محکمہ تعمیرات عامہ اور برقیات میں‌رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں‌ہوتا، غلام محمد صوبائی مشیر خوراک

غذر(بیورو رپورٹ) صوبائی مشیر خوراک گلگت بلتستان غلام محمد نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ اور محکمہ برقیات میں رشوت دئے بغیر بہت سارے کام مکمل نہیں ہوتے ۔ ایک طرف ٹھیکیدار کم ریٹس دیکر اپنا نقصان کر رہے ہیں تو دوسری طرف مختلف فائلوں کو آگے بڑھانے کے لئے سرکاری ملازمین سے لٹ رہے ہیں ۔ ایک طرف ٹھیکیدار برادری کواپریٹیو بنک کے ظلم و ستم کا شکار ہوجاتے ہیں جب تک سرکاری محکمہ جات کوئی جامع طریقہ کار نہیں بنایا جاتا ۔ صورتحا ل کے بہتر ہونے کے امکانات بے حد کم ہیں پیسے دیکر فائل آگے بڑھانے کی روایت ہر حال میں ختم کرنی ہوگی ۔کے پی کے میں ڈومیسائل کے حصول کے لئے پانچ دن کو وقت مقرر ہے اگر پانچ دن سے ایک بھی دن زیادہ ہوجائے تو متعلقہ آفیسرسائل کو جرمانہ ادا کرتا ہے اور اب کے پی کے میں پانچ دن سے پہلے ہی ڈومیسائل بن جاتا ہے بلکل اسی طرح ٹی ایس کے لئے فائل دو دن سے زیادہ لٹکی نہ رہے تو ٹھیکیداروں کو بھی دربدر نہیں ہونا پڑیگا اور ترقیاتی کاموں کے معیار پر بھی کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ اب ایکسین کو ایک کروڑ اور ایس ای کو تین کروڑ تک کے منصوبوں کا ٹی ایس کرنے کا اختیار مل گیا ۔ اب ٹھیکیداروں کو تین کروڑ تک کے کاموں میں دربدر ہونے کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ضلع غذر کی تعمیر و ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے ۔ اس وقت 2 ارب کے منصوبے پائپ لائن میں موجود ہیں جن کی تکمیل سے علاقے میں ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا ۔ ٹھیکیداروں نے ٹینڈرز میں مقابلے کی دوڑ لگا کر اپنے لئے ہی مسائل پیدا کئے ہیں کنٹریکٹر ایسوسی ایشن فعال ہوکر ٹھیکیداروں کے مفادات کا تحفظ کرے اچھے نرخوں پر ٹھیکے لیں اور کام کی تکمیل میں تاخیر سے گریز کریں سابقہ کنٹریکٹر ایسوسی ایشن زیادہ فعال نہیں تھی جس باعث مسائل نے جنم لیا ۔ پیپرا کے آنے کے بعد کسی کو بھی ٹینڈرز میں من مانی کرنے کا امکان نہیں رہتا ۔ جن آفیسران نے کرپشن کرنے کی کوشش کی وہ آج سونی کوٹ جیل میں قید ہیں اور دوسروں کے لئے عبرت کا مثال بن گئے ہیں انہوں نے کہا کہ 2010 سے ٹھیکیداروں کے جو بقایا جات تھے ان کی ادائیگی کی جارہی ہے 15 ارب کے بقایا جات اداکرچکے ہیں جبکہ باقی سوا ارب روپے کے بقایہ جات کی ادائیگی بھی ممکن بنائیں گے ۔ ہم ترقیاتی منصوبوں میں سابق حکومت کے گند کو صاف کرر ہے ہیں اور بڑی حد تک نظام میں بہتری لانے اور شفافیت یقینی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments