ہنزہ کو سازش کے تحت نظر انداز کیا جارہا ہے، ترقیاتی عمل منجمد ہو چکاہے، آصف سخی رہنما عوامی ورکرز پارٹی

ہنزہ (پ ر) عوامی ورکز پارٹی ہنزہ گلگت بلتستان کے نوجوان رہنماء سخی آصف نے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ضلع ہنزہ جو جغرافیاتی اعتبار سے پورے خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے, کو دور حاضر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نظر انداز کیاجارہا ہے. پورا ضلع اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ادوار سے ترقیاتی کام منجمد ہو چکا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت سمیت تمام مفاد پرست سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں پر عائد ہوتی ہے. تمام غیر مقامی سرمایہ دار پارٹیوں کے لوکل ایجنٹس الیکشن کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر آتے ہیں. اور پھر تتیجہ جو بھی ہو الیکشن کے بعد ہنزہ میں کوئی نہیں رہتا, سب اسلام آباد چلے جاتے ہیں. ان کی ترجیحات منافع ہوتا ہے نہ کہ عوامی مسائل.

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان ایک غیر آئینی علاقہ ہونے کے باجود سوست پورٹ پر حکومتی سرپرستی میں جابرانہ ٹیکس اور کسٹم حکام کی جانب سےعدلیہ گلگت بلتستان کے عدالتی احکامات کو نہ ماننا خطے کے ساتھ ناانصافی ہے مقامی تاجروں سمیت عوامی نمائندہ جاوید حسین پر انسداد دہشت گردی ایکٹ لگانا قابل مذمت ہے جبکہ ضلع ہنزہ سی پیک کا گیٹ وے ہونے کے باجود وفاقی و مقامی حکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے مقامی تاجروں اور کسٹم حکام کے درمیان تناو کی وجہ سے اس روٹ پر منسلک دس ہزار افراد معاشی بحران کا شکار ہیں ۔ دوسری جانب یہاں کے قدرتی وسائل کو جابرانہ انداز میں قابض ہونے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جس کی پارٹی بھر پور مزمت کرتی ہے انہوں نے حکومت کو انتباہ کر تے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے ناصر آبادسمیت گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں موجود قدرتی وسائل کو غیر مقامی افراد یا عوامی مفاد کے برعکس و روندنے کی کوشش کی تو عوامی ورکرز پارٹی کے تمام کارکنان عوامی مفاد کی خاطر ہر محاز پر اس کی دفاع کریں گے.

انہوں نے حصول اقتدار کی خاطر ہنزہ کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو تقسیم کرنے کی گھناونی سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے نوجوانوں کو اتحاد و اتفاق کی تلقین کی.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments