گلگت بلتستان کو اظہار رائے کے لئے خطرناک بنادیا گیا ہے، وزیر اعلی اور ان کے مشیر لاقانونیت چاہتے ہیں، مظاہرین

اسلام آباد (نیوز رپورٹ )  گلگت بلتستان کے طلبا ء اور سول سو سا ئٹی کے ممبران نے اتوار کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ایس ایچ او گو پس مرزہ حسن کی بحالی ، محکمہ پولیس کو سیا سی دباو اور مدا خلت سے آزاد کر نے اور علا قے میں اظہار را ئے کی آزادی یقینی بنانے کےلئے احتاجاجی مظاہرہ کیا۔

اس مو قع پر طلبا ء کا کہنا تھا کہ نواز لیگ کی حکو مت گلگت بلتستان میں تمام اداروں کو سیا ست زدہ کر کے اپنی مفادات کے حصول کی تکمیل میں لگی ہو ئی ہے جو اختلاف را ئے کو ملک دشمنی سے تعبیر کر کے مخالفین کو نشان عبرت بنا نے میں مصروف عمل ہے ۔ طلبا ء ، اساتذہ اور سیا سی ورکروں کو خوف زدہ کر نے کے لئے ان پر جھو ٹے مقدمات کا اندراج اور فورتھ شیڈول کا نا جا ئز استعمال کے بعد اب سر کری آفیسروں کو بھی ن لیگ اپنے قا ئدین اور کا رکنوں کے غلام بنا نا چا ہتی ہے ۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کر تے ہوئے ایڈوکیٹ صفدر علی شیرازی نے کہا کہ حفیظ الر حمن اور ان کے آلہ کار خطے میں لا قا نونیت کا فروغ چا ہتے ہیں اور اپنی مر ضی کی با دشاہت قائم کر نے کی تگ و دو میں ہیں ۔ اس وقت گلگت بلتستان آزدی اظہار را ئے کے لئے خطر ناک خطہ تصور کیا جا رہا ہے جہاں لو گوں کو ان کے بنیادی حقو ق سے بزورِ باز و محروم کر نے کی رسم چل پڑی ہے۔

اُنہوں کہا کہ صوبائی وزیر فدا خان اور وزیر اعلی کے مشیر غلام محمد ایس ایچ او کی شکایت لے کر وزیر اعلیٰ کے پاس جا چکے تھے لیکن آج وہ اپنے آپ کو اس معاملے سے لا تعلق قرار دے رہے ہیں ۔ صفدر شیرازی نے کہا کہ اگر یہ لوگ اس معا ملے میں شفاف ہیں تو وہ میڈیا میں بیان دے اور اس وا قعے کی مخالف کر یں تا کہ خطے میں پو لیس کا محکمہ سیا سی مدا خلت سے آزاد ہونے کا تاثر ابھرے۔  حفیظ سر کار اور اس کے وزیر اور مشیر غذر پو لیس کے ایک ایماندار آفیسر کو جرائم پیشہ کا رکنوں اور سیا سی آلہ کاروں کے خلاف بلا تفریق اور دباو مسترد کر نے پر انتقامی کاروائی کا نشا نہ بنا یا گیا اور آئی جی پر دباو ڈال کر معطل کر و ایا گیا جو کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ۔

اس مو قع پر تمام مقررین نے وفا قی حکومت اور گورنر گلگت بلتستان کو اس واقعے کا نو ٹس لے کر آ ئی جی سے جواب طلب کر نے پر زورد یتے ہو ئے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر ا س ایماندار آفیسر ( مرزہ حسن ) کو بحال نہ کیا گیا تو احتجاج کی تحریک وسیع کر دی جا ئیگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments