حق ملکیت و حق حاکمیت اور گلگت بلتستان کا قومی سوال

تحریر: حسین علی شاہ

حق ملکیت اور حق حاکمیت کا تصور زمانہ قدیم سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ دنیا کے تمام جمہوری ممالک کے آئین نے اس تصور کو تسلیم کیا ہے۔ جمہوری ممالک میں عوام کے حق ملکیت کے تحفظ کے لئے قوانین ان کے اپنے منتخب نمائندے بناتے ہیں۔ جبکہ کسی بھی سوشلسٹ معاشرے میں بھی حق ملکیت اور حق حاکمیت سے مراد عوام کی حکومت اور وسائل پر عوام ہی کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔

حق ملکیت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جس میں عوام کی ملکیت کو جدید جمہوری ممالک کے آئین میں تحفظ حاصل ہے۔ اسلامی قوانین میں بھی یہ تحفظ موجود ہے جس میں شاملات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اور اس قانون کے تحت کسی بھی گاوں کے ساتھ ملحقہ غیر آباد زمینوں پر وہاں کے پشتنی باشندوں کا حق ہوتا ہے۔ اس طرح اعلی مالک، ادنی مالک، اور غریب یعنی پناہ گزینوں کے حقوق بھی اسلامی قوانین میں تسلیم کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں 1842 کے بعد غیر مقامی طاقتوں نے اپنا قبضہ جمائے رکھا ہے۔ اور صدیوں سے یہاں رائج کسٹمری لاز کی پامالی کی اور لوگوں کی ملکیتی آراضیوں پر کبھی مقامی راجاوں کے زریعے قبضے ہوئے تو کبھی سرکاری مشینری کے زریعے قبضے ہوئے۔ خواہ وہ ڈوگرہ سرکار ہی کیوں نہ ہو۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی دور حکومت کے پہلے آرڈر کے بعد جب دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے آراضی کی ضرورت ہوئی تو سرکار نے عوام کی آراضی میں عوام کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقامی لوگوں سے زمین خریدی۔ اسی طرح دیامیر بھاشا ڈیم کی مد میں وہاں کے لوگوں کو اربوں روپے ادا کئے گئے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کی زمینوں کے مالک وہاں کے مقامی لوگ تھے۔

گزشتہ کچھ سالوں سے گلگت بلتستان میں مختلف آراضیوں کو خالصہ سرکار قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف گلگت بلتستان کے لوگوں نے کئی دفعہ احتجاج بھی کیا ہے۔ خالصہ سرکار کی ضد میں آنے والی ہزاروں کنال پر مشتمل آراضیات میں چھلمش داس، سکوار داس، ملور داس، مقپون داس شامل ہیں۔ عوام اور سرکار کے درمیان تا حال اس مسلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں میں بھی ان آراضیات کے حوالے سے کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔

ایک طرف دفتر خارجہ کے ترجمان گلگت بلتستان کو ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف عوام کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتے کہ جموں اینڈ کشمیر کے باقی دوحصوں “انڈین زیر انتظام کشمیراور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر” میں خالصہ سرکار کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ان دونوں حصوں میں وہاں ہندوستان کا کوئی شہری اور یہاں پاکستان کا کوئی شہری زمین خریدنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن جب بات گلگت بلتستان کی آتی ہے تو یہاں خالصہ سرکار یاد آجاتا ہے۔ یہاں غیر مقامی افراد زمین خریدتے ہیں، مکانات بنواتے ہیں اور متنازعہ خطے کے وسائل پہ بھی قابض ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہزاروں سال سے رائج کسٹمری لاز کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ لوگوں کی ملکیتی شاملات کو خالصہ سرکار کا نام دے کر لوگوں کے حق ملکیت کی پامالی بھی کی جاتی رہی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی دیامیر بھاشا ڈیم کی رائلٹی کے حوالے سے کیسز زیر سماعت ہیں۔ لیکن وفاق میں بنی سرکار اور گکت بلتستان کی موجودہ سرکار عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس رائلٹی میں گلگت بلتستان کا کتنا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی موجودہ سرکار سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو ماننے کے باوجود وہ سفارشات منظور کروانے میں ناکام رہی اور عوام گلگت بلتستان کی رائے کے برعکس آرڈر 2018 کو گلگت بلتستان میں نافظ کرکے ایک نیا خلاء پیدا کیا جس کے نتیجے میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے ملک گیر ہڑتال کی کال دے کر زور بازو اس آرڈر کو مسترد کروایا۔ جب کہ اس کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی نے حق ملکیت اور حق حاکمیت کے اوپر گلگت بلتستان میں جلسے منعقد کروا کر یہ پیغام دیا کہ یہاں کی جتنی بھی بنجر آراضیات ہیں ان کے اصل مالک یہاں کے عوام ہیں۔ اور اگر حکومت وقت کو آراضی کی ضرورت ہے تو وہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے عوام سے خرید سکتی ہے۔

گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتسستان کے حقوق کے حوالے سے حق ملکیت اور حق حاکمیت کا نعرہ بلند کیا ہے۔ لیکن عوام کی اکثریت کو نہیں پتہ کہ اس نعرے سے کیا مراد ہے۔ اس حوالے سے 18 نومبر کو گلگت کے شاہی پولوگراونڈ میں حق ملکیت اور حق حاکمیت کے اوپر چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو خطاب کرنے والے ہیں۔ اور لوگ امید کرتے ہیں کہ جس طرح ذولفقار علی بھٹو نے یہاں پر رائج کالا نظام ایف سی آر کا خاتمہ کیا تھا اسی طرح بلاول بھٹو حق ملکیت اور حق حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے اپنی پارٹی منشور میں شامل کرتے ہیں تو گلگت بلتستان میں ان کو اچھی پذیرائی مل سکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں یہاں کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں۔ اور ہزاروں سالوں سے یہ علاقائی رواج اور قانون ہے کہ ہر گاوں کے ساتھ شامل پہاڈ، چراگاہیں اور بنجر آراضی اسی ملحقہ گاوں کے لوگوں کی ملکیت ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک گاوں سے متحصل پہاڈ، چراگاہیں اور بنجر آراضی پہ دوسرے گاوں کے لوگوں کا بھی کوئی حق نہیں ہوتا۔ اور دوسرے گاوں کی چراگاہوں میں بغیر اجازت گھاس چرائی تک نہیں کرا سکتے۔ تو ایسے میں عوام کی بنجر آراضی خالصہ سرکار کیسے ہوسکتی ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام تمام نفرتوں کو پس پشت ڈال کر ایک جان ہوکر اپنے اس قانونی اور شرعی حق ملکیت کی بحالی کے لئے جدوجہد کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments