عمران خان نے کس لابی کے دباؤ میں گلگت بلتستان سے متعلق یوٹرن لیا؟ امجد حسین ایڈوکیٹ

گلگت (پ ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان نے کس لابی کے دباؤ میں آ کر گلگت بلتستان سے متعلق نازک مرحلے پر یوٹرن لیا ہے۔ جس وزیر اعظم میں قوت فیصلہ ہی نہیں ہے وہ جمہوریت کی توہین اور قوم کی شرمندگی کا باعث ہے۔ سو دنوں میں تبدیلی کا راگ الاپنے والوں نے مسلسل یوٹرن لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔عمران خان نے گلگت بلتستان کے عوام کے جزبات کو ابھارنے کے بعد فیصلہ موخر کر دیا اس پر یہاں کے عوام کی طرف سے شدید رد عمل آے گا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر طرز کے سیٹ اپ کی سفارشات پیش کی تھیں ان سفارشات کی منظوری دینے کے بعد عمران خان نے حسب دستور یوٹرن لے لیا۔ جس سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں شدید مایوسی چھائی ہے۔

اگر گلگت بلتستان کے حقوق پر عمران خان کو فیصلہ کرنے کی توفیق نہیں ملی تو یہاں کے عوام عمران خان کے گلگت بلتستان میں داخلے پر پابندی لگا دینگے۔ لیکن ہمیں سپریم کورٹ آف پاکستان سے امید ہے کہ وہ اگلی سماعت میں گلگت بلتستان کے حقوق پر اہم فیصلہ صادر کرے گی تاکہ یہاں کے نوجوانوں میں چھائی ہوئی مایوسی ختم ہو۔ عمران خان گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ بدنیتی نہ کریں ورنہ انکا انجام بھی نواز شریف جیسا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ کے چوروں کو مور پڑ گئے ہیں۔آمریت کے انڈوں سے نکلنے والوں کو بلاآخر کرپشن کا ناگ نگل گیا ہے۔جس طرح ضیاالحق کے سیاسی جانشین شریف برادران نشان عبرت بن چکے ہیں حفیظ الرحمٰن اور ٹولہ اس سے سبق حاصل کرے۔جوں جوں احتساب کا عمل آگے بڑھ رہا ہے نام نہاد شریفوں کی غضب کرپشن کی عجب کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔کرپشن کی سرکس کے مداری نااہل ہوچکے ہیں اب حواری بھی حوالات جانے کی تیاری کریں۔جن کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سسلین مافیا قرار دیا اور جن کے ہاتھ سانحہ ماڈل ٹاون میں معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جو قصور کی معصوم بچیوں کو انصاف نہیں دلاسکے انہیں کراچی اور تھر کی باتیں کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔گلگت بلتستان کے عوام اتفاق فونڈری کے ملازم نہیں جو نااہل افراد کے آلہ کار بنیں۔نواز لیگ کا منشور پانامہ,اقامہ اور آخر میں ملک سے بھاگ جانا ہے۔

امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا سودا کرنے والوں کے بیانات ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری والی مثال ہے۔حفیظ الرحمٰن گلگت بلتستان میں نفرتوں کی سیاست کے بانی ہیں۔نئے اضلاع کا قیام عوام پر احسان نہیں بلکہ انکا حق تھا۔گلگت بلتستان میں مزید اضلاع بنانے کی اشد ضرورت ہے جو کہ پیپلز پارٹی بنائے گی۔حق ملکیت اور حق حاکمیت عوامی زمینوں کا دھندہ کرنے والے حکمرانوں کے گلے کا پھندہ بنے گا۔ترقیاتی کام کے نام پر جتنی کرپشن اس حکومت میں ہوئی ہے اسکی مثال ستر سالوں میں نہیں ملتی۔ہر محکمے کو مال مفت دل بے رحم کے مصداق لوٹا جارہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments