اتفاق سے

اتفاق کی بات ہے کہ تقریباً13 ارب 70 کروڑ سال قبل یہ کائنات ایک دھماکے سے ظہور پزیر ہوا جسے انفجارِعظیم یعنی Big Bang کہا جاتا ہے انفجار کے معنی دھماکے کے ہیں اور عظیم انتہائی بڑے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے گويا عام الفاظ میں ہم اس کو، بڑا دھماکا یا ذبردست دھماکا کہہ سکتے ہیں۔

پھر اتفاق کی بات ہے کہ اُس عظیم دھماکے کے ایک ارب سال بعد دھماکے کا مواد مختلف مراحل سے گزارتےہوئےکہکشائیں (Galaxies) بنانے لگی۔ صرف ہماری کہکشاں میں 200 ارب ستارے ہیں اور ہمارے نزدیک ترین پڑوسی کہکشاں دس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ پھر اتفاق دیکھیں کہ ان ان ستاروں میں سے ایک ستارا ہمارا سورج کا بھی ظہور ہوا اور اتفاق سے اس کے ارگرد مختلف سیارے گردش کرنے لگے کوئی سیارا دور تھا اور کوئی سیارا نزدیک جو زیادہ نزدیک یا دور ہیں ان پہ سردی یا گرمی کی وجہ سے زندگی نہیں پنپ سکتی تھی پھر اتفاق سے زمین کئی سالوں کے بعد زندگی کے لیے موزوں ہوگئی… اتفاق سے اس زمین نامی سیارے پر کیمیائی طور پر یہ ایک ایٹم آکسیجن اور دو ایٹم ہائیڈروجن نے مل کر ایک سازش کے تحت بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مائع بنا لیا جسے ہم پانی کہتے ہیں کیونکہ یہ اس سیارے پر زندگی کے لیے بہت ضروری تھی پھر اتفاق دیکھیں کہ اس پانی نے کرۂ ارض کے ٪70.9 حصّے کو گھیر لیا… اتفاق سے اسی پانی کے اندرزندگی کی ابتداء تقریباً تین ارب اسی کروڑ سال پہلے ہوا اتفاق سے حیوانات اور نباتات کی علیحدگی تقریباً ایک ارب سال پہلے ہوئی اتفاق سے تقریباً پچاس کروڑ سال پہلے زندگی سمندر سے زمین پر آئی۔ پھر اتفاق سے زمین پر ایک عظیم دھماکہ ہوا اور کافی سارے حیوانات کا خاتمہ ہوا مگر ایک بندر بچ گیا ایک دن اس نے خوبصورت بندریا دیکھی اتفاق سے اس کے ذہن میں گندے گندے خیال آنے لگے اور اتفاق سے اس حادثے کے بعد بندروں کی افزائش نسل شروع ہوگئی اور ہزاروں سالوں میں شکل اور جسم مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے حضرت انسان ظہور پذیر ہوا… اتفاق سے….

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments