گلگت بلتستان کے موجود نظام میں منتخب نمائندہ ڈیلیور نہیں‌کرسکتا، نواز‌خان ناجی

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ترقیاتی کاموں میں حلقے کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی،وزیراعلیٰ نے دورہ چٹورکھنڈ کے دوران سول ہسپتال چٹورکھنڈ کو بیس بیڈ بنانے کا اعلان کیا بعد میں مکر گئے،میں نے اسمبلی فلور پہ اے ڈی پی کی کاپی پھاڑ کے احتجاج کیا،اشکومن سب ڈویژن کا قیام اولین ترجیح ہے،2010کے بعد علاقے میں کافی ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ممبر قانون ساز اسمبلی غذر حلقہ 1نواز خان ناجی نے مقامی ہوٹل میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی بی لیول پہ علاقے کے عوام کے ساتھ ظلم ہورہا ہے،بحثیت اپوزیشن ممبر عوام کے مسائل سے پہلو تہی نہیں کررہا ،پورے نظام کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ منتخب ممبر عوامی خواہشات کے مطابق ڈیلیور نہیں کرسکتا اس لئے اس نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں۔عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا میری اولین ترجیح ہے،حزب اختلاف میں رہتے ہوئے بھی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے حلقے کے عوام سے زیادتی ہونے نہیں دی ہے،دیگر حلقوں میں جتنا کام ہوا ہے اس حلقے میں بھی اسی تناسب سے کام ہورہے ہیں۔2010کے بعدایجوکیشن،پاور اور ہیلتھ کے شعبے میں حلقے میں کافی کام ہوئے ہیں،سلپی تا گشگش روڈ کی مرمت،بورتھ تک ٹرک ایبل روڈ ،مترم دان تا بوق سڑک کی تعمیر کا منصوبہ پائپ لائن میں ہیں جبکہ پاور سیکٹر میں اشکومن پاور ہاؤس فیز ٹو،اسمبر 500کے وی پاور ہاؤس پر کام تیزی سے جاری ہے اور برگل پاور ہاؤس فیز ٹو پر بھی عنقریب کام کا آغاز کیا جارہا ہے،اس کے علاوہ چٹورکھنڈ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول اور بلہنز سکول کو ہائی کا درجہ دیا گیا ہے۔قبل ازیں اشکومن بھر کے پارٹی نمائندوں اور کارکنوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل پیش کئے جس پر علاقے کے بنیادی مسائل کو قرارداد کی شکل دی گئی جس کے مطابق اشکومن سب ڈویژن کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا جس کے لئے عوام علاقہ مل کر جدوجہد کریں گے،گاؤں برگل ،فمانی اور ہاسس کی حد بندی ،چٹورکھنڈ واٹر سپلائی سکیم اور محکمہ صحت سمیت دیگر سرکاری محکموں میں علاقے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں اعلٰی حکام کو آگاہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments