گلگت بلتستان اور کشمیر کا رشتہ کیا؟

سکندر علی زرین
۔
سادہ سی بات ہے گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں ہے۔ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا حصہ ضرور ہے یا بنا دیا گیا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل ایک عرصے تک گلگت اور بلستان ریجن کے ریاستی معاملات ایک انتظامی اکائی کے تحت کشمیر کے ساتھ چلائے جاتے رہے۔ یہ مہاراجہ کی ریاست تھی، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مہا راجہ نے گلگتی یا بلتی کو کشمیری بنا دیا، یا کشمیری کی رگ جاں میں بلتی خون دوڑا دیا۔ دنیا میں انتظامی یونٹس بنتی ہیں، توٹتی ہیں، بدلتی ہیں۔ ایک انتطامی یونٹ کی حدود اربعہ تبدیل ہو سکتی ہیں۔ یہ وسعت اختیار کر سکتی ہے۔ مگر ایک انتظامی یونٹ کی تشکیل یا تحلیل ایک قوم کو دوسری کسی قوم میں مدغم نہیں کر سکتی۔

اب سے 25 سال قبل تک یورپ کی ایک ریاست ہوا کرتی تھی،، چیکوسلواکیہ،، یہ ملک دو قوموں کی بستی تھی، چیک اور سلکواکیہ قوم۔ 1993 میں ملک دو لخت ہو گیا۔ چیکو قوم نے اپنی ریاست بنائی چیک ریپبلک، سلواکیہ الگ ملک بن گیا۔ آج نہ جمہوریہ چیک والے سلواکیہ پہ دعوی کرنے کےمجاز ہیں نہ ہی سلواکیہ کو پڑوسی ملک چیک رپبلک سے کوئی سروکار ہے۔

دور کیوں جائیں، ہمارے یہاں کی بات کرتے ہیں۔

ہزارہ بیلٹ ایک عرصے سے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔ اب ایسا نہیں کہ ہزارہ قوم پختون ہو گئی یا پختون ہزارہ کہلائیں گے۔ جس دن ہزارہ صوبہ تشکیل پائے گا اُس دن یہ خیبر پختونخوا کا حصہ نہیں رہے گا۔ خیبرپختونخوا کے پٹھان ہزارہ پر حق ملکیت یا حق قومیت یا حق ریاست یا حق صوبائیت کا دعوی نہیں کر سکیں گے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان میں لسانی، تہذیبی، سماجی، سرحدی کوئی میل نہیں، سوائے اس کے کہ دونوں خطوں کے باسی ماضی میں کبھی غیروں کے زیر نگیں تھے۔ یہی ایک رشتہ ہے اور یہ غلامانہ رشتہ ہے۔ دونوں خطے تقسیم ہند سے قبل ایک غلامانہ رشتے میں جڑے تھے، تقسیم کے بعد متنازعہ رستے میں بندھ گئے۔ سو سادہ سی بات ہے گلگت بلستان کا کشمیر سے ماضی کے غلامانہ رشتہ اور لمحہ موجود میں متنازعہ ہونے کارشتہ ہے۔ اور یاد رکھئے متنازعہ رشتہ طلاق پر ہی منتج ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments