کالمز

صحاف نامہ – ‌کوویڈ 19اورضلع ہنزہ 

تحریر:اکرام نجمی 

ہمسایہ ملک چین میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد جنوری 2020کا آخری ہفتہ پوری دنیا کیلئے تشویش ناک ثابت ہورہا تھا۔ دنیا بھر میں وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا تھا۔ کئی ممالک اپنے شہریوں کو چین سے نکال رہے تھے۔ اسی دوران گلگت بلتستان کے عوام پاک چین بارڈر کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے تشویش کا شکار تھے۔ پاک چین بارڈر احتیاطی تدابیر کے طور پر نہیں کھولا گیا۔ فروری کے وسط تک پاکستان کا ایک اور ہمسایہ ملک ایران بھی وائرس کی لپیٹ میں آچکا تھا اور ایران میں مسلسل اموات کا سلسلہ جاری تھا۔

26فروری کو ایک نجی ٹی وی چینل پر اسلام آباد میں مقیم ہنزہ کے چند باشندوں میں مشتبہ کیسزکے حوالے سے خبر بریک ہوئی۔ اس خبرکے بعد ہنزہ میں خوف وہراس کا ماحول پید ا ہوا۔ ہنگامی طور پر ضلعی انتظامیہ نے ایک اجلاس طلب کی جس میں ہنزہ کے مذہبی،سماجی،کاروباری اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور یوں ضلع ہنزہ میں کووڈ 19کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے اپنے عملی کام کا آغاز کیا جس میں ایران سے آنے والے زائرین  اوردیگر شہروں سے ہنزہ آنے والے لوگوں کی چیکنگ کا سلسلہ شامل تھا۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے وباسے آگاہی اوراحتیاطی تدابیر کے حوالے سے مختلف اقدامات کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ اور سرکاری اسکول جو سردیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بند تھے نہیں کھولا گیا۔ ہنزہ کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت اور وفاقی و صوبائی حکومت کے احکامات کے مطابق ماسک کے استعمال اور سماجی دوری کو لازمی قرار دیا گیا علاقے کو لاک ڈاؤن میں رکھا گیا تجارت کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی بند کیا گیا مشتبہ مریضوں کو رکھنے کیلئے قرنطینہ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا سول ہسپتال کریم آباد کو آئیسولیشن سنٹر میں تبدیل کیا گیا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں کرونا کنٹرول روم کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اسی دوران ضلع نگر وائرس کے لپیٹ میں آیا اور ریڈ زون قرار پایا۔ فرنٹ لائین پر خدمات سر انجام دینے والے گلگت بلتستان کے ایک ڈاکٹر اسامہ اور پیرا میڈیکل سٹاف کے نگر سے تعلق رکھنے والے رُکن مالک اشدر نے گلگت بلتستان میں کوویڈ سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔نگر کے غیور عوام کی سخت احتیاطی تدابیر کی وجہ سے ضلع نگر ریڈ زون سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔

سخت لاک ڈاوٗن اور احتیاطی تدابیر کی وجہ سے ہنزہ گلگت بلتستان میں کرونا فری ضلع کے طور پر سامنا آیا علاقے کے عوام بلخصوص والنٹیرز اور اسکاوٹس نے ضلعی انتطامیہ کا بھرپور ساتھ دیا ڈپٹی کمشنر ہنزہ فیاض احمد اور اس وقت کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہدایت علی اور ہنزہ میں مقیم ڈاکٹرز،ینگ ڈاکٹرز،پیرا میڈیکل سٹاف،پولیس فورس،عوام اور سماجی اداروں کی بھرپور کوشش اور محنت کے نتیجے میں ضلع ہنزہ مئی کے مہینے تک کرونا فری ضلع رہا۔

اسی دوران پاکستان کے دیگر شہروں میں عید کے حوالے لاک ڈاوٗن میں نرمی کی گئی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سیاحت اور تعمیرات کے شعبے کو ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور یوں ملک کے دیگر حصوں میں مقیم ہنزہ کے ہزاروں افراد ہنزہ کارخ کرنے لگیں ان افراد کی آمد کے ساتھ ہی کرونا فری ضلع ہنزہ میں کیسز سامنے آنے لگے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پانچ سالوں سے  نمائندگی سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کا فقدان، ماہر ڈاکٹرز کی عدم تعیناتی، انتظامی تبادلوں اور تقرریوں نے حالات کا شدید متاثر کردیا۔

ہنزہ کورونا کے حوالے سے گلگت بلتستان میں اب نمبر ون متاثرہ ضلع بن چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کیسز میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری ہے ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش کے باوجود بعض لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد میں کوتاہی کررہے ہیں۔ بد قسمتی سے بہت سارے لوگ کورونا کو جھوٹ اور فنڈز کھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ٹیسٹنگ کا عمل بھی پورے پاکستان کی طرح گلگت بلتستان میں سست روی کا شکار ہے۔ لوگ نفسیاتی طور پر بھی تنگ آچکے ہیں۔ سیاحت کی بندش اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ معاشی مشکلات کا بھی شکار ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں الزام صرف انتظامیہ پر ڈالنا انصاف کے منافی ہے۔

گلگت بلتستان میں مقامی حکومت کی تبدیلی اور متوقع الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے بھی ایس او پیز کو نظر انداز کرتے ہوئے ہنزہ میں سیاسی اجتماعات کا انعقاد کیا جس میں سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی جس کو دیکھتے ہوئے عوام یہ سمجھنے لگے کہ شاید کورونا وائرس ختم ہوچکا ہے اور لوگوں میں بے احتیاطی کا رجحان جنم لینے لگا۔ یہ غفلت علاقے کے لئے مہنگا ثابت ہورہا ہے۔ بحیثیت قوم معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اسطرح کے مشکل حالات میں عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کی خصوصی ہدایت اور ہوٹل ایسوسی ایشن اور ٹورآپریٹرزکے احتجاج کے بعد اب سیاحت کے شعبے کا کھلنا یقینی ہوچکا ہے سیاحت کے کھلنے کے بعد سیاحت سے سب سے زیادہ چیلنج ہنزہ کو ہی درپیش ہوگا ہزاروں سیاحوں کی آمد کے ساتھ ایس او پیز پر عمل درآمد ہنزہ کے ہوٹل انٹرسٹری اور انتظامیہ کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں ہوگا ان حالات میں اپنے آپکو اس وبا سے بچانا تب ممکن ہے جب آپ خود عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ احتیاطی تدابیر ماسک کا استعمال،سماجی دوری اور سیناٹائزر کا استعمال پر سختی سے عمل درآمد کروگے۔

آخر میں میں ان تمام فرنٹ لائین پر کام کرنے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی زاتی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کو بھی خطرے میں ڈال کر اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ میں نے اپنے آنکھوں سے ان مسیحاوٗں کو جنگ لڑتے دیکھا ہے جو ناکافی حفاطتی سامان کے باوجود آئسولیشن سنٹرز میں مریضوں کے ساتھ گل مل کر انکو زندگی کی امید دے رہے ہیں میں گلگت بلتستان کے سطح پر ڈاکٹرشاہ زمان اور ہنزہ کی سطح پر ڈاکٹر ظہور اور انکے ٹیم کو مبارکبا د پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کا ہر ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہمارے لئے ہیزوز سے کم نہیں ہیں ہمیں انکی حوصلہ افزائی اور قدر کرنا چاہیے اگر آج گلگت بلتستان میں شرح اموات میں کمی ہے تو اسکی وجہ ان ڈاکٹروں کی بے لوث خدمت ہے اللہ تعالی ان قومی ہیروز کو سلامت رکھے۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: