غذر سے چین تک(۴)

تحریر دردانہ شیر

ڈرائیور گاڑی سڑک کنارے روک کر کاشغر شہر میں داخل ہونے سے انکار کر رہا تھا۔ ہماری نگری ساتھی ڈرائیور کے ساتھ اس کی زبان میں گفتگو کر رہا تھا۔ ایک گھنٹہ ان کے درمیان بحث ہوتی رہی۔ ہم نے بھی فیصلہ کر لیا کہ جب تک ڈرائیور ہمیں منزل تک نہیں پہنچاتا، ہم اسے ایک آنہ نہیں دیں گے، کیونکہ انہوں نے ہماری مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوے تین گنا زیادہ مانگا تھا۔

ابھی ہم ساتھی یہ مشورہ کر رہے تھے کہ ایک گاڑی آگے آکر رک گئی۔ گاڑی رکتے ہی ہماری گاڑی کا ڈرائیورنیچے اتر گیا اور سامنے کھڑی اس گاڑی کے پاس پہنچ کر گاڑی کے ڈرائیور سے کوئی بات کی اور جیب سے کچھ رقم نکال کر ان کے حوالے کر دیا اور ہمارے پاس اکر ہمیں سامان اس گاڑی میں ڈالنے کا کہا ہم نے اپنا سامان اتار کر دوسری گاڑی میں رکھ دی ڈرائیور نے ہمارے ساتھی کو کچھ کہا اور وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گیا اور کہا کہ اب ڈرائیور کو کرایہ ادا کرینگے یہاں سے کاشغر شہر کا کرایہ ڈرائیور نے اس نئی گاڑی والے کو دیدیا ہے ہم نے گیارہ سو ین تشقرغان سے لانے کا کرایہ ان تھما دیا اور دوسری گاڑی اب ہماری منزل کاشغر شہر میں داخل ہوگئی تھی اور رات کے کوئی صبح کے کوئی پونے دو بجے تھے ہم نے گاڑی ڈرائیور کو بتایا تھا کہ ہمیں چینی باغ ہوٹل میں اتر دیں اور اس طرح ہمیں ڈرائیور نے چینی باغ میں اتار دیا مگر ہماری قسمت یہاں بھی ساتھ نہیں دے رہی تھی ہوٹل انتظامیہ نے بتایا کہ تمام ہوٹل بک ہوگئے ہیں کوئی کمرہ خالی نہیں ہے ہمیں مجبورا ہوٹل سے باہر نکلنا پڑا روڈ پر پولیس کی گاڑیاں سائرین بجاتے ہوئے گزر رہی تھے ہم ڈر رہے تھے کہ اس وقت روڈ پر کھڑے دیکھ کر ہمیں اپنا مہمان نہ بنائے میں چین یہ چوتھی بار گیا تھا تمام چینگ خنجراب اور تاشقرغان میں ہوتی ہے اس کے بعد کسی بھی شہر میں اپ داخل ہوجائے پولیس والے اپ سے نہ پاسپورٹ اور باڈر پاس کے بارے میں بالکل بھی نہیں پوچھ لینگے اس وجہ سے مجھ تسلی تھی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی اتنے میں ایک ٹیکسی ہمارے پاس اکر رکی اور ہم نے ان کو سیمن ہوٹل لے جانے کا کہا اور عام طور پورے کاشغر شہر میں اپ ٹیکسی میں گھومے پانچ ین سے زیادہ کا کرایہ نہیں لگتا اور جب ہم ہوٹل کے قریب اتریں تو اس ڈرائیور نے بھی ہمیں لوٹا پانچ ین کی بجائے پچیس ین وصول کیا اب مجبوری تھی اور اوپر سے تھکاوٹ سے ہمارا برا حال ہورہا تھا ہم نے پچیس ین ان کو دیدیں اور ہوٹل کی انتظامیہ نے یہاں بھی ہمیں خاموش کر دیا سیمن ہوٹل کے سامنے ہی سحر ہوٹل ہوتا ہے اب ہماری اخری امید اس ہوٹل پر تھی اور وہاں پر جاکر ہوٹل کے مین گیٹ کو دستک دی تو کوئی دس منٹ بعد سیکورٹی گارڈ نے دروازہ کھول دیا سخت چیکنگ کے بعد ہوٹل میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی سیکورٹی گارڈ نے ہوٹل کے منیجر کو بھی بلایا وہ بھی نیند کی حالت میں تھا ہم نے اپنی مجبوری بیان کی تو اس نے ہمیں کہا کہ ایک ہی کمرہ ہے اس پر گزارہ کریں صج اپ کا روم تبدیل کر دونگا ہم نے فوری طور پر روم کی چابی مانگی اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ روم کی چابی نہیں ہے بلکہ روم کھلا ہے اور روم کا نمبر پوچھا تو 420کہا جس پر ہم ہنسنے لگے تو منیجر بھی خوب ہنسا ہم نے نہ کرایہ کا پوچھا اور نہ ہی کرایہ ان کو دیدیا اپنے بارڈر پاس ان کے حوالے کر کے روم نمبر420میں پہنچ گئے جو تیسری منزل پر واقع تھا ہوٹل کا دروزہ کھلا تھا واقعی میں یہ کمرہ ہوٹل منیجر نے ہم جیسے مجبور دیار غیر سے آنے والے مہمانوں کو رکھا تھا اور روم میں داخل ہوتے ہی اپنے اپنے بیڈ میں ارام کرنے لگے ہمیں تو یہ کمرہ اس وقت فائیوسٹار کے کمرے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا اور ٹائم کو صبح کے کوئی پونے پانچ بجے تھے نیند مزے کی آئی اور دن کے کوئی بارہ بجے انکھ کھلی ہاتھ منہ دھونے کے بعد ناشتہ کرنے گل بہار ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے گل بہار ہوٹل پاکستانی ناشتے اور پاکستانی کھانوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے اور یہ ہوٹل کی مالکن نام بھی گل بہار ہے گل بہار کوئی چالیس سالہ خاتون ہے اس کے بارے میں پتہ چلا کہ اس نے کسی پنجابی کے ساتھ شادی کرکے پاکستان شفٹ ہوگئی تھی بعد میاں بیوی میں ناراضگی ہوگئی اور اس خاتون نے طلاق لیکر واپس چائینہ آئی اور یہاں اکر انھوں نے ہوٹل کھول دیا اور شاید پاکستان سے ہی انھوں نے پاکستانی کھانے بنانے کا یہ ہنر سیکھا تھا اس وجہ سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد گل بہار کے ہوٹل میں موجود رہتے ہیں ہم بھی ناشتہ کیلئے گل بہار کے ہوٹل میں داخل ہوگئے تو کئی گلگت بلتستان کے لوگ وہاں موجود تھے ہم نے ناشتے کا ارڈر دیا اورناشتہ کرکے میں نے نیت ولی کو پیمنٹ کرنے کا کہا تو بقول گل بہار کے اپ کی ناشتے کی پے منٹ ہوگئی ہے ہم حیران ہوگئے کہ کس نے پے منٹ کی ہوگی بہرحال گلگت بلتستان کے کسی جاننے والے بھائی نے ناشتے کی رقم ادا کی ہوگی روڈ پر نکلتے ہی ہم نے سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ ہر صورت میں سحر ہوٹل چھوڑنا ہے اس لئے ابھی جاکرسمن ہوٹل میں روم کا پتہ کرتے ہیں ہوٹل میں داخل ہوگئے تو ہوٹل کی منیجر خاتون نے کمرہ خالی ہونے کی ہمیں نوید سنا دی اور ہم نے فوری طور پر کمرے کا ایڈونس کرایہ بھی ادا کیا اور اس ہوٹل میں شفٹ ہوگئے کاشغر شہر جو بتایا جاتا ہے 1990تک یہ ایک بہت ہی غریب شہر ہوا کرتا تھا اورزیادہ تر لوگ سائیکلوں پر سفر کرتے تھے اور اس علاقے میں بہت زیادہ غربت تھی پھر چین کی حکومت نے ان بالائی علاقوں پر خصوصی توجہ دینا شروع کر دیا اج کاشغر شہر ایک خوبصورت شہر میں تبدیل ہوگیا ہے اور اتنا صاف سعترا شہر ہے کہ پورے شہر میں کئی بھی کوئی گندگی نظر نہیں ائیگی اور صج کے ٹائم پر ایک سیکوٹی پر بیٹھ کر ایک شخص سائرین بجاتا ہوا اتا ہے اور لوگ فوری طور پر گھر میں موجود کچیریں کو لیکر روڈ پر اجاتے ہیں کوئی پانچ منٹ کے بعد ہی کچرا اٹھانے والی گاڑی پہنچ جاتی ہے اس کے بعد شہر کی تمام سڑکوں کو پانی سے دھوایا جاتا ہے اور مختلف قسم کی مشینری روڈ پر نظر آتی ہے ایک گاڑی روڈ پر پانی پھنک دیتی ہے تو دوسری گاڑی پر روڈ کو صاف کرنے کے برش لگے ہیں اس برش سے روڈ کو صاف کیا جاتا ہے پورے کاشغر شہر میں میں نے کوئی سائیکل نہیں دیکھا تمام لوگ سیکوٹی یا موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں زیادہ تر سکوٹی بجلی کی چارج پر چلتے ہیں جبکہ لوگوں کے پاس مہنگے گاڑیاں ہیں اور ایک سے ایک نئی گاڑی روڈ پر نظر آتی ہے پورے شہر میں ہمیں بھیک مانگنے والا کوئی نہیں ملا سیکورٹی کے اتنے سخت انتظامات کئے گئے کسی بھی بڑی مارکیٹ میں سخت چینگ کے بعد مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے ہم نے بھی اس دن کوئی تین بجے کے قریب کاشغر اولڈ سٹی کا سیر کرنے کا پروگروم بنایا چائینہ کی حکومت نے کاشغر اولڈ سٹی کو ایسی حال میں محفوظ کیا ہے جس حال میںیہ تھا اس پرانی سٹی کو دیکھنے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے جب ہم اس پرانی سٹی کے مین گیٹ میں داخل ہوگئے تو ہزاروں کی تعدادمیں غیر ملکی سیاح اس پرانے شہر میں موجود تھے کوئی میوزک سن رہا تھا کوئی ناچ رہا تھا تو کوئی ان کے ثقافتی رقص سے محظوظ رہے تھے اتنے بڑے اولڈ سٹی جو کہ ایک ہی جگہ میں موجود ہے شاید یہ لوگ ایسی ایک ہی جگہ میں قیام کرتے تھے ان کو حکومت نے کئی اور شفٹ کرکے اس اولڈ سٹی کو صرف سیاحوں کے مختص کر دیا ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ کوریا اور جاپان کے سیاح ملے ایک طرف چائنہ کی حکومت ہے جس نے پورے شہر کو محفوظ کیا ہے اور سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح صرف ان قیمتی ورثہ کو دیکھنے آتے ہیں مگر دوسری طرف ہم ہیں صرف گلگت بلتستان میں ہمارے پاس ایسے قیمتی اثار قدیمہ موجود ہے جن کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے جس میں گوپس اور یاسین فورٹ مادوری قعلہ اور کئی ایسے اثار قدیمہ موجود ہے جن کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے اج یہ قیمتی اثار قدیمہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں کاشغر اولڈ سٹی اس وقت کے لوگوں نے موجود شہر سے کافی اونچا بنایا ہے شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ کسی دشمن کے حملے کے پیش نظر انھوں نے اس ابادی کو اس اونچائی میں بنایا ہو تاکہ دشمن پر نظر رکھی جائے اولڈ سٹی سے پورا کاشغر شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے (جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments