیکھ رہا تھا کہ مجھے اپنے دوست کی دوسری سیٹ پر موجوگی کا مطلقاً احساس نہ ہوا۔ لہذا میں نے گاڑی چلانے والے پرکوئی توجہ نہ دی اور اپنے کام سے کام رکھتے ہوے  اُن کی شریک حیات کو مسلسل تکنے میں  کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔  اب چونکہ  اپنے اپنے دکھڑے سنانے ہم دو بدو بیٹھے تھے،  تو میں احساس ندامت کے مارے پسینے میں شرابور ہوا جا رہا تھا ۔ وہ میرے اچھے خاصے دوست تھے اور میں نے اُن کے گھر کا بہت نمک کھایا تھا۔ اب صورت حال دگر گوں تھی ۔ میرے دوست  کو  میرے ماتھے پر پھوٹنے والے پسینوں سے پیدا ہونے والے احساسات کا خوب ادراک ہو رہا تھا  ۔ کیوں کہ ہم  ہمیشہ سے ایسے موضوعات پر بات چیت کرتے رہے ہیں ۔ وہ میرے احساسات کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اپنی پیشانی پر کئی  بار  ہاتھ پھیر کر پسینے پونچھتے رہے۔ حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے میں نے  غیر ضروری سکوت  توڑنے کی غرض سے اپنی غلطی کے اعتراف میں  پہل  کی،  تو میرے دوست نے قہقہے لگاتے ہوئے کہا ’’ بھائی شاید مجھے بھی ایسی ہی  بیہودگی کا اعتراف کرنا پڑے گا جسکا تو مرتکب ہوا تھا ‘‘ ۔

 پھر ہم دونوں دیر تک ان معاملات پر غور کرتے رہے ۔ یہ معاملہ صرف ہمارے ساتھ پیش نہیں آیا تھا  بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑے  دیندار لوگ بھی اس عادت کی زد میں آتے رہے ہیں۔

غور فرمائیں تو ہماری عجیب عادتیں ہیں۔ عورت کوئی بھی ہو ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھے بغیر جانے نہیں دیتے ۔ معمول کی بات ہے کہ ہم سب مرد حضرات اپنی عادت سے مجبور راہ چلتی خواتین کے قد کاٹھ   کو جتنے غور سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں اُتنے غور اور انہماک سے ہم عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ۔ہم کسی عورت کو دیکھنے میں ایک سیکنڈ ضائع ہونے نہیں دیتے ۔ عورت سامنے سے گزرے تو ہم سارا کام ادھورا چھوڑ کے اُسے دیکھنے لگتے ہیں ۔  ہم میں سے بعض عزت دار لوگ ایسے بھی ہیں جو ہر راہ چلتی عورت کو تکنے کے علاوہ ان کے لباس اور چال چلن سیر حاصل بحث بھی فرماتے ہیں  یہی نہیں بلکہ  اپنی مردم شناسی پر ایک فخریہ اور مسرت خیز قہقہہ  بھی بلند کرتے ہیں  ۔ کہیں سے کوئی خاتوں کسی کام سے باہر نکلے تو اُن کے  قدموں کی حرکت کے ساتھ ہماری گردن کا زاویہ بھی گھڑی کی سوئیوں کی طرح موڑتی رہتی ہے یہاں تک کہ عورت نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جائے ۔ہم میں سے بہت سارے مرد ایسے ہیں جن کو اپنی گردن میں شہتیر نظر نہیں آتی۔

یہ تجربہ آپ کو تب ہوگا جب آپ کے ساتھ کوئی عورت سفر کر رہی ہو  یا کسی مارکیٹ میں ہو اور آپ نظر اُٹھا کر اس پاس کے ہجوم  کو دیکھ رہے ہوں  ۔ دیکھئے جناب آگے سے چل کرآنے والی خاتوں کو دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں  یہ ہمیں بھی سمجھ آتی ہے ،کوئی بات نہیں اگر آپ کو ضرورت محسوس ہو تو گھور گھور کر بھی دیکھ لیجئے کیوں کہ آپ کو یقین ہے کہ  یہ آپ کی بہن  نہیں ہے  ۔ لیکن آگے سے آنے والی خاتون ہمارے ساتھ سے گزرنے کے بعد بھی جب پیچھے مڑ کر  مفصل حدود اربعہ معلوم کرنے کی کوشش میں محو ہوکر ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور یکایک  کسی گندی نالی میں گر  کر بھی ہمیں  احساس زیاں نہیں ہوتا ہے تو شاید ہمیں اپنے آپ کو انسانوں کی صف میں ایستادہ  گمان کرنے کی مزید حماقت سے دور رہنے پر سوچنا ہوگا ۔

حد یہ کہ اگر کوئی بہادر بچی کسی بد نظر  بھیڑئے کو بھری محفل میں  ٹوک بھی لے تو بھی یہ عادت نہیں چھوٹتی ۔ مجھے معلوم ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد بہت سوں کو غصہ آئے گا اور میرے تجربات پر روشنی بھی ڈالیں گے ۔ اور بہت سارے ایسے ہوں گے جوکہ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تاہم اس بات پر آپ سب مجھ سے اتفاق کریں گے یہ عادت ہمارے معاشرے کا ایک لاعلاج عارضہ بن چکا ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments