گلگت بلتستان کی سیاست میں پیپلزپارٹی کی ری انٹری

ممتازعباس شگری

بدلتاہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔ وقت کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے حقوق کی تعین کامطالبہ زورپکڑتاجارہاہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اندازمیں اس مسئلے کوآگے لانے کی کوشش میں مگن ہے۔ آئینی حقوق کیلئے سیاسی جماعتوں کی جدوجہدپرروشنی ڈالنے کیلئے ہمیں ایک بارپھرتاریخ میں جاناپڑے گا۔

اکتوبر1994کاوقت تھا،گلگت بلتستان کی موسم میں تبدیلی کے آثارنمایاں تھے،ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی،موسم گرمیوں سے سردیوں میں تبدیل ہورہاتھا،لیکن ایک اورموسم گرمی کی جانب بڑھ رہی تھی وہ تھاسیاسی موسم۔ اکتوبرگلگت بلتستان میں الیکشن کاموسم تھا،تمام سیاسی جماعتیں اپنی جیت کیلئے ایڑھی چوٹی کازورلگارہی تھی۔ سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلزپارٹی اورتحریک جعفریہ باقی تمام جماعتوں پرحاوی تھا۔ دونوں جماعتوں نے عوام کوسبزباغ دیکھانے شروع کیے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان کوآئینی حقوق دلانے کا وعدہ اپنے منشورمیں شامل کردیا۔ تحریک جعفریہ نے بھی عوام کودرپیش مسائل کاحل آئینی حقوق کے حصول میں رکاوٹ قراردے کراپنامنشورپیش کرتے ہوئے نعرہ بلندکیا,,ترقی کابس ایک منصوبہ ،پانچواں صوبہ پانچواں صوبہ،،۔

لیکن الیکشن کے فوراََبعدسیاسی جماعتیں عوام سے کیے گئے تمام وعدے بھول گئے۔ حقوق دلانادورکی بات، اس مسئلے پربات کرنابھی نامناسب سمجھا،کیونکہ ان کامقصدعوام کوحقوق دلانانہیں بلکہ سادہ لوح عوام کوبے وقوف بنا کرووٹ حاصل کرناتھا۔

1994سے لیکر1999تک،1999سے لے کر2007تک نوازشریف کی دورحکومت ہویاجنرل ر پرویزمشرف کی دورحکومت،کسی ایک کوبھی اس مسئلے کوحل کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔2007میں بے نظیربھٹوکی شہادت کے بعدآصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے وفاق میں پنجے گاڑدیے۔ اپنی پانچ سالہ دورحکومت میں انہوں نے گلگت بلتستان کومکمل سیٹ اپ دینے سے گریزکیا۔ حقوق دلانے کے بجائے آرڈر2009کے نام سے ایک کالاقانون نافذکرکے اس خطے کو آرڈرکے حوالے کردیا ۔پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان کے نمائندوں کواکھٹاکرکے ایک وحدت کی شکل دے دی،اس میں دیکھنے کوتووزیراعلیٰ سمیت تمام کابینہ موجود تھے،لیکن اختیارات سے بالکل مبرا۔ پیپلزپارٹی کی ناکام سیاست کانتیجہ یہ نکلاکہ وہ اپنی پانچ سالہ دورحکومت کے بعدوفاق سے نکل کرصوبہ سندھ میں محصورہوکررہ گیا،دوسال بعدگلگت بلتستان سے بھی پارٹی کاصفایاہوگیا۔

وفاق میں پیپلزپارٹی کی سیاست کاسورج غروب ہوتے ہی پاکستان مسلم لیگ ن نے ایک بارپھرکمان سنبھالی۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی سابقہ حکومت کی پیروی کرتے ہوئے وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بھی آرڈر2018کے نام سے ایک اورآرڈرجبری عوام پرمسلط کردیا۔ یوں گلگت بلتستان کی بھاگ دوڑوزیراعظم کے سپردکردیا،لیکن عوام ان دونوں آرڈرزسے بیزارہے۔ گلگت بلتستان کی باسیوں نے ان آرڈرزکے خلاف شدیداحتجاج کیا،مجھے لگتاہے،آرڈر2018ن لیگ کی ناکامی کی گھنٹی ہے،جو2019میں بج جائے گی۔ عوام ن لیگ کابھی وہی حالت کریں گے جو2015کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کیاتھا۔

اب ہم اس گفتگوکویہاں روک کربلاول بھٹوکی حالیہ دورہ گلگت بلتستان پرنظردوڈائیں گے۔ وفاق میں پیپلزپارٹی کی ایک بارناکامی اورپیپلزپارٹی کی گڑلیاری سے شکست کے بعدبلاول بھٹونے اپنی سیاست چمکانے کیلئے ایک بارپھرگلگت بلتستان کاانتخاب کیاہے۔ موصوف کچھ روزپہلے حق حاکمیت وحق ملکیت جلسے میں شرکت کیلئے گلگت پہنچے۔ کارکنوں نے ان کاوالہانہ استقبال بھی کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں کامیاب جلسہ کیا۔ کامیاب اس لیے کہ وہاں لوگ کثیرتعدادمیں شریک تھے۔ ویسے آپس کی بات ہے،2015میں عمران خان کی اسکردوآمدکے موقع پرشاہین گراونڈمیں بھی لوگوں کاجم غفیراُمدآیاتھالیکن الیکشن میں اسکردوحلقہ نمبرایک کے امیداراورموجودہ گورنزراجہ جلال کوشکست ہوئی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ جلسے میں تماشادیکھنے کیلئے ہی اکھٹے ہوتے ہیں۔

بہرحال بلاول بھٹونے گلگت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی ہی گلگت بلتستان کے عوام کوحقوق دلائے گی۔ پیپلزپارٹی اورگلگت بلتستان کابرسوں کارشتہ ہے۔ ہم اسے ختم ہونے نہیں دیں گے۔ گلگت بلتستان کوسی پیک میں پوراحق دیاجائے گا۔ اقتدارمیں آکرخالصہ سرکارقانون کاخاتمہ کرکے عوامی ملکیتی قانون لے آئیں گے۔ انہوں نے اپیلٹ کورٹ کوسپریم کورٹ اورچیف کورٹ کوہائی کورٹ کادرجہ دینے کابھی اعلان کیا۔

گلگت بلتستان کوحقوق دلانے کی بات کرتے ہوئے موصو ف شایدبھول ہی گئے کہ انہوں نے خودکئی باربیان دیاتھاکہ گلگت بلتستان کوصوبہ بناناپاکستان کی مفادمیں نہیں ،توانہوں نے کیسے کہاکہ گلگت بلتستان کوآئینی حقوق دلائیں گے۔ اگرحقوق دلاناہی تھا توپیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دورحکومت میں کیوں نہیں دلایا۔ گلگت بلتستان کے عوام بلاول سے پوچھناچاہتے ہیں کہ آج آپ حقوق کی بات کررہے ہو،ماضی میں حقوق کی مخالفت میں بیان کس لیے دیاتھا۔ اگرحقوق دلاناہی تھاتوپیپلزپارٹی نے اپنی پانچ سالہ دورحکومت میں کیوں نہیں دلایا۔ وہاں کونسی دیوارکھڑی کردی تھی جواس راہ میں رکاوٹ بنی۔

بلاول بھٹونے گلگت کے علاوہ ہنزہ،دیامر،استورکابھی دورہ کیااورلوگوں سے خطاب کیا۔ دیامرکے دورے کے دوران موصوف کے جلسے میں لوگوں نے جئے عمران خان کے نعرے بلندکرکے پیپلزپارٹی سے نفرت کااظہارکیا۔ گلگت بلتستان کی یخ بستہ ہواوں میں بلاول بھٹونے اپنی سیاسی میدان گرم کرنے کی کوشش ضرورکی ہے،لیکن دیکھنایہ ہوگاکہ آئندہ الیکشن میں عوام کس کومنتخب کرے گا۔ کیابلاول کی جوشیلے تقریرلوگوں کاعقیدہ خراب کرسکے گا یاتحریک انصاف پچ پرجم کے کھیلے گا،یہ تووقت ہی بتائے گا۔

سچ کہوں توگلگت بلتستان کے لوگ پاکستان پیپلزپارٹی اورپاکستان مسلم لیگ ن دونوں سے بیزارہے،کیوں کہ ان دونوں نے عوام کوبے وقوف بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ وفاق میں تبدیلی کی ہواچلتے ہی گلگت بلتستان کی سیاسی موسم بدلنے لگاہے،سیاسی نمائندے اِدھراُدھرجھانک جھانک کردیکھ رہے ہیں۔

حکومتی طبقے کے سیاستدان بھی اپنی کشتی سے نکلنے کیلئے پرتول رہے ہیں ۔اب ان کے پاس پاکستان تحریک انصاف کاآپشن بچاہواہے۔ لوگ بھی تبدیلی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ سترسالوں سے حقوق سے محروم عوام بھی حقوق کی خاطرتحریک انصاف کی جانب دیکھ رہی ہے۔ وہ تحریک انصاف پراعتمادکرنے کیلئے تیارہے۔ انہیں اب پتہ لگ چکاہے،کہ لندن اوردبئی کے عالی شان عمارتوں میں آرام کی بسترپرزندگی بسرکرنے والے بلاول اوربخارکاعلاج بھی لندن میں کرنے والی مریم نوازلوگوں کے حقوق کیاجانے۔ اگرکوئی واقعی میں حقوق دلاسکتاہے تووہ واحدعمران خان کی شخصیت ہے،جس نے زندگی میں بہت اتارچڑھاودیکھی ہے۔

ہمیں مانناہوگاکہ ہم ستربرسوں سے نااہل لوگوں کوہی اپنے اوپرمسط کرتے آرہے ہیں،جنہوں نے ووٹ حاصل کرکے اپنی پیٹ پوچاکرنے کے سواکچھ نہیں کیا۔اگرہم واقع میں تبدیلی چاہتے ہیں ،واقعی میں آئینی حقوق چاہتے ہیں توتحریک انصاف کاساتھ دیناہوگا،کیونکہ وہ واحدجماعت ہے جوکریشن اوراقرباپروری کے خلا ف ڈٹ کے کھڑاہے۔ اوراگرہم نے یہ موقع بھی ضائع کردیاتوہم اس کاازالہ برسوں بعدبھی نہیں کرسکے گےا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments