دلوں کا کھیل اور خا لد بن ولی 

تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خا لد بن ولی مر حوم نے 19سال کی عمر میں اپنا مجمو عہ کلام اشا عت کے لئے بھیجا تو اس کا نام “ہر دیان اشٹوک “رکھا اس نام کا اوردو ترجمہ دلوں کا کھیل ہے کتنی عجیب بات ہے کہ مجمو عہ کلام کی اشاعت کے 15سال بعد خا لد کے دل نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور خا لد نے ہمارا ساتھ چھو ڑ دیا 20اکتوبر 2018کو ہفتے کا دن تھا ، کھانسی کی شکا یت تھی دن کے ڈیرھ بجے اسلام آباد جانے کے لئے پشاور سے نکلے ، ڈرائیور کو چھٹی دی ، مردان انٹر چینج کے قریب لنجر کے مقام پر دل کی دھڑکن رک گئی ، گاڑی بے قا بو ہو کر الٹ گئی ، اور خا لد اپنے خا لق حقیقی سے جا ملے مظہر الاسلام کا افسانہ “اپنے قبر کی تلاش”ان کے افسانوی مجمو عہ “میں آپ اور وہ “میں شامل ہے افسانہ گو یا خالد کی زندگی اور موت کا احا طہ کر تاہے ایک اقتباس بر محل سا لگتاہے افسانے کا کر دار خود کلامی کے انداز میں کہتا ہے”میں اکثر سفر میں رہتا ہوں ایسا سفر جس کی کوئی حد نہیں میں نے بے تحا شا سفر کیا ہے لیکن ابھی تک میرے پاوں کا چکر تیزی سے گھوم رہا ہے اور شاید یہ میری موت تک یو نہی گھومتا رہے سفر میرے لئے فرض ہو چکا ہے اوراس فرض کی ادائیگی میرے حو صلے کو طلب کی ڈوری سے تنْکے مار تی رہتی ہے کبھی کبھی مجھے یوں لگتاہے جیسے یہ ان روحا نی بزر گوں کا فیض ہے جنکے مزا روں پر میں حا ضری دیتا ہوں لیکن پھر مجھے یقین ہو نے لگتاہے کہ میں مو ت کی تلاش میں سفر کر تا ہوں “خالد بن ولی کو ایک بزرگ ہستی سے گہری نسبت تھی ان کا نام نقشبندیہ سلسلہ کے مشہور بزرگ مو لا نا محمد مستجاب المعروف اویر مو لوی صاحب نے رکھا تھا یہ ایسی نسبت ہے جس پر ان کے والد عبدالو لی خان عابد ایڈو کیٹ بجا طور پر فخر کر تے رہینگے خا لد بن ولی کی 34سالہ زندگی اس مشہور قول کی صدا قت پر دلا لت کر تی ہے “وہ آیا، اْس نے دیکھا ، اْس نے فتح کیا “شیکسپیئر نے دنیا کو ڈرامہ کا سٹیج اوردنیا والوں کو کسی ڈرامے کے ادا کار کا نام دیا تھا ان کی انگریزی نظم بہت مقبول ہے وہ کہتا ہے دنیا میں انسان ڈرامے کے لئے آتا ہے پہلے بچے کا کر دار کر تا ہے پھر جوان کا ،پھر عا شق کا ، پھر بوڑھے کا کر دار کر کے سٹیج سے رخصت ہو تاہے خا لد نے بوڑھے کا کر دار بھی عین ایام جو انی میں نبھا یا کیونکہ ان کو جلدی تھی ان کا وجدان کہتا تھا مجھے جانے کی جلدی ہے چند سال پہلے ایک حا دثے میں ان کی ٹا نگ ٹوٹ گئی ، پلاستر چڑھا کر اسلام اباد سے آئے تو ان کی عیا دت کرنے والوں نے دیکھا ان کے سر ہا نے پر وصی شاہ کی کتا بیں رکھی تھیں ، کب سے پڑ ھ رہے ہو ، وہ کہنے لگا آٹھویں جما عت سے پڑ ھ رہا ہو ں میر ا پسندیدہ مصنف ہے کہنے وا لوں نے مشورہ دیا کہ وصی شاہ فلسفہ لکھتا ہے خیا لات کے گھو ڑے کو ایڑ لگا تا ہے اور قاری کو حقا ئق کی دنیا سے دور لے جا تا ہے تاریخ ،سیا سیات ، قا نون اور عمرا نیات کا مطا لعہ کر کے مقا بلے کے امتحان کی تیا ری کر نا وصی شا ہ کے فلسفے سے بہتر ہے خا لد کہتا تھا دونوں کا م ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں واقعی دونوں کا م ساتھ ساتھ ہورہے تھے اس نے پر ونشیل منیجمنٹ سروس (PMS) کا امتحا ن بھی پا س کیا جو ڈیشیری میں سول جج کا امتحا ن بھی پا س کیا پہلے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر ہوئے ، پھر سول جج /جو ڈیشل مجسٹریٹ کے عہدے پر فا ئز ہوئے سما جی خد مت کا بے تحا شا کا م اپنے ذمے لیا ہو ا تھا عد لیہ میں گو شہ نشینی اور عز لت گز ینی کی فضا تھی اس لئے دو سال بعد عد لیہ سے وا پس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں آگئے فرا ئض منصبی کے ساتھ ساتھ سما جی کا موں کو انجام دینے کا وقت ملا اور ان کی روح تسکین پا نے لگی اگر کسی نے لکھا ہے کہ ان کو بہت جلدی تھی تو بے جا نہیں لکھا 34سال کی مختصر عمر میں انہوں نے تعلیمی میدان میں فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑد یئے، گھڑ سواری میں نا م پیدا کیا ،چترال کا روایتی کھیل پو لو کھیلا، شہزادہ میجر شمس الدین کی دختر نیک اخترسے شادی کی، بچی کا نام ملکھون رکھا 21سال کی عمر میں والد گرامی کے ہمراہ فریضہ حج ادا کیا رو ضہ رسول ﷺ پر حا ضری دینے کا شرف حا صل کیا مادری زبان کھوار میں شا عری کی اور مجمو عہ کلا م شائع کیا انگریزی کے رومانوی شا عرجون کیٹس 25سال کی عمر میں دنیا ئے فا نی سے کو چ کر گئے تھے کھوار کے جواں مر گ شا عر نے 34سال اس دار فانی میں بھر پور انداز میں گزا رے خا لد کو اللہ تعا لیٰ نے حسن صورت کے سات حسن سیرت کی دولت سے بھی نوا زا تھا دونوں صفات میں وہ ممتاز اور نما یاں تھے میری ان سے آخری ملا قات چترال کے سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ ہاوس میں ہو ئی تھی ان کو داڑھی کی مبارک باد دی انہوں نے حسب عا دت نو ک جھونک میں دو چار جملے کہے میں نے جو آخری کتاب انہیں دی وہ خا طر غز نوی کی کتاب تھی “ایک کمرہ “جس میں پشاور کی ادبی سر گر میوں کی نصف صدی پر محیط ادبی و ثقا فتی تاریخ لکھی ہوئی ہے اب اگر ملا قات ہوتی تو میں ان کو ڈاکڑ راشد حمید کی کتاب “اقبال کا تصّور تاریخ “پیش کر نے کا فیصلہ کر چکا تھا مگر زندگی نے مہلت نہیں دی ملکھون کی پیدا ئش پر انہوں نے انگریزی میں میاں بیوی کا مکا لمہ اپنے ٹائم لائن پر شا ئع کیا تھا مکا لمے کے آخری بول خا وند کی طرف سے ہیں خا وند بیوی سے کہتا ہے اگر بیٹی ہو ئی تو وہ مجھے سب کچھ سکھا ئیگی اپنے آپ کو سنوارنا ، کھانے میں احتیا ط کر نا ، کپڑوں میں سلیقہ رکھنا وغیرہ ، بیوی پوچھتی ہے یہ با تیں اس کو کون سکھا ئے گا خا وند کہتا ہے بیٹیوں کو سیکھنے کی ضرورت نہیں یہ ان کی فطرت میں ہے اللہ تعالیٰ ملکھون کو لمبی عمر دے اور اپنے عظیم باپ کے حسین خوابوں کی تکمیل کے وافر مواقع سے نوا زے آمین

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments