یاسین میں‌کھلی کچہری:‌اسسٹنٹ کمشنر 12 بجے دفتر آتا ہے، عوام کی شکایت

یاسین (معراج علی عباسی ) ڈپٹی کمشنرغذر دلدار احمد ملک نے ممبرقانو ن ساز اسمبلی راجہ جہانذیب اور غذر کے تمام محکموں کے سربراہان ہمراہ یاسین ریسٹ ہاوس میں کھلی کچہری لگاکر عوم کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی ۔

ڈی سی غذر کے جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں یاسین کے عوام نے مختلف محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگادیے ۔ڈی سی غذر نے عوامی شکایات پر مختلف محکموں کے سربراہان سے موقع پر وضاحت طلب کی۔اور احکامات جاری کئے ۔ عوام کی جانب سے محکمہ برقیات غذر ،ایل جی اینڈآرڈی غذر ،محکمہ تعمیرات عامہ غذر،گورنمنٹ انٹرکالج طاوس کے علاوہ ادارں کے ناقص کارکردگی کے خلاف شکایات بیان ہوئیں۔

یاسین کے معروف سماجی و سیاسی شخصیت محمد مدد شاہ نے کھلی کچہری دوران محکمہ برقیات غذر کی جانب سے سیلی پاورہاوس میں ہونے والے مبینہ کرپشن کا ذکرتے ہوئے کہا کہ سیلی پاورہاوس کے واٹرچینل کی تعمیر میں مجموعی طور پر 11کروڑ کی کرپشن ہوئی ہے ۔ ایک ٹھیکدار نے سات دن کام کرکے 8کروڑ روپے ہڈپ لیا۔ پاور ہاوس کے چینل میں کام کئے بغیر ہی 11 کروڑ روپوں کا خرد بُرد ہوا۔ محکمہ برقیات غذر نے گیارہ کروڑ روپے بھل صفائی کے نام پر غائب کیا۔ سیلی ھرنگ پاور ہاوس میں ہونے والے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لئے چیف سیکرٹری نے کمیشن تشکیل دیا تھا مگر تاحال کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے ۔

پیار علی نے کہا کہ محکمہ تعمیرات کی غفلت سے یاسین میں 2007میں شروغ ہونے والے پراجیکٹ اپ تک نامکمل ہیں۔ 2007 میں گاوں برکوت کو ملانے والے پل کے لیے سرکاری خزانے سے رقم ریلز ہونے کے باوجود پل کاکام گزشتہ دس سالوں سے نامکمل ہے جس باعث تین سو گھرانوں پر مشتمل گاوں برکوت کے مکین بری طرح پھنس گئے ہیں ۔

ریٹایڑصبدار محمدوزیرنے کہا کہ ایل جی اینڈآرڈی کے تحت ملنے والی بجٹ کو محکمہ والے اپنے من پسندافراد میں تقسیم کرتے ہے۔اس فنڈ سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔عوام نے گورنمنٹ انٹرکالج طاوس کے طلباء سے بھاری فیس لینے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انٹرکالج طاو س گورنمنٹ کا ہے تو فیس کیوں لیا جاررہا ہے اگر یہ کوئی پرائیویٹ ادارہ ہے تو گورنمنٹ کالج کا نام دیکر عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ بند ہونا چائے ۔

ڈی سی غذر نے عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جن ایشوز پر آج بات ہوئی ہے ان تمام مسائل کو حل کے لیے بھرپور اقدمات کرینگے ۔جو مسائل ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ان کے حل کے لیے حکام بالا سے رابطہ کرینگے ۔

ممبرقانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان راجہ جہانذیب نے کہا کہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان موجود گیپ کے باعث مسائل کے نشاندہی اور مسائل کو حل کرنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ ڈی سی غذر تک ہر آدمی کا پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ انتظامیہ اس قسم کی کھلی کچہری لگاکر عوامی مسائل حل کرے۔

 کھلی کچہری کے دوران ائی ایس ایف سب ڈویژن یاسین کے صدر خلیفہ محمد ظفرخان نے اسسٹنٹ کمشنریاسین عمران علی کی موجودگی میں ڈی سی غذر سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اے سی یاسین دن12بجے دفترآتے ہیں، جس باعث یاسین کے دورافتادہ علاقوں سے آئے ہوئے سائلین اے سی یاسین کے دفترکے باہر خوار پھرتے نظرآتے ۔اے سی یاسین کو پابندکیا جائے کہ وہ ڈیوٹی ٹائم پر اپنے دفترآیا کرے ۔

شکایت سُن کر ڈی سی غذر خاموش ہوگئے ۔حالانکہ دیگر محکموں کے خلاف شکایت کرنے پر متعلقہ محکمے کے زمہ دار آفیسرکو عوام کے سامنے کھڑا کرکے جواب طلب کرتا رہا۔

یاسین میں منعقدہ کھلی کچہری کے اختتام پر سب ڈویژن یاسین انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کے اعزاز میں دی جانے والی ٹی پارٹی کے دوران ڈی سی غذر اور اے سی یاسین الگ کمرے میں بیٹھ گئے، جس پرکھلی کچہری میں شامل دیگرمحکموں سے آئے ہوئے افسروں نے  مائنڈ کرتے ہوئے ڈی سی غذر اور میزبان اے سی یاسین کی دبے الفاظ میں شکایت کی ۔

ممبرقانون ساز سمبلی راجہ جہانزیب نے مقامی افسروں کی ناراضگی کو جانچتے ہوئے مقامی افیسران کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی۔ بیشترمحکموں کے سربراہان ٹی پارٹی میں شامل ہوئے بغیرچلے گئے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments