غذر سے چین تک ۔۔ نویں‌ قسط

تحریر :۔دردانہ شیر

ہماری گاڑی تشقرغان کی طرف رواں دواں تھی کہ پولیس کی ایک اور چیک پوسٹ پر ہمیں روکا گیا اور ایک بار پھر اپنا سامان کو گاڑی سے اتارنا پڑا، چیک پوسٹ والوں نے سامان چیک کیا، بارڈر پاس دیکھا اور جانے کی اجازت مل گئی۔

ہم دل میں خود کو کوستے تھے کہ اتنا سارا سامان لانے کی کیا ضرورت تھی کہ کاشغر سے یہاں تک چار جگہوں پر اتنا سامان گھسٹتے ہوئے چیک پوسٹ لے جاکر چیک کرانا پھر وہاں سے گاڑی میں لوڈ کرنا ہمارے لئے ایک عذاب بن گیا تھااور ہم سوچنے پر مجبور تھے کہ آخر یہ لوگ ہمیں اتنی سزا کیوں دے رہے ہیں ہم پاکستان سے نقد رقم لیکر چین جاتے ہیں اور وہاں سے ان کی مصنوعات خرید کر پاکستان لاتے ہیں چین کو اتنا سارا فائدہ پہنچنے کے باوجود چیکنگ کے نام پر جس طرح ہمیں تنگ کیا جاتا ہے یہ تو ان لوگوں کو پتہ ہے جو اس علاقے میں سفر یا کاروبار کرتے ہیں!!

میں نے اس سال چین جانے سے قبل اپنے ایک دوست کو بتایا کہ اس دفعہ آپ کے ساتھ چائینہ جانا ہے اور آپ کو ان کی زبان آتی ہے تو دوسری طرف آپ اس علاقے سے پوری طرح واقف ہے اور شادی بھی چائینہ سے کی ہے اس بندے کا کہنا تھا کہ بھائی گلگت بلتستان اور پاکستان کے تین سو زائد افراد نے چائینہ سے شادی کی ہے اور گزشتہ دو سالوں سے ہمیں جس انداز میں تنگ کیا جاتا ہے اس کو بیان نہیں کر سکتا جن افراد نے وہاں سے شادی کی ان کو وہاں (چین )جانے کی اجازت نہیں ہے ہمارے زیادہ تر ساتھیوں کی بیویاں اس وقت چائینہ میں ہیں مگر ان کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں جبکہ ان کے مرد جو پاکستان میں ان کو چین جانے نہیں دیتے ہیں کئی افراد کے بچے جو چائینہ میں ہیں وہ اپنے والد کا انتظار کر رہے ہیں اور کئی کے بچے پاکستان میں ہیں وہ اپنی والدہ کا راہ تکتے ہیں جبکہ اگر کوئی شخص جس نے چائینہ سے شادی کی ہے اگر وہ چائینہ بھی جائے تو ان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ وہاں اپنے سسرال کے گھر نہیں جاسکتے جتنے رشتہ دار ہیں وہ اپنے داماد سے ہوٹل میں ملاقات کرینگے اب تو ہم وہاں فون کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اگر فون کرتے ہیں تو پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اس بندے نے اپ کو فون کیوں کیا تھا ہماری بیویوں کو ذہینی طور پر ٹاچر کیا جاتا ہے اور ہم لوگ سخت پریشان ہیں آخر ہمارا قصور کیا ہے اور ہمارے بچوں کا کیا قصور ہے جن کواپنے والدین سے ملنے کی اجازت نہیں پاکستان سے چین جانے والے تمام افراد جرائم پیشہ نہیں ہیں مگر جس انداز میں ہمارے ساتھ سلوک ہورہا ہے وہ سراسر انسانیت کے ساتھ ایک مزاق ہے ہمارے اس دوست جس نے چائینہ سے شادی کیا تھا بہت ہی پریشان تھا واقعی میں میں نے کاشغر میں اپنی انکھوں سے دیکھا کہ سیکورٹی اہلکار ہر گلی میں چوکس کھڑے تھے اور گلی سے کوئی مرد یاخاتون روڈ پر نکل آتے تو اس کا موبائیل ان سے اٹھا کر پورا ڈیٹا چیک کیا جاتا اس کے بعد ان کو موبائیل واپس کئے جاتے جس باعث وہاں بہت کم لوگوں کے پاس سمارٹ فون دیکھنے کو ملے ہماری حکومت کو بھی اس حوالے سے نوٹس لینا ہوگا کہ جن افراد نے وہاں سے شادیاں کی ہیں انکو بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے جو افراد اگر کوئی جرم میں ملوث ہیں ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے مگر ہر ایک کو تنگ کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ان معصوم بچوں کا اخر کیا قصور جو خود پاکستان میں ہیں جبکہ ان کی والدہ چین میں ہے اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے میرے اس دوست نے اپنی دکھ بھری دستان مجھے سنائی تھی نے اپنا نام صغیہ راز میں رکھنے کی درخواست کی تھی جس کو بھی یہاں ظاہر کرنا نہیں چاہتا ہماری حکومت کی زمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کریں جن پاکستانیوں نے وہاں سے شادیاں کی ہیں ان کے بچوں واپس پاکستان بھیجنے کی حکومت چائینہ سے درخواست کریں اگر کوئی کسی جرائم میں شامل ہے اس کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے جن افراد نے چائینہ سے شادیاں کی ہیں ان کو سسرال کے گھر داخلے کی اجازت نہ دینا اور ان کی بیوی بچوں کو بھی پاکستان جانے کی اجازت نہ ملنا سراسر ناانصافی ہے ہماری گاڑی اب تشقرغان شہر میں داخل ہوگئی تھی تشقرغان کو سی پیک کی وجہ سے ایک خاص اہمیت حاصل ہوگیا ہے اور دن بدن یہ شہر ترقی کی طرف گامز ن ہوتا جارہا ہے اور ابھی اسی سی پیک کی وجہ سے ایک بہت بڑ انٹر نیشنل ائر پورٹ کی بھی تعمیر ہورہی ہے اور بڑی تیز ی عالشیان بلڈنگ تعمیر ہورہے جبکہ موٹر وے طرز کی سڑکیں بن رہی ہے شاید سی پیک کی وجہ سے چین کا یہ صوبہ بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا چین کا سینکیانگ صوبہ اس ملک کا پسماندہ صوبوں میں شامل کیا جاتا ہے اور دوسری صوبے بھی اس صوبے کی ترقی کے لئے رقم فراہم کرتے ہیں مگر بہت جلد یہ صوبہ ترقی کے میدان میں دیگر صوبوں سے آگے نکلے گا چین صوبہ سینکیانگت کی آبادی پاکستان کی کل آبادی سے زیادہ ہے اور یہ صوبے آج سے پندرہ سال قبل بہت ہی پسماندہ صوبوں میں شامل تھا مگر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہ صوبہ ترقی کی راہ میں بہت آگے نکلا ہے اور سی پیک کی وجہ کئی کاروباری افراد اپنی بڑی بڑی فیکٹریوں کو چین کے بڑے شہروں سے اورمچی اور کاشغر منتقل کر رہے ہیں چونکہ اب چائینہ کا دنیا سے زیادہ تر کاروبار سی پیک کے راستے سے ہونا ہے اور ان کی مصنوعات پاکستان کے راستے گوادر اور وہاں سے دنیا کے کونے کونے پہنچ جائیگا اس لئے بڑے کاروباری افراد نے بھی چین کے اس بالائی صوبے کا رخ کر دیا ہے چونکہ بیجنگ سے کاشغر تک فلائٹ میں اٹھ گھنٹے کی مسافت ہے تو ایسے میں اگر بیجنگ سے ایک کینٹنیر اگر پاکستان روا نہ ہوجائے تو گوادر پہنچنے تک ایک ماہ لگ جائینگے اس وجہ سے یہاں کے کاروباری بڑی تعداد میں اپنی فیکٹریاں اورمچی اور کاشغر منتقل کر رہے ہیں تاکہ کم ٹائم پر ان کی مصنوعات دنیا کے کونے کونے پہنچ جائے چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا پوری دنیا میں ستر فی صد مصنوعات فروخت ہورہے ہیں اب سی پیک کی وجہ سے اس ملک کے کاروبار میں دوگناہ اضافے کی توقع ہے اس وجہ سے امریکہ پریشان ہے کیونکہ سی پیک کی وجہ سے چین کی معشیت مزید مستحکم ہوگی اور امریکہ جتنا چاہے پابندیاں لگا دیں وہ چین کی ترقی کو نہیں روک سکتاہماری گاڑی ٹریفک ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی اور ہوٹل میں بہت زیادہ رش تھا ہمارے ڈرائیور نے ہمیں سامان نہ اتارنے کا کہہ کر ہوٹل چلا گیا اور پانچ منٹ بعد واپس اکر ہمارا سامان اتار دیا اور کہا کہ اپ کا کمرہ عبدالحد نے بک کر ایا ہے ہم بہت خوش ہوئے کہ چلو ہوٹل میں کمرہ تو مل گیا ہوٹل کے استقبالیہ میں ہی لوگوں کا اتنا رش تھا کہ رش کو دیکھ کر ہم پریشان ہوگئے اور اگر ہمارا کمرہ ایڈونس بک نہ ہوتا تو تشقرغان کی لہو جمانے والی سردی میں ہمارا کیا حشر ہوتا روم میں سامان رکھنے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ فوری طور پر سست کا ٹکٹ لیا جائے ہم قریب ہی موجود بکنگ آفس گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ سوست کا ٹکٹ کل صج اٹھ بجے ملے گا تشقرغان کی سردی کو دیکھ ہم اﷲپاک سے دعا مانگ رہے تھے کہ کل کسی بھی طریقے سے اس شہر سے نکل جائے جب ہم واپس ہوٹل پہنچے تو مزید گلگت بلتستان کے افراد ہوٹل پہنچ گئے تھے اور ہوٹل میں روم نہ ملنے کی وجہ سے سخت پریشان تھے اور کئی افراد کو ہوٹل کے ہال میں بسترے ڈال دئیے تھے صج ٹھیک اٹھ بجے میں نے عزیزم نیت ولی کو ٹکٹ لینے کے لئے بیجھا تو کافی ٹائم تک نہیں آیا میں پریشان ہوا کہ اخر اتنی دیر کیوں لگا دی میں بھی بکنگ آفس کی طرف روانہ ہوگیا جہاں ٹکٹ لینے کے لئے مسافروں کی لائن لگی ہوئی تھی اور نیت ولی بھی اس لائن پر کھڑے تھے میں سوچنے لگا کہ اتنے سارے مسافروں کو لے جانے کے لئے ایک بس ناکافی ہوجائیگی چونکہ ایک سال قبل جب ہم چائینہ میں تھے تو ایک بس سے سواریاں زیادہ ہونے پر امیگریشن والوں نے ہمیں دوسری بس نہیں دی اور کہا کہ کل آجاو اج بھی مجھے ایسی ہی صورت حال نظر آئی نیت ولی میرا اور اپنا بارڈر پاس ہاتھ میں لیا کھڑا تھا اتنے میں بتایا گیا کہ ایک بس کے سواری فل ہوگئے اب دوسری بس کے ٹکٹ اشو ہورہے ہیں میری پریشانی مزید بڑہ گئی اور ایک بار پھر مجھے لگا کہ اج پھر شاید تشقرغان میں قیام نہ کرنا پڑے نیت ولی شاہ ٹکٹ لیکر آے تو میں نے ان کو بتایا کہ بھائی یہ دوسری بس شایداج نہ جائے کیونکہ پچھلے سال بھی ہمیں دوسری بس کاٹکٹ ملا ہے اگر اس سال بھی ہماری قسمت میں دوسری بس لکھا گیا ہے اب ہم نے سامان اٹھاکر تشقرغان امیگریشن کے آفس پہنچنا تھا ہمارے پاس سامان کافی تھا اس وجہ دو ٹیکسیوں کو پکڑ لئے اور امیگریشن کے دفتر پہنچ گئے اور رش دیکھ کر ہمیں انداز ہوگیا ہے کہ آج پھر ہمیں تشقرغان کی خون جمانے والی سردی مزہ لینے کا لئے قیام کرنا ہوگا(جاری ہے )

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments