کالمز

سب گندا ہے پر دھندا ہے یہ

تحریر: تہذیب حسین برچہ

10دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے 48ممبران ممالک نے پیرس میں عالمی منشور برائے انسانی حقوق (یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس) متفقہ طور پر منظور کیا۔اس منشور کے آرٹیکل 23 کے مطابق ہرانسان کو روزگار، انتخاب روزگار، ساز گار ماحول، مناسب معاوضہ اور سماجی تحفظ جیسے حقوق حاصل ہیں۔اس یونیورسل ڈیکلریشن پر دستخط کرنے والے ممالک نے اپنے وسائل اور استطاعت کے مطابق اپنے شہریوں کو اس منشورکے مطابق حقوق دینے کے عزم کا اظہار کیا۔کسی بھی مثالی ریاست میں شہریوں کو بہتر روزگار کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہے جبکہ کچھ ریاستوں میں بے روزگاری کی صورت میں کفالت کی ذمہ داری تک لی جاتی ہے مگر پاکستان جیسے بد عنوانی، سماجی ناہمواریوں،سیاسی و ذاتی اقربا پروری اور بھرتیوں کے عمل میں عدم شفافیت کے شکار گھٹن زدہ معاشرے میں انسانی حقوق کے متذکرہ منشور، اعلامیے یا قوانین صرف کتابوں کے اوراق تک محدود ہیں یا سیاسی رہنماؤں کی تقاریر میں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے نہایت گرم جوشی سے بیان کیے جاتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی ان لفاظیوں اور بلند و بانگ دعوں کی اصل حقیقت جب سامنے آتی ہے تو تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اورعوام تبدیلی کی سونامی کی بے رحم موجوں میں بہہ چکی ہوتی ہے یا غربت،مہنگائی،بے روزگاری اورلاقانیویت کی ایسے دلدل میں پھنس جاتی ہے کہ جس سے نکلنے کی دور دور تک کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

پاکستان کی کل آبادی کا68 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اس سے ممکن ہے کہ اس کی تعداد زیادہ بھی ہو۔حکومت کی طرف سے ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کاوعدہ تو وفا نہیں ہو سکا مگر بے روزگاری کی شرح روز بہ روز مسلسل بڑھتی جارہی ہے جبکہ کورونا وبا نے معاشی استحکام اور روزگارکے مواقعوں پر بھی برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ نوجوان روزگار کے حصول کا خواب لیے سرگرداں نظر آتے ہیں اور کسی نہ کسی ادارے میں خالی ہونے والی آسامیوں میں قسمت آزمائی بھی کرتے ہیں مگر سفارش کلچر اور اقربا پروری کے سبب اصل حقداد اپنے حق سے محروم رہ جاتا ہے۔گزشتہ ایک عرصے سے ملک کے مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں گریڈ 1 سے گریڈ 15 کی اسامیوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب نجی ٹیسٹنگ سروس اداروں کی مدد سے کیاجاتا ہے۔جن میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس)،کیریئر ٹیسٹنگ سروسز پاکستان (سی ٹی ایس پی)،ایجوکیشنل ٹیسٹنگ سروس (ای ٹی ایس)،پاکستان ٹیسٹنگ سروس(پی ٹی ایس)،اوپن ٹیسٹنگ سروس(او ٹی ایس) سمیت درجنوں نجی ادارے شامل ہیں۔جو یونیورسٹیوں میں داخلوں کے علاوہ وفاقی اورصوبائی حکومتی اداروں میں خالی ہونے والی آسامیوں پر تقرریوں کے لیے ٹیسٹ سے متعلق امور نمٹاتے ہیں۔یہ غیر سرکاری ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے کمپنیز آرڈیننس کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور کچھ ادارے خود کوغیر منافع بخش ادارے ظاہر کرتے ہیں مگر ان کا منافع کروڑوں روپے میں ہے۔

پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ ٹیسٹ کے لیے خدمات سر انجام دینے کے لیے وجود میں آنے والے ان اداروں نے اپنا دائرہ کار سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں بھرتیوں کے ٹیسٹ تک بڑھایا ہے۔ان اداروں کی جانب سے مشتہر ہونے والی آسامیوں کے لیے امید وار کو فارم بھرتے ہی سینکڑوں یا ہزاروں روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے جس نے جتنی اسامیوں کے لیے قسمت آزمائی کرنی ہو وہ اتنی ہی دفعہ الگ الگ فیس ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے جبکہ کسی وجہ سے ان آسامیوں پر تقرری منسوخ ہونے کی صورت میں جمع شدہ فیس کی امیدواروں کو واپسی کوئی نظام موجود نہیں جس کے سبب لاکھوں فیس ادا کرکے ڈگری حاصل کرکے روزگار کا خواب لیے نوجوان ان ٹیسٹنگ سروسز اداروں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں جبکہ ان کی جانب سے فارم اورتعلیمی دستاویزات کی دستی وصولی کا کوئی نظام بھی موجود نہیں جس کے سبب امیدواروں کو ڈاک کا اضافی خرچہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ امیداروں کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے ان اداروں کے ساتھ رابطے کی صورت میں عملے کے غیر مناسب رویے کی شکایا ت بھی عام ہیں۔ ملک میں سزا و جزا کا موثر نظام نہ ہونے کہ سبب ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان اداروں میں سے ایک ادارے کے سابق سربراہ کی ڈگری جعلی ثابت ہونے، کروڑوں روپے خورد برد کرنے کے الزام اور ٹیسٹ کے طریقہ کارمسلسل تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود متعلقہ ادارہ اب بھی اپنے امور سر انجام دے رہا ہے۔

گزشتہ ایک عرصے سے ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مختلف سرکاری اداروں میں تقریوں کے لیے ان نجی ٹیسٹنگ سروس اداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جس میں میرٹ کو کس حد تک ملوظِ نظر رکھا جاتا ہے یہ تو ایک الگ گورکھ دھندا ہے مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ان اداروں نے ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان کے بے روزگار نوجوانوں سے بھی ایک خطیر رقم ضرور حاصل کی ہے۔اس حوالے سے گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی سابق حکومت کی جانب سے مبینہ طور پرمتذکرہ اداروں میں ایک ادارے کی خدمات حاصل کرکے اپنے من پسند افراد کو نوکریوں سے نواز نے اور فیسوں کی مد میں حاصل ہونے آمدن میں سے اپنا حصہ تک وصول کرنے کے الزامات لگے جبکہ گلگت بلتستان کے کئی بے روزگار نوجوانوں کی طرف سے اس ادارے کی ٹیسٹنگ کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایات بھی اخبارات کی زینت بنیں مگر مختلف اداروں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے کوئی موثر اور شفاف نظام نہ ہونے کے سبب ان ہی اداروں پر انحصار کرتے ہوئے خدمات حاصل کی گئیں۔جبکہ گلگت بلتستان میں ادارہ جاتی سطح پر تقرریوں کی صورت میں بھی مسلکی،قومیتی اور دیگر بنیادوں پر تقرریاں ہونے کے خدشات پائے جائے ہیں۔مزید برآں صوبائی حکومت کا سیٹ اپ ملنے کے باوجود اعلیٰ عہدوں پر تقریوں کے لیے اب تک گلگت بلتستان پبلک سروس کمیشن کا قیام بھی عمل میں نہ آنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔نجی اداروں کی لوٹ کھسوٹ کا بازار کرنا اپنی جگہ مگر ملکی سطح پر اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں سے متعلق خدمات سرانجام دینے والے سرکاری ادارہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہونے والے گلگت بلتستان سیکریٹریٹ میں خالی15 اسسٹنٹ (بی پی ایس-16) کی آسامیوں پر تقرریوں کے لیے ہونے والے گزشتہ ٹیسٹ میں مبینہ طور پر پرچہ آوٹ ہونے کی شکایات منظر عام پر آئیں۔اب ایسی صورتحال میں بے روزگاری کا شکار نوجوان آخر کس ادارے سے اپنی امیدیں وابستہ کریں۔ اس صورتحال کے سبب نوجوانوں میں شدید مایوسی اور احساس محرومی جنم لے رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں بھی مختلف سرکاری محکموں میں گریڈ 1 سے 15 تک کی خالی یا نئی پیدا ہونے والی آسامیوں میں تقرریوں کے لیے کسی بھی بدنام زمانہ ٹیسٹنگ سروس ادارے کی خدمات کسی صورت حاصل نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسی ٹیسٹنگ اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں جن کی کارکردگی ملکی سطح پر متنازع، کرپشن کے بے الزامات سے مکمل طور پر پاک ہو۔ سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کو ان اداروں کو امیدواروں سے فیسیں کی وصولی کے حوالے سے واضح احکامات جاری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے کہیں زیادہ فیس امیدواروں سے بٹورتے ہیں نیز ایس ای سی پی کو رجسٹرڈ نجی ٹیسٹنگ اداروں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور کرپشن کے الزامات کی صورت میں تحقیقات کرکے الزام درست ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کر نے کی ضرورت ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بوقت ِ ضرورت معتبر اور شفاف نظام پر مبنی ٹیسٹنگ سروس کا انتخاب کر سکیں اور مختلف اداروں میں شفافیت پر مبنی تقرریوں کا عمل فروغ پا سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: