صنفِ نازک

انیس بیگ 

آج اُس کی آخری انٹرنیشنل فائٹ تھی۔ اُس کے اطِمنان پر کپکپی حاوی تھی۔ اُسے ڑر تھا کہ کہیں اُس کا دوسرے کھلاڑیوں پر احساس سبقت حاوی آجائے اور اِس کا کھیل خراب نہ کردے۔ آج کا دن اس کی زندگی کا وہ دن تھا جس کا اُسے شدّت سے انتظار تھا۔ وہ مخالف فائٹر کو نوک آوٹ کرنے کے عزم کے ساتھ رِنگ میں اُتری تھی۔اور اپنا سب سے بہترین دَاؤ کا سوچ رہی تھی،اُس کے  والد بیٹی کی ہر فائٹ میں اُس کے ساتھ رہے، آج کی فائٹ کے لیے وہ پہلے سے  پُر اُمید تھے کہ سادیہ یہ فائٹ ضرور جیتے گی کیوں کہ سادیہ پہلے بھی رِنگ میں کھڑی فائٹر کومتعدد بار مقابلوں میں باآسانی چت کر چکی تھی۔سادیہ کی کسی بھی فائٹ میں اُسے تھوڑی سی بھی چوٹ لگتی تو اس کی آہ نکلنے سے پہلے منیر صاحب کی آواز آتی میرا بچہ ٹھیک تو ہے نا۔۔!،  والد کے بلک اٹھنے کا ازالہ وہ حریف پر مکوں کی بارش سے کرتی۔آج کا میچ سادیہ کے علاوہ اس کےگھر والوں کے لیے بھی اہم تھا۔اِس فائٹ کو دیکھنے سارے رشتہ دار جو کبھی اُس کی بحثیت لڑکی اس طرح کا  کھیل کھیلنے کے خلاف تھے وہ بھی سادیہ کے گھر بیٹھے اس کی فیملی کے ساتھ مل کر میچ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔۔۔

فائٹ شروع ہوئی پہلا راؤنڈ سادیہ نے کافی مشکل سےاپنے نام کیا۔دیکھنے والے ہر فرد کی زبان پر سادیہ جیتے گی کا نعرہ زد عام تھا،گھر بیٹھے عزیز سادیہ کی امی کو حوصلہ دے رہےتھے آج تو سادیہ کو کوئی نہیں روک سکتا آج اس کی جیت پکی ہے، کھیل کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتے ہی مد مقابل نے تابڑتوڑ حملے کیے اور سادیہ کے دائیں بازو کو ڈسلوکیٹ کر دیا، اب راونڈ پورا ہونے میں ایک منٹ کا وقت باقی تھا۔ سادیہ ٹوٹے بازو کے ساتھ مخالف کو ٹف ٹائم دیتی رہی لیکن یہ راؤنڈ وہ جیت نہ سکی۔ تمام ناظرین کی نظریں سادیہ پر جمی تھیں۔سادیہ کے بازو کا درد اسے اس دن کی یاد دلانے لگا جب وہ اسکول میں تھی تو اس کی کلاس میں ایک لڑکے سے لڑائی ہوئی تھی اور لڑکے نے سادیہ کے ہاتھ میں پینسل کی نوک سے زخم کر دیا تھا۔اس دن کے بعد سے سادیہ نے یہ طے کرلیا تھا کہ اب کے بعد جو بھی اسے نقصان پہنچائے گا وہ اسے نہیں چھوڑے گی۔گھر آکر اس نے اپنے والد سے اس سارے معاجرے کا زکر کیا اور ان سے فائٹنگ کلب میں بھائیوں کے ساتھ د اخلہ لینے کی درخواست کی منیر صاحب نے پہلے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سادیہ بیٹے،گاؤں کی لڑکیاں فائٹ کلب نہیں جاتیں۔

سادیہ کے اسرار کرنے پر والد مان گئے اور بھائیوں کے ساتھ کلب بیجنے پر راضی ہو گئے۔کلب ماسٹر نے بھی پہلے اسے لڑکی ہونے کی وجہ سے کلب میں داخلہ دینے سے منع کردیا۔ کیوں کہ علاقے میں لڑکیاں یا تو اسکول کالج جاتی تھی یا گھر داری کرتی تھی۔سادیہ کا فائٹ کلب جانا وہاں کی روایات کے بر عکس تھا ۔لیکن پھر کلب ماسٹر صرف سلف ڈیفنس سکھانے پے مان گئے، چار مہینے ماسٹر نے سادیہ کو ٹپس دی اور اس کی ٹرینینگ کے لیے فائٹس بھی کراتے رہے۔ایک دن کلب میں ایک لڑکے نے سادیہ کے ساتھ بد تمیزی کی تو سادیہ نے اس لڑکے کی دُرگد بنا ڈالی ۔ماسٹر نے منیر صاحب سے سادیہ کو مزید ٹرینگ دینے سے معزرت کرلی۔ بِنا غلطی کے کلب سے نکالے جانے پر سادیہ نے شدید احتجاج کیا اور اس لڑکے کو بھی برابر کی سزا دینےکی بات کی۔

کہا گیا اس کی غلطی اس لیے نہیں کی وہ کلب لڑکوں کا ہے اور تمہارا وہاں جانا نہیں بنتا۔

تو آج سے  تم نہیں جاؤ گی ۔سادیہ کی زہنیت پہ اس چیز کا بڑا اثر ہوا اور وہ کلب جانے والے ہر لڑکے کو اس کے  نکال دیے جانے کا زمہ دار سمجھنے لگی۔

بہن کے رویے کو دیکھ کر اس کے بھائی نے جو اس کے ساتھ کلب جایا کرتا تھا ،گھر پر ٹرینینگ دینی شروع کی۔

وقت گزرتا گیا، سادیہ اب پوری طرح سے فائٹ جانتی تھی اور وہ چاہتی تھی کی انٹرنیشنل لیول پر ملک کے لیے کھیلے۔ مگر اس کے گاؤں سے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا،کہ کوئی لڑکی نیشنل لیول پر بھی فائٹ کرے۔ سادیہ نے اپنے والدین کو جیسے تیسے راضی کرا لیا تھا اور وہ نیشنل گیمز کے لیے نہ صرف اسلام آباد گئی بلکہ گولڈ میڈل حاصل کیا،اور ساتھ ہی انٹرنیشنل فائٹس کے لیے بھی سیلکٹ ہوگئی۔

گاؤں کے لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے  لگے اور صنف نازک کا یہ روپ انہیں نہ بہایا، رشتےداروں نے ان کے گھر آنا جانا چھوڑ دیا لیکن ان تمام حالات کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد آج کی فائٹ اس کے احصاب کے لیے آسان نہ تھی،سادیہ نے باقی مرحلے اپنے ٹوٹے بازو کے ساتھ نہ صرف لڑے بلکہ جیت بھی لیے، وہ لوگ جو اس کے گھر آج بیٹھ کر اس کی فائٹ دیکھ رہے تھے  وہ وہی تھے جو پہلے پہل اس کا صرف صنف نازک ہونے کی وجہ سے کلب جانے پر بھی برہم تھے۔ اور آج سادیہ جیت گئی تھی اور منافق معاشرہ اُسے داد دینے پر مجبور تھا۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments