قومی نوحہ

رشیدارشد

۔ اللہ غریق رحمت کرے میرے مرحوم والد کو انہوں نے ہمیشہ سے یہ نصیحت کی کہ بیٹا۔

کم کھاو غم نہ کھاو۔۔

۔سو معرکے سر کرنے سے بہتر ہے ایک اعتبار قائم کرو۔

اور ہمیشہ اچھے اور نیک راستے پر چلو اور برائی سے بچو۔

مظلوم بنو لیکن ظالم نہ بنو۔

بھوکھے رہو لیکن حرام کے لقمے کے پیچھے نہ بھاگو۔۔۔

ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دو اور ظالم کو للکارو۔۔۔۔۔۔

والد کی ان نصیحتوں پر میں نے پوری زندگی کوشش کی کہ عمل کروں اوراپنے آپ کو ایک اچھا انسان بناوں اس میں کس حد تک کامیاب رہا اس کا مجھے اندازہ نہیں۔ والد کی ان نصیحتوں کواپنی اولاد میں منتقل کرنے کی سعی کچھ عرصہ قبل تک کر رہا تھا لیکن میرے ملک میں (انصاف) اور تحریک انصاف کے نئے زاویئے دیکھنے کے بعد اس شش و پنچ میں چکر کاٹ رہا ہوں کہ میں والد کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئےئے ا پنی اولاد کو عالم بناوں۔پروفیسر بناوں۔ڈاکٹر قدیر ں بناوں۔شو کت صدیقی بناوں۔معراج خالد بناوں۔ایدھی بناوں۔مفتی تقی عثمانی بناوں۔طارق جمیل بناوںیا پرویز مشرف کی طرح ڈیکٹیٹر بناوں یا رااو انوار کی طرح شاہی اور چہیتامجرم بناوںیافواد چوھدری کی طرح دروغ گو بناوں۔۔۔۔۔

میں تو والد کی نصیحت پر چلتے ہوئے اپنی اولاد کو ڈاکٹر قدیر۔۔۔ایدھی۔۔۔۔یا طارق جمیل اور مفتی تقی عثمانی کی طرح عالم بنانے کے راستے پر چل پڑا تھا لیکن ڈاکٹر قدیر کے یہ الفاظ میرے دماغ پر ہتھوڑے بن کر برس پڑے۔۔۔۔

سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب اس قوم کے جوانوں کے لئے کوئی پیغام۔

ڈاکٹر قدیر فٹ پاتھ پر ٹوٹے پھوٹے چپل پہنے تشریف فرما ہیں ،،سہیل وڑائچ کے سوال پر سر جھکا لیتے ہیں ایک منٹ کی خاموشی چھا جاتی ہے۔۔۔پھر سر اٹھاتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں پانی صاف نظر آتا ہے اور ایک آہ بھر کر کہتے ہیں۔۔۔۔قوم کے نوجوانوں کے لئے میرا پیغام ہے کہ۔۔۔۔اس قوم کے لئے کوئی کارنامہ انجام نہ دینا۔۔۔۔۔۔

یہ الفاظ سن کر میں۔لرز گیا۔۔۔یہ ایک جملہ۔نہیں ہماری قومی اور سیاسی زندگی کا نوحہ ہے۔۔۔۔

اس ایک جملے نے مجھے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا طالب علم بننے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی شروع کی تو قومی سیاست کے ہر صفحے سے وقت کے بہرو پیوں،مفاد پرستوں اور ظالموں کے سیاہ کرتوتوں کی بد بو آنے۔لگی۔۔۔۔

بانی پاکستان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔۔۔۔فاطمہ جناح کے ساتھ کس قدر تحقیر آمیز سلوک ہوا۔۔۔۔حسین شہید سہروری کس حال میں رخصت ہوئے۔ایوب خان کس شان و شوکت کے ساتھ میرے عزیز ہم وطنوں کی گرجدار آواز کے ساتھ نمودار ہوئے۔۔۔۔۔اور اسی آواز کے ساتھ جنرل یحیی آئے اور شراب و کباب کی مستیوں میں مست ہو کر بنگلہ دیش گنوا گئے۔۔۔۔

پھر اس بکھرے اور منتشر پاکستان کو یکجا کرنے بھٹو آگے بڑھے تو۔۔۔۔پھر آواز آئی۔۔۔میرے عزیز ہم وطنوں۔۔۔۔ایک اور ڈیکٹیٹر امیر المو منین بن کر تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ مسلط ہوئے۔۔۔۔۔۔اسی امیر المومنین نے بھٹو کو عالمی استعمار کے اشارے پر نشان عبرت بنانا چاہا۔۔۔۔۔پھر ایک ایسا موڑ آیا جو بھٹو کو گھڑھی خدا بخش کی مٹی میں چھوڑ آیا۔۔۔۔۔

کہانی یہاں رکتی نہیں ہے آگے چل رہی ہے۔۔۔۔بھٹو کی بیٹی آگے بڑھی اسے بھی کچھ عرصے کے بعد(وسیع تر قومی مفاد)میں سیاست سے بے دخل کرنے کی۔کوشش ہوئی۔۔۔۔نواز شریف آئے۔۔۔۔پھر بینظیر آئیں۔۔۔پھر نواز شریف آئے۔۔۔۔ایٹمی دھماکے ہوئے موٹروے بنی۔ملکی معیشت درست سمت پر چل پڑی۔۔۔۔اچانک ایک دفعہ پھر سے اچانک (وسیع تر قومی مفاد)آگیا۔۔۔۔اور آواز آئی۔۔۔۔میرے عزیز ہم وطنوں۔۔۔۔۔مشرف احتساب کا نعرہ مستانہ بلند کر کے قوم کے مسیحا بننے کی راہ پرچل پڑے۔۔۔۔۔مشرف کے دور میں۔۔۔وسیع تر قومی مفاد پر بہت کام ہوا اور اسی مفاد کے تناظر میں غیر ملکی جنگ اور دہشت گردی سے ملک اور قوم کی خوب خدمت کی گئی۔۔۔۔ اسی خدمت کے شور میں ہم نے دختر مشرق بے نظیر بھٹو کو بھی گھڑی خدا بخش کا مکین بنادیا ۔۔۔

مشرف کورخصت کیا تو قوم نے سوچا کہ اب شایدعزیز ہم وطنوں کی آوا سننے کو نہیں ملے گی۔بظاہر ایسا ہی لگا پانچ برس زرداری نے پورے کئے۔۔پھر نواز شریف آئے سی پیک۔موٹرویز۔۔۔بجلی۔امن اور معاشی استحکام آیا۔۔۔۔

ہماری سیاسی تاریخ میں بھٹو اور نواز شریف کے اقدامات ہی جرم تصور ہوتے ہیں اس لئے انہیں بھی (وسیع تر قومی مفاد )میں نشان عبرت بنانے پر کام شروع ہوا۔۔۔۔اور صاف چلی شفاف چلی کے شور میں نئے سیاسی مسخرے ملک پر براجمان کرا دیئے گئے۔۔۔۔آخری خبریں آنے تک ہر طرف عوام مہنگائی اور گھر گرائے جانے کا جشن منا کر حکومت کو دعاوں میں یاد کر رہے ہیں۔۔۔۔ملکی خزانہ لبا لب بھرا ہوا ہے۔۔بس زرا دل لگی کے لئے آئی ایم ایف سے مزاکرات جاری ہیں۔۔۔

ہاں یاد آیا اس عرصے میں مشرف پرقوم کی اعلی خدمت اور آئین کی نوک پلک درست کرنے کے

( اعزاز) میں۔۔ارٹیکل6 کے تحت مقدمہ بھی درج ہوا تاکہ مشرف صاحب کو بیرون ملک آرام کرنے کا موقعہ دیا جائے ا وراب ایک دفعہ پھر اعلی عدالت نے مشرف کی( اعلی خدمات )کے عوض انہیں پورے وقار کے ساتھ ملک میں واپس بلایا ہے۔۔۔۔

اسی طرح راؤ انوار کو بھی قومی خدمت کے عوض پر وقار طریقے سے جیل اور اعلی عدالتوں کی سیر کرائی گئی۔۔۔۔۔جبکہ حال ہی میں نواز شریف،مریم نواز،شہباز شریف۔۔کو جیل کی سلاخوں سے لے کر عدالتوں تک اس لئے گھسیٹا گیا کہ ہماری سیاسی تاریخ کے مطابق انہوں نے قوم کی خدمت نہیں بلکہ جرائم کئے ہیں۔ اسی دوران خبر آئی ہے کہ یونیورسٹی کے پروفیسروں کو بھی ان کی تعلیمی خدمات کے عوض ہتھکڑیوں اور جیل کے انعام سے نوازا گیا۔۔۔۔شوکت صدیقی کو بھی عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کیا گیا۔

اس تمام صورتحال کے بعد نتیجہ تو یہ نکلا کہ ہماری قومی تاریخ کہ ہیرو۔۔۔فاطمہ جناح۔۔۔حسین شہید سہروردی۔بھٹو۔نواز شریف۔ڈاکٹر قدیر اور ایدھی نہیں بلکہ ایوب خان، یحیے،مشرف اور راو انوار ہیں ۔ ایسے میں آپ ہی فیصلہ کریں کہ میں اپنے بچوں کو ڈاکٹر قدیر،بھٹو،نواز شریف اور ایدھی بننے کی تربیت دوں یا مشرف اور راو انوار بننے کی؟؟؟؟؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments