مہراکہ اورچترال پریس کلب

چترال پریس کلب کے سہ ما ہی پر وگرام مہراکہ میں ضلع نا ظم حا جی مغفرت شاہ مہمان خصوصی تھے یہاں مہمان خصو صی کا مطلب واحد مہمان یا مہمان مقر ہو تا ہے وہ اپنے تجربے کی رو سے تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کر تا ہے مو ضو ع کوئی نہیں ہو تا مہمان خصو صی خود مو ضو ع ہو تاہے اس پر و گرام میں سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین ، سابق ایم پی اے سلیم خان ، سابق ایم پی اے سید سر دار حسین ، سابقہ ایم پی اے بی بی فو زیہ ، سابق ڈپٹی اکا ونٹنٹ جنرل غلام انبیاء ، پراجیکٹ ڈائیرکٹر چترال یو نیورسٹی پر وفیسر ڈاکٹر باد شاہ منیر بخا ری ،ونگ کما نڈر (ر) فر داد علی شاہ اور دیگر اپنے تجربات پر مبنی گفتگو کر چکے ہیں گفتگو کے بعد سوال و جواب کی نشست ہو تی ہے سا معین تیکھے سوالات پوچھتے ہیں اور مہمان مقرر جواب دیتا ہے مہمان خصو صی کے آنے سے پہلے پریس کلب کے لان میں مہراکہ کی تا ریخ پر بات ہورہی تھی کسی نے کہا یہ تر کی زبان کا لفظ ہے کسی نے کہا یہ عر بی زبان کا لفظ ہے اور “محّرکہ “ہے اتفاق اس پر ہو اکہ یہ پشتو زبان کا لفظ ہے اصل میں “مر کہ “یعنی گپ شپ ہے چترال کے سابق مہتر نے اپنی مجلس کو مہراکہ کا نام دیا سابق وائسرائے لارڈ کر زن نے وائسرائے بننے سے پہلے 1890ء میں برٹش پار لیمنٹ کے ممبر کی حیثیت سے چترال کا دورہ کیا ، امان الملک کے مہراکہ میں بیٹھا مجلس کے آداب اور مجلس کی گفتگوکا جا ئزہ لیا تو اپنی کتاب میں اس کو برٹش پارلیمنٹ سے مشا بہ قرار دیا پرو فیسر ممتاز حسین نے چترال کی تاریخ و ثقا فت پر ویب سائیٹ جاری کیا تو اس کا نام اس منا سبت سے مہراکہ رکھا شہزادہ فہام عزیز نے ریسٹ ہا ؤس بنا یا تو تاریخی اعتبار سے اس کا نام بھی مہراکہ رکھ دیا چترال پریس کلب نے اہم شخصیات کے تجربات سے فائدہ اٹھا نے کے لئے سہ ما ہی پر وگرام شروع کیا تو اس کا نام بھی مہراکہ ہی رکھ دیا 1960سے1980تک ریڈیو پا کستان پشاور کے ایک مقبول پشتو پر وگرام کا نام بھی مر کہ تھا جس میں شاہ پسند خان اور پا ئیندہ خان حا لا ت حا ضرہ پر بہت پر معز گفتگو کر تے تھے پریس کلب کے بھر ے پْرے ہال میں سا معین کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کر تے ہوئے حا جی مغفرت شاہ نے تین امور پر اظہار خیال کیا لو کل گورنمٹ سسٹم اور اس کا مستقبل ، دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اور چترال آخر میں غیر سر کاری تنظیموں اور عطیہ دہندہ گان کا کر دار ، انہوں نے کہا کہ میں 2005سے 2009تک ضلع نا ظم رہا پھر 2015میں دوبارہ منتخب ہوا جنرل مشرف کا لو کل گورنمنٹ سسٹم مو جودہ سسٹم سے بہتر تھا اس میں منتخب نمائیندوں کے پاس وسا ئل بھی تھے اور اختیارات بھی تھے ضلعی حکومت کے 11محکمے ضلع نا ظم کے ما تحت تھے مو جو دہ سسٹم میں اختیا رات صو بائی حکو مت کے پا س ہیں لو کل گورنمنٹ میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے پا س نہ وسائل ہیں نہ اختیارات ہیں مئی 2015ء میں انتخا بات ہونے سے پہلے وسیع تر اختیارات اور وسائل کے خواب دکھائے گئے تھے اس لئے سابق بیو رو کریٹ ، سابق ایم پی اے ، سابق نا ظمین اور تجربہ کار لو گ منتخب ہو کر آگئے ایک سال کے اندر تما م وسا ئل اور اختیارات واپس لے کر ان کو بے دست و پا کر دیا گیا مستقبل میں کوئی بھی تجربہ کار سیا سی کار کن دو بارہ اس سسٹم میں آنا پسند نہیں کر ے گا متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چترال میں عملاً دو جما عتوں کا اتحاد ہے جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور جما عت اسلامی اس اتحاد میں شا مل ہیں جب ملکی سطح پر اتحا د ٹوٹ گیا تھا تب بھی چترال کی سطح پر ہم نے اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا آئیندہ بھی چترال کی حساس حیثیت اور یہاں کے مخصوص حا لات کو سامنے رکھ کر اتحاد کو قا ئم رکھا جائے گا یہ وقت کا تقا ضا بھی ہے اور قوم کی ضرورت بھی ہے غیر سر کاری تنظیموں کا ذکر آیا تو اردو کے شاعر کا مشہور شعر یا د آیا ؂

ذکر چھڑ گیا جب قیا مت کا
بات پہنچی تیری جوانی تک

سوال یہ تھا کہ غیر سر کاری تنظیموں کو آپ سے بہت شکا یتیں ہیں اور عوام کو بھی کئی شکا یتیں ہیں ان کی کیا وجو ہا ت ہیں حا جی مغفرت شاہ نے کہا کہ بات سیدھی ہے غیر سر کاری تنظیمیں (این جی اوز )نے عوام کی غر بت ، ان کے پھٹے پرانے کپڑوں ، ان کے مخدوش گھروں اور دیہات کی پسماندگی کو تصویروں میں محفوظ کر کے بیرونی دنیا سے غریبوں کے نام پر وسائل پیدا کیا ہے یہ وسائل غریبوں پر خرچ ہو نے چاہیں جب ان وسائل کا 5فیصدبھی غریبوں کو نہیں ملتا تو مسلہ پید اہو جا تا ہے عوا می نما ئیندے غریبوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں وہ غریبوں کے حقوق اور مسائل کی بات کر تے ہیں تو این جی اوز کو برا لگتا ہے فنڈز کے آڈٹ کی بات کر تے ہیں تو ان کو برا لگتا ہے

“جان کہہ کر جو پکا را تو برا مان گئے ” دوسرا مسلہ یہ ہے کہ بعض این جی اوز اجارہ داری اور منا پلی قائم کر نا چا ہتی ہیں علا قے میں کام کرنے والے دوسرے این جی اوز کو کام کرنے نہیں دیتے با ہر سے آنے والے نئے این جی اوز کو علاقے میں داخل ہو نے نہیں دیتے منتخب نمائیندے اس اجا رہ داری اور منا پْلی کو توڑ نا چاہتے ہیں سب کو مساوی حیثیت دینا چا ہتے ہیں سب کو یکساں مو اقع فراہم کر نا چا ہتے ہیں یہ بھی ایک مسلہ ہے آنے والے دنوں میں این جی اوز کو اپنا مو جو دہ کلچر بدلنا ہو گا عوامی توقعات کے مطا بق کام کر نا ہو گا اگر ایسا کرینگی تو کوئی مسلہ نہیں ہو گایہ کہہ کر انہوں نے دریا کو گو یا کوزے میں بند کر دیا مہمان مقرر کی گفتگو کے بعد سنیئرصحا فی محکم الدین نے گفتگو کا خلا صہ پیش کیا پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے مہمان خصو صی اور شر کائے مخفل کا شکریہ ادا کیا چترال پریس کلب کا مہراکہ مو جودہ دور میں تازہ ہو اکا جھونکا ہے جسے چلتے رہنا چاہیئے بقول علا مہ ا قبال ؂

افکار تازہ سے ہے جہان تازہ کی نمود

کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments