گلگت بلتستان اور چترال تہذیب و ثقافت، زبان اور تاریخ کے اعتبار سے آپس میں‌جڑے ہوے ہیں، سابق گورنر سید پیر کرم علیشاہ

چترال(نذیرحسین شاہ نذیر) سابق گورنرگلگت بلتستان پیرسیدکرم علی شاہ نے کہاہے کہ گلگت اورچترال سفیدپوش پہاڑوں کے دامن میں آبادعلاقے ہیں جو موسمی حالات اور منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے سال میں ایک دوسرے سے تقریباچار،پانچ مہینے تک منقطع رہنے کے باوجودبھی اپنی ثقافت،تہذیب تمدن،روایتی ہم آہنگی اوردیگرامورکے حوالے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔

اپرچترال کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے گلگت بلتستان میں کھواربولنے والوں کی تعدادچترال کے برابریاکچھ کم ہوگئی مگرگذشتہ ایک دہائی سے کھوار زبان بہت تیزی سے گلگت میں پھیل رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ زبان محبت کا وہ واحد ذریعہ ہے جو انسانوں کو ملانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور وادی چترال اورگلگت کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کی اپنی ثقافت سے گہری وابستگی ہے۔ یہاں کے باسی اپنی ثقافت اورادب کو بہتر اور معنی خیز انداز میں دوسروں سے بانٹتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ کئی سالوں سے کھوارثقافت،ادب اورقدیم روایات سے ہمارے تہذیب تمدن اوردیگررسموں کی تبدیلی سے بڑادھچکاملاہے جو ہماری نئی نسل کی مرہون منت ہے۔ پیر کرم علی شاہ نے کہا کہ گلگت بلتستان اورچترال کے نوجوان طبقہ پختون ،پنجابی اوردیگرثقافت کاحصہ بن کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان کی آپس میں رشتے داریاں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی رسمیں چترالی رسموں پر مسلط ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزیدحدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت اگردیکھاجائے پہلے کے نسبت ہمارے ادب ثقافت بہت کمزورہوچکاہے اور ہمارے قدیم لباس کہاں بھی نظرنہیں آرہی ہے اورنوجوان نسل بڑھوں کاادب اخترام ایسانہیں کررہے ہیں جیساکئی دہائیوں سے ہمارے روایت کاحصہ بن کرآیاتھا۔

پیرسیدکرم علی شاہ نے کہاکہ یہاں کے مکین اپنے رہن سہن رسوم وراج ،لباس ،تہذیب اوریگرحالات زندگی اسلامی اقدارکے مطابق گزارکرآئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چترال کی تہذیب و ثقافت عین اسلامی ہے ۔کھوار زبان دنیا کی شرین ترین زبان ہے اور افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ آج کل کے تعلیم یافتہ نوجواں کے ہاتھوں یہ زبان زوال کی طرف جارہی ہے،سوم و رواج بھلائے جارہے ہیں اوررشتے ناطے اپنا معیار کھو رہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ زندہ قومیں اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتی ہیں اور اگلی نسل کو منتقل کرتی رہتی ہیں اور ان حالات میں والدین کا فرض بنتا ہے کہ اپنی روایتی تہذیب و ثقافت کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اسے ترقی دینے میں اپنا بھر پور کردار ادا ریں اور اپنے تہذیب تمدن ،روایات ،ثقافت ،ادب اخترام اوردیگررسوم ورواج کوبیرونی یلغارسے بچنے کے لئے سینئرتجربہ گاراہل قلم اوردیگرمکتبہ فکرکے سنجیدگی اورہوشاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے اورنوجوان نسل کوبھی زبان سے محبت کادرس دیاجائے۔ انہوں نے زور دے کرکہا کہ اس وقت نوجوان نسل کی کھوار الفاظ کے ادئیگی میں بہت فرق سننے میں آرہے ہیں جس سے کھوارزبان کی شیرینی ختم ہوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ زبان جس طرح کسی بھی معاشرے کی ایک پہچان ہے بالکل اسی طرح زبان ذریعہ اظہار کا نام ہونے کے ساتھ کسی بھی سماج میں ایک دوسرے سے منسلک رہنے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ دیگر معاشرتی لوازمات۔ دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال میں بہت سی قومیں اپنی زبان کی ترویج اور بقاء کیلئے کوئی منظم حکمت عملی کرنے کی اشدضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments