کربلا کا درس یہ ہے کہ ظالم حکومت کے سامنے جھک کر زندہ رہنے سے عزت کی موت بہتر ہے، پروفیسر محمد بشیر مدنی کا شگر میں‌اجتماع سے خطاب

شگر( عابدشگری) اہلسنت عالم دین پروفیسر محمد بشیر انجم مدنی آف لاہو ر نے کہا ہے کہ امام حسین مسلمانوں کے لئے چراغ ہدایت اور نجات کی کشتی ہے جس میں جو سوار ہوگا وہ فلاح پائے گا اور جس نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی گمراہی اس کا مقدر بنے گا امام بارگاہ غضوا پا میں منعقدہ یوم حسین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلتستان کی سرزمین کو اہلبیت کی سر ززمین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہاں کی اتحاد بین المسلمین دیگر علاقوں کے لے لئے متاثر ہے بلتستان خصوصا شگر کے عوام میں پائی جانے والی مذہبی اتحاد نے مجھے بہت متاثر کیا میں دنیا جہاں کا دورہ کرچکا ہوں مگر یہاں پ]ائی جانے والی روسم رواج اور مذہبی رواداری دنیا کے کسی کونے میں میں نے نہیں پایا انہوں نے کہا کہ میدان کربلا میں امام عالی مقام نے پیغمبر اکرم کی جبکہ عباس باوفا نے مولائے کائینات حضرت علی ابن ابی طالب کی نمائندگی کی انہوں نے کہا کہ دین محمد کو بچانے کے لئے امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر باطل قوتوں کے سامنے نہیں جھکا اور ہمیں بھی درس کربلا سے یہی درس ملتا ہے کہ ظالم حکومت کے سامنے جھک کر زندہ رہنے سے عزت کی موت بہتر ہے پروفیسر بشیر انجم مدنی نے کہا کہ امام حسین کی زات تمام عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے اور اس وقت افکار وکردار حسین کو عام کرنے کی ضرورت ہے ا یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین آغا حیدر علی موسوی ،مسلک نوربخشیہ کے معرو ف عالم دین علامہ محسن علی ساقی ، سید محمد عراقی اور نوجوان مقرر سید محسن الموسوی نے کہا کہ امام حسین محسن انسایت ہے اور امام عالی مقام نے اپنا سب کچھ اسلام پر قربان کرکے دین محمدی کو بچایا انہوں نے کہا کہ دین محمدی کی بقاء امام عالی مقام نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے مقررین نے کہا کہ ہمیں اسوہ شبیری پر عمل پیرا ہو کر اغیار کے سازشوں کے خلاف دیوار بننا ہوگا مقررین نے کہا کہ امام عالیٰ مقام نے غلامی سے نجات حاصل کرنے کاسلیقہ سیکھایا مقررین کا کہنا تھا کہ ایک منظم انداز میں مسلمانوں کے خلاف سازیشوں کا سلسلہ جاری ہے اور بین الاقوامی سازشوں کے زریعے سے نوجوانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اور انہی نوجوانوں کے جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر انہیں دین سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جسے ہم سب نے متحد ہوکر ناکام بنانا ہے مقررین نے کہا کہ حکومت اغیار کو بسانے کے لئے ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے کے درپے ہیں ایسے میں نوجوانوں کو ہوش کا ناخن لینا ہوگا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ایک انچ بھی خالصہ سرکار نہیں ہے اور گلگت بلتستان کی ایک ایک انچ زمین ان کی ملکیت ہے اور ہم ایک انچ زمین کسی کو دینے کو تیار نہیں ہے لہذا حکومت غیر ملکیوں کو شگر میں بسانے کی غلطی کرنے سے گریز کرئے بصورت دیگر حالات زمہ دار حکومت پر ہوگی،

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments