تبدیلی کا نعرہ اور گلگت بلتستان 

تحریر: اخلاق حسین 

تبدیلی کے نعرے کو عرف عام میں نیا پاکستان کا نام دیا جاتا ہے۔ اس نعرے کے ساتھ تحریک انصاف مرکز میں حکومت بنانے میں تو کامیاب ہو گئ ہے۔ کیا اس نعرے اور تبدیلی کے اثرات گلگت بلتستان میں نظر آسکتے ہیں؟؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر باسی اپنے آپ سے اور سیاسی قائدین سے پوچھتا نظر آرہا ہے۔ ویسے تو خطے کی سابقہ روایات یہی رہی ہے کہ مرکز میں جس کسی کی بھی حکومت آتی ہے اسکا اثر بلواسطہ یا بلاواسطہ خطے پر ضرور پڑتا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہو گا کہ تبدیلی سرکار اس خطے بے آئین پر اس نعرے کے ساتھ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے۔

بدبختی سے ہمارے ہاں ہمیشہ الیکشن مرکزی الیکشن کے کافی بعد ہوتے ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے جو مرکز میں برسر اقتدار ہو۔اب جب کہ 2015 کے الیکشن کے ن لیگ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔جس کی اصل وجہ مرکز میں ن لیگ کی حکومت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کی ناکامی بھی تھی۔ اب 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تو تبدیلی کے نعرے کی گن گرج گلگت بلتستان میں سنائی دینے لگی ۔

گزشتہ دور حکومتوں میں چاہے وہ مسلم لیگ ن کی ہو یا پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کافی مضبوط ہاتھوں میں ہوتی تھی جس کی وجہ سے مرکز میں حکومت کے تشکیل کے بعد مقامی قیادت اپنے اثر رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی جو کہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ سیاسی اور انتظامی معاملات کافی حد تک متاثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ اور اپوزیشن میں موجود پارٹی بر سر اقتدار پارٹی کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔

اب جب ہم تحریک انصاف کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا کہ تبدیلی کے اثرات گلگت بلتستان پر پڑھنے کے امکانات کم یا معدوم ہوتے نظر آرہا ہے۔ جسکی وجوہات میں سے ایک وجہ خطے کے اندر پارٹی کا کوئی خاطر خواہ تنظیمی ڈھانچے کا موجود نہ ہونا ہے اگر کہی ہے بھی تو وہ مختلف تفرقات کا شکار ہو مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹے ہوے ہے کوئی بھی ایک دوسرے کو قابل قبول نہیں ۔ پارٹی کے اندر کوئی ایسی بااثر شخصیت موجود نہیں جو اپنے اثر رسوخ کے ساتھ ساتھ پارٹی کے پاور کو بھی زیر استعمال کر کے تبدیلی کے نعرے کے لیے راہیں ہموار کرے۔ جی بی کے عوام بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح عمران خان سے بہت سی آس لگا کے بیٹھے ہیں ۔ ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خطے کے باسی پارٹی سے زیادہ عمران کی شخصیت سے متاثر ہے۔ خطے میں پارٹی کا کوئی خاص سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تبدیلی کے نعرے کے نعرے کا کوئی خاطر خواہ خیر مقدم نیہں کر رہے جتنی اس کی امید کی جارہی تھی۔

اب جبکہ نیا پاکستان بنانے کا وقت آہی گیا ہے تو اس کے اثرات گلگت بلتستان پر بھی پڑھنے چاہیے ۔ ان اثرات کو جلد اور منظم انداز میں لانے اور ان کو خطے میں پھیلانے کے خان صاحب اور ان کی ٹیم کو گلگت بلتستان کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کروانی ہونگی۔ اپنی پارٹی کا نظم و نسق جو عوام کے ساتھ ساتھ حکومتی ایوانوں اور بیوروکریسی میں اپنا اثر رکھتا ہو۔ پارٹی کے اندر موجود خلفشار کو مٹا کر سب کو ایک ایجنڈے پر لا سکے۔ اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی بہتر اور منظم انداز میں اپوزیشن کر سکے اور عوام کو یہ باآور کروائے کہ پی ٹی آئی حکومت گلگت بلتستان میں بھی تبدیلی کے خواہ ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments