نئی وفاقی حکومت نے گلگت چترال روڑ سی پیک سے خارج کر دیا تھا، ڈاکٹر اقبال

غذر(بیورو رپورٹ) صوبائی وزیر تعمیرات عامہ گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا ہے وفاقی حکومت نے گلگت چترال روڈ کو سی پیک سے خارج کر دیا تھاوزیر اعلی کی بھر پور کوششوں کی بدولت وزیر اعظم عمران خان نے اس روڈ کو سی پیک میں شامل کرنے پر راضی ہوگیا ہے گلگت بلتستان کے عوامی مفاد عامہ کے منصوبوں کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ بیورو کریسی ہے ۔ ویری فکیشن کے نام پر بیورو کریسی کو محکمہ تعمیرات عامہ کے سر پر مسلط کیا گیا ہے یہ صوبائی حکومت کے احکامات پر ویری فکیشن نہیں ہورہی ہے یہ سابق چیف سیکرٹری نے بیور و کریسی کو مسلط کیا ہے میں دیگر محکمہ جات باالخصوص ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بیورو کریسی کی مداخلت کا سخت مخالف ہوں ۔ ڈی سی کا کیا کام ہے کہ وہ محکمہ تعمیرات عامہ کے معاملات میں مداخلت کرے یا ویری فکیشن کے نام پر منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ بنے ۔ ڈی سی کو پہلے اپنا قبلہ درست کرنا چاہیے ۔ ضلعی انتظامیہ اپنا کام کو بہتر طریقے سے انجام نہیں دے سکتی ہے اور دوسرے محکموں کو بھی کام کرنے نہیں دیتی ۔ ایکسین صاحبان کو روز اپنے دفاتر میں بلا کر بٹھاتے ہیں جس باعث تعمیرات عامہ میں بے پناہ مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ڈی سی کا کام امن و امان کا قیام، زمینوں کے معاوضوں کی ادائیگی ،زمینوں کے تنازعات ، سرحدوں کے تحفظ کے ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی بنانا ہے ۔ لینڈ ریفارمز کمیشن کامیں ممبر ہوں آج تک کسی بھی اجلاس میں ڈی سی صاحبان نے شرکت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور ان لوگوں کو ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری بھی دی جاتی ہے یہ عمل بلکل درست نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کو ان کی بقاجات کی ادائیگی کا کام تقریبا مکمل ہوگیا ہے اور یہ جس جس کو نہیں ملا ہے آئندہ چند روز میں بقایہ جات مل جائیں گے ۔46 فیصد ریلیز مل گئی ہے کچھ دنوں میں ادائیگیاں شروع ہوجائیں گی ۔ ٹھیکیداروں کونرخوں کے معاملات میں بھی فائدہ دینے کے لئے کوشاں ہیں اس سلسلے میں ورکس کانفرنس دوران ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے تین چیف انجینئرز اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے اور وہ جو ریٹس ٹھیکیداروں کے مقرر کریں گے انہی پر عمل درآمد ہوگا ہم ٹھیکیداروں کو نقصان دینے کے قائل نہیں ہیں ۔ ٹھیکیداروں کو ہم نہیں بلکہ وہ خو د اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں صوبائی حکومت نے کبھی بھی تعمیراتی کاموں میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کیا ۔ ٹھیکیدار افہام و تفہیم کے ساتھ اچھے نرخوں میں کام کریں گے صوبائی حکومت کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی انہوں نے کہا کہ کرپشن سے متعلق واویلا ضرور ہوتا ہے لیکن صرف اخباری بیانات تک محدود ہے کوئی بھی شخص ثبوت لانے کے لئے تیار نہیں ہے میں ورکس کانفرنس میں باقاعدہ طور پر احکامات جاری کئے ہیں اب جو بھی کرپشن کا الزام لگائے گا اس کو ثابت کرنا ہوگا بصورت دیگر جس محکمے کے خلاف الزام لگا ہے وہ کورٹ میں ہتک عزت کا دعوی لازمی کریگا ۔ کرپشن ثابت ہوئی تو سرکاری ملازم جیل جائیگا اور ثابت نہ ہوا تو غلط الزام لگانے کے پاداش میں سزا کا سامنا کریگا ۔ پیسے لیکر کام کرانے والے سیاستدان بھی قوم کے مجرم ہیں اور پیسے لیکر ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے والے سرکاری آفیسران بھی مجرم ہیں اس بارے میں حکومت کسی بھی قسم کی رعایت کرنے کی مجاز نہیں ہے کوئی کلرک ، کوئی کیشیر یا ایس اے سی اگر ٹھیکیداروں سے پیسے لیتا ہے ٹھیکیدار تحریری شکایت کرے اگلے دن وہی سرکاری ملازم گھر چلا جائیگا کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے پھینکنے کے لئے پرعزم ہیں عرصہ دراز سے اہک ہی سٹیشن پر بیٹھے کلرک بادشاہوں کا تبادلہ کردیا گیا ۔ کچھ ہماری غلطیاں ہیں کچھ محکمے میں خرابیاں ہیں اور کچھ ٹھیکیدار برادری میں خرابیاں ہیں ملک و قوم کی ترقی کی خاطر آگے بڑھنے کی روایت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ٹھیکیدار برادری کی صوبائی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں ان کی نشاندہی پر صوبائی کابینہ میں مسائل پیش کرتے ہیں ۔ ہمیں ٹھیکیداروں سے گلہ بھی ہے کہ وہ مسائل ہم سے حل کراتے ہیں اور جب شکریے کو اشتہار اخبار میں چھپتا ہے تو سب اوپر تصویر جرنیل کی لگتی ہے دوسری تصویر چیف سیکرٹری کی ہوتی ہے حالانکہ اشتہار میں اظہار تشکر وزیر اعلی کا ہونا چاہیے ہمیں سول حکومت کی عمل داری پر یقین رکھنا چاہیے ادارے اپنے حصے کا کردار نبھانے کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔ جتنے مسائل کا ذکر ہوا ہے ان کو ورکس کانفرنس میں زیر بحث لائیں گے اور مسائل کے حل کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ غذر چترال ایکسپریس وے کو موجودہ وفاقی حکومت نے سی پیک کے منصوبوں سے خارج کردیا تھا سی ایم گلگت بلتستان نے بھر پور جد وجہد کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو اس منصوبے کو دوبارہ سی پیک میں شامل کرانے پر راضی کیا ہے ۔ فداخان فدا اور غلام محمد ہماری کابینہ کے سب سے فعال ممبران ہیں وہ ہمیشہ غذر کی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments