فکرِ فردا: انجینئر لونگ ہونگ باؤکے نام ایک خط

تحریر: تہذیب حسین برچہ

یہ خط میں نے ملکِ چین کے انجینئر لونگ ہونگ باؤ ،عمر35سال ،باشندہ ہیفی صوبہ آن ہوئی کے نام لکھا ہے ۔ واضح رہے کہ چین کے عوام ،دانش وروں ،ماہرین علوم و فنون،فن کاروں اور عالموں نے ہر دور میں اپنی تہذیب و ثقافت کو سنوارنے اور نکھارنے کا عمل جاری رکھا اور اپنے بیش بہا تجربات اور دریافتوں سے ایک عالم کو بہرہ مند کیا۔کاغذ ،بارود اورقطب نما جیسی انقلاب آفریں ایجادات چین ہی کے ذریعے دنیا تک پہنچیں۔دیوارِ چین چینی عوام اور کاری گروں کی مہارت اور جفا کشی کا ایک شاندار نمونہ ہے جس نے صدیوں سے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا ہے اور اب سی پیک پراجیکٹ میں معاونت کے لئے پاکستان کا رخ کرنے والے انجینئر لونگ ہونگ باؤ نے بلوچستان کے علاقے حب میں جان کا نظرانہ پیش کرکے دہشتگردوں کو یہ پیغام دیا کہ چینی ایک بہادر ،جفاکش اور وفادار قوم ہے جو پاکستان کی ترقی و خو شحالی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

پاک چین دوستی کا عظیم رشتہ سدا بہار،پُر اعتماد اور قابلِ رشک ہے ۔68 سال کے طویل عرصے پر محیط مثالی رفاقت کا آغاز1950میں ہوا جس میں وقت کے ساتھ بہتری آئی۔1966 میں فوجی تعاون،1972میں اسٹریٹجک تعلقات جبکہ 1979میں معاشی تعاون کی شروعات کے علاوہ دونوں ملکوں نے اکثر موقعوں پر ایک دوسرے کے حق میں آواز بلند کرکے دنیا بھر کو یہ تاثر دیا کہ پاک چین دوستی کا رشتہ محبت ،خلوص اور مہر و وفا کا استعارہ ہے اور دو طرفہ تعلقات جیسی لازوال مثال دنیا بھر میں کہیں موجو د نہیں۔کسی بھی رشتے کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے قربانیاں درکار ہوتی ہیں پاک چین دوستی کی سنہری تاریخ بھی کئی مزدوروں اور محنت کشوں کی قابلِ قدر قربانیوں سے مملو ہے لیکن جب سے انجینئر باؤ کا بادِ صبا میں کھِلے کسی پھول کی مانند ہنستے بستے چہرے پر مسکراہٹ سے مزّین تصویر میری نظرسے گزری ہے لگتا ہے کہ دل پر منقّش ہو گئی ہو اور جب بھی فرصت کے کسی حَسیں لمحے میں خیالوں کی دنیا میں کھو جاتا ہوں تو گماں ہوتا ہے کہ باؤ تصویر سے باہر نکل کر میرے پہلو میں آبیٹھا ہو اور مجھ سے کئی سوالات کر رہا ہو کہ جن کے جوابات دینا دوستی کے رشتے کا متقاضی ہے۔

میں نے اس کے مرنے کی خبر کل صبح ایک نیوز چینل کے توسط سے سنی تھی۔ میں اسے ہمارے سیاستدانوں کی طرح ہمسایہ ملک چین کے ایک جری سپوت کی ایک عظیم قربانی قرار دے کر یاایک لمحے کے لئے افسوس کے روایتی الفاظ ادا کرکے واقعے کو بھلا دینا چاہتا تھالیکن جب صبح دفتر پہنچ کر کمپیوٹر سکرین پر نظر پڑی تو سوشل میڈیا پرباؤ کی تصویر کو دیکھ کر کرب کی ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوا اور کوئی کام کرنے سے قاصر رہا ۔جبکہ رات کے پچھلے پہر سونے کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں تو اس کا چہرہ ایک دفعہ پھر میری نظروں کے سامنے نمودار ہواسو میں نے اس کے ہونٹوں پر رقصاں سوالات کے جوابات دینے کے لئے اسے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ مردے خط نہیں پڑھ سکتے جبکہ دورِ جدید کا تقاضا بھی یہی ہے کہ خطوط کا سلسلہ بھی اب تقریباََ مفقود ہو چکا ہے لیکن میں وہ ماضی پرست ہوں جو خط پر اکتفا کروں گا ۔امید ہے اگر کوئی دوسرا چینی مزدور اس خط کو پڑھے گا تو اسے مرنے والے کی آخری پوشاک کے بائیں طرف کی اندرونی جیب میں ڈال دے گا ۔جہاں باؤ کے پھول جیسے معصوم بچوں کی تصویر بھی ہے ۔جب متوفی کی آخری چیزیں اس کے وارثین کو واپس کر دی جائیں گی تو یہ خط بھی کسی نہ کسی طرح دیگر چیزوں کے ہمراہ ہیفی پہنچ جائے گا اور وہاں لونگ ہونگ باؤ کے رشتہ دار اسے پڑھیں گے اور پاکستان کے انتہائی شمال سے آئے محبت نامے کو فریم بنا کرباؤکی تصویر کے ساتھ ہی گھرکی دیوار کی زینت بنائیں گے اور پاک چین دوستی کے رشتے کو امر کر دیں گے۔

جس خبر میں باؤ کی موت کا ذکر تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ دہشتگردوں نے کوئٹہ سے 700کلو میٹر دور حب کے مقام پر اسے گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ باؤ ! تمھاری خاک و خون میں غلطاں لاش جب میری نظر سے گزری توایک لمحے تک حیرت کی تصویربنا رہا کہ وہ کون تھا کہ جس نے تمہاری ماں کی محبت کو تم سے چھین لیا ۔وہ کون تھا جس نے پاکستان کی تعمیر و ترقی سے مربوط تمہارے ارمانوں کو حب کی ویرانوں میں ملیا میٹ کیا اور وہ کون تھا جس نے تمہارے پھول جیسے بچوں کو مفارقت کا داغ دیا اور وہ کون تھا جس نے پاک چین دوستی کے مضبوط رشتے کی ڈور کو کاٹنے کی ناپاک کوشش کی۔

ایک اجنبی کے ہاتھ لکھے خط کو پڑھ کر حیرت تو ضرور ہوتی ہے۔یقیناًتمہیں بھی اس کا احساس ہوا ہوگا بہرحال میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع گلگت بلتستان کا شہری ہوں ۔گلگت بلتستان کا نام تم نے بھی ضرور سنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی چین سے 363.5میل پر محیط سرحد اسی علاقے کی توسط سے صوبہ سنکیانگ سے ملتی ہے۔گلگت کی شاہراہِ قراقرم دونوں ملکوں کی زمینی رابطے کی واحد ضامن ہے گو کہ شاہراہِ ریشم پر تجارتی سرگرمیاں تین سو قبل مسیح سے جاری ہیں لیکن 1978میں اس شاہراہ کی تکمیل کے بعد دونوں ملکوں کی تجارتی سرگرمیوں میں ایک انقلاب آیا اور اب سی پیک پراجیکٹ کی کامیابی کا دارومدار بھی اسی علاقے پر ہے اور چینی مصنوعات اسی شاہراہ سے گزر کر گوادر پورٹ پھر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہیں جبکہ پاکستانی عوام چین کی تیار کردہ اشیا ء کو دیگر ملکوں کی بہ نسبت اشتیاق سے خریدنے کے خواہاں ہوتے ہیں ۔اسی طرح تاریخ کے اوراق کو اٹھا کر دیکھا جائے تو چین کی تانگ عہد(907-618)عیسوی میں یہ خطہ چینی ریاست کا حصہ تھا اور معروف چینی سیا ح اور بدھ مت کے پیروکار فاہیان399ء جبکہ ایک اور چینی سیاح ہیون سانگ 627ء عیسوی میں اسی علاقے سے ہوکر انڈیا ،بنگلہ دیش اور سری لنکا پہنچے اور اس سفر کے ذریعے انہوں نے بدھ مت سے متعلق دستاویزات جمع کیں اور چین لے گئے۔

میں اپنا تعارف کراتے کراتے گلگت بلتستان کا قصہ سنانے لگا ۔ میں کہہ رہا تھا کہ میں قلم قبیلے کا ایک مزدور ہوں۔پاکستان کے انتہائی شمال اور چین کے انتہائی قریب ہونے کے باعث لگتا ہے کہ جیسے چین سے میرا کوئی روحانی اور فکری تعلق ہو ۔لوشون،ماؤتون ،توفو اور لی پائی جیسے روشن فکر ادباء وشعراء اپنی تحاریر اور نظموں میں مجھ سے ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے ہمسائے ہوں اور میرے ساتھ والے گھر میں رہتے ہوں جبکہ ماؤ زئے تنگ اور چواین لائی جیسی ہمہ جہت اور لائقِ تقلید شخصیات میری زندگی کے ہرمشکل موڑ پر آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ میں تمہارے ملک چین کبھی نہیں آیا لیکن تمہارے عظیم ملک کے خدوخال اور تمام تر رعنائی مجھ پر آشکار ہے اور جب بھی فرصت کے کسی حَسین لمحے میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ رات گئے ارمچی کے کسی بازار میں کسی بے گھر جوگی کی طرح آوارہ گردی کر رہا ہوں اور اب بھی تمہیں یہ خط لکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہیفی کی کسی منڈیر پر بیٹھا تم سے کلام کر رہا ہوں۔باؤ!یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آپ کا ملک 19ویں صدی کے درمیانی حصے میں مغربی ممالک اور جاپان کی خوفناک لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنا رہا اور رفتہ رفتہ نیم جاگیردرانہ اور نیم نو آبادیاتی معاشرے میں تبدیل ہو تا گیا پھر ایک صبر آزما جدوجہد اوربے پناہ مظالم سے گزرنے کے بعد 1949ء میں ایک عظیم انقلاب کا سورج طلوع ہوا۔اس انقلاب کے نتیجے میں تعمیر ہونے والی ریاست سٹالن اسٹ ماڈل پر تیار کی گئی ۔اس انقلاب کے باعث جاگیر داری اور سرمایہ داری کا خاتمہ ہوا اور منصوبہ بند معیشت استوار ہوئی جس کے ذریعے اس پسماندہ ملک میں نہایت قلیل عرصے میں تیز ترین صنعتی ترقی ہوئی ۔مضبوط معاشی انفراسٹرکچر تعمیر ہوا اور ہنر مند محنت کش طبقہ پیدا ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس دیوہیکل معاشی ترقی اور چینی قوم کی انتھک محنت کے نتیجے میں آج چین دنیا بھر میں ایک معاشی سپر پاور کے طور پر ابھرا ۔چین میں انقلاب سے قبل کی سی صورتحال کا سامنا برصغیر کے عوام کو بھی کرنا پڑا اور آج تک پاکستان اسی صورتحال سے دوچار ہے ۔چینی عوام نے طویل جدوجہد اور مدبرانہ سوچ و حکمت عملی کے باعث حقیقی طور پر آزادی حاصل کی لیکن آج پاکستان کے عوا م چین سے دو سال قبل آزادی حاصل کرنے کے باوجود دہشتگردی،مہنگائی،بے روزگاری اور غربت و افلاس جیسے مسائل کی غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے ہیں ۔باؤ!مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی عوام آپکے ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے علاوہ دیوہیکل معیشت کا دھنڈورا پیٹتے اور کہانیاں سناتے نہیں تھکتے لیکن چین میں قائم نظام کا نام ہی عوام کے ساتھ ساتھ مذہبی حلقوں کو ناگوار گزرتا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیں اسی نظام کا متلاشی ہونا چاہیے جو حقیقی معنوں میں عام عوام کے حقوق کی ضامن ہو ۔

میرے خط سے کہیں تم یہ نہ سمجھ لینا کہ مجھے تمہاری موت کا افسوس نہیں ہے ۔بات صرف یہ ہے کہ آج میری آنکھوں میں تمھارے لئے آنسو نہیں ہیں۔ میں اپنے آنسو بہت بہا چکا میں نے اپنے ملک میں اتنی غریبی اور سماجی نا انصافی دیکھی ہے کہ جسے دیکھ کر میرے آنسو ختم ہوگئے ہیں مگر میں تمہاری موت پر نہایت افسردہ اور سوگوار ہوں اور میرے دل میں تمہارے قاتلوں کے خلاف غم اور غصہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔آج میں ایک نہایت عزیزدوست سے مخاطب ہوں ایک ایسے ملک کا شہری جو ہر کڑے اور آڑے وقت میں بھا ئیوں کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا رہاحتیٰ کہ1965 اور1971کی پاک انڈیا جنگ میں میرے وطن عزیز کی بھرپور مدد کی ۔ہمیں ایک ایٹمی طاقت بننے میں مدد کرکے دنیا میں سر اٹھا کر جینے کا موقع فراہم کیایا جو کشمیر تنازعہ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہو اور جس نے 2013ء میں میرے ملک کو معاشی طور پر مستحکم اور غربت و بے روزگاری کے خاتمے کے لئے سی پیک جیسے پراجیکٹ کا آغاز کیا ۔ میں ایک ایسی عظیم دوستی کے مقدس رشتے سے منسلک ہمسایہ ملک کے ایک محنت کش کی اپنی زمین پر ناحق خون پر بھلا کیسے سکھی رہ سکتا ہوں

لون ہونگ باؤ! تمھارے سامنے اپنے دل پر لگے زخموں کے قصّوں کا پٹارہ کھول ہی دیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ تم نے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے جان کا نذرانہ دے کر دوستی کا حق ادا کیا اور امر ہوگئے لیکن پیارے!میں روز ایک موت کی سی کیفیت سے دوچار ہوں ۔آج تمھاری خاک و خون میں غلطاں لاش کو دیکھ کر ایک عجیب غم کی کیفیت سے دوچار ہوں اور فکرِ فردا کی کسک میرے دل کو مسلسل بے چین کر رہی ہے کہ کاش آنے والے دنوں میں کوئی ایسی صبح طلوع نہ ہوکہ جہاں تمہاری طرح گھر آئے مہمان کو لاش کی صورت میں اپنا ملک واپس جانا پڑے بلکہ ہمارے دونوں ملکوں میں امن و آشتی کا ایک ایساسورج طلوع ہو کہ جہاں حضرتِ انسان کا وجود کسی دوسرے انسان کے لئے خوف و وحشت کا باعث نہ بنے بلکہ ہمارے ملک کا رخ کرنے والے ہر فرد کے لئے بلا تفریق مذہب، رنگ ونسل امن وسلامتی کی ضامن ہواور میری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں پاک چین دوستی کا عظیم رشتہ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہو اور دونوں ملکوں کے لئے تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی ایک نئی جہت کی آغاز ہومگر اس کے لئے لازم ہے کہ دونوں ملکوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔کسی بھی قوم یا ملک سے تعلقات کو بہتر اور مستحکم کرنے کے لئے ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت ،ورثے اور زبان کو سمجھنا نہایت ضروری ہے لٰہذا اس ضمن میں تعلیمی اور ثقافتی وفود کے تبادلوں کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگاتے ہوئے دونوں ملکوں کی مادری زبانوں کو فروغ دینے کے لئے چین کو پاکستانی جامعات میں کنفیوشس سینٹرز اور پاکستان کو چینی جامعات میں اردو کے شعبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان ریسرچ سینٹرزکے مزید قیام کی ضرورت ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کو تعلیمی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان کسی بھی ملک کے مستقبل کا اثاثہ ہوتے ہیں سُو چین اپنی جامعات میں پاکستانی طلباء کے سکالر شپ کو ٹہ میں مزید اضافہ کرکے اور سی پیک پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے پاکستانی غیر ہنر مند افراد کو ووکیشنل اور پروفیشنل ایجوکیشن کے ذریعے ہنر مند بنا کر پاکستان سے بے روزگاری کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اسی طرح پاکستانی جامعات میں بھی چینی طلباء کے لئے تعلیم کے مواقع پیدا کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔پاکستان اور چین کی جامعات کی اسناد دونوں ملکوں میں قابلِ قبول ہونی چاہیے اوردونوں ملکوں کی جامعات میں پاکستان سٹیڈیز اور چائینہ سٹیڈیز کے نئے شعبے متعارف کرائیں جائیں تاکہ دونوں ملکوں میں برادرانہ تعلقات قائم ہو سکیں ۔

باؤ! ضرورت اس امر کی ہے کہ دونو ں ملکوں کے عام عوام میں قربتیں بڑھائی جائیں کیونکہ جب دوستیاں بڑھتی ہیں تو اسی تناسب سے جغرافیائی اور ذہنی دوریاں کم ہو جاتی ہیں لٰہذا دونوں ملکوں کے شعراء و ادباء،فنکاروں ،سرمایہ کاروں،ماہرین تعلیم اور ماہرین زراعت کے مطالعاتی دورے کرائیں جائیں اور خصوصاََپاکستانی وفود کو چین کی لائبریریوں کا ضرور رخ کرایا جائے تاکہ دونوں ملکوں کی ثقافتوں کا روشن پہلو اجاگر ہو سکے جبکہ دونوں ملکوں کو معاشی،زرعی ،صنعتی،تجارتی اور توانائی کے شعبوں کے علاوہ سائنسی تحقیق ،مضبوط انفراسٹرکچر اور دہشت گردی کے روک تھام میں باہمی تعاون خصوصاََ پاکستان کو چینی مزدوروں اور انجینئروں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں تمہارے جیساکوئی معمار وطن سے میلوں دور دہشتگردی کا شکار نہ ہو۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب پیداوار متاثر ہوتی ہے چین اس شعبے میں پاکستان کے ماہرین زراعت کی تکنیکی مدد کرے تو خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح پاکستان کو اس وقت بجلی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے لیکن ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں پانی کے ذخائر کو بروئے کار لایا جائے تو 50000میگا واٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے پاکستان اس شعبے میں بھی چینی مدد حاصل کرکے بجلی کی کمی سے متعلق مسائل کے حل کو یقینی بناسکتا ہے اس کے علاوہ گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے نہ صرف دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے بلکہ بدھ مت کے آثار و نوادرات کے حوالے سے بھی پاکستان کے دیگر شہروں لاہور،ٹیکسلا،دیر اور پشاورکی طرح اہمیت کا حامل ہے جو چینی محققین اور ماہرین بدھ ازم کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں ایسے اثاثہ جات نہ صرف دونوں اطراف کے لوگوں میں تعلقات کا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ سیاحت کو بھی فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔دنیا کے اقتصادی ماہرین کے مطابق سی پیک سے جہاں دنیا بھر کی تین ارب آبادی کو فائدہ ہوگا وہاں پاکستان اور چین کے سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کی نئی راہیں ہموار ہوئی ہیں لٰہذا دونوں ملکوں کے سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ چین جرنلزم کی انڈسٹری میں زیادہ متحرک نہیں ۔چین کی معاشی سپر پاور بننے کے بعد ایک فعال نیوز ایجنسی اور ٹی وی چینل کی اشد ضرورت ہے جو پاکستان اور چین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا بھی موثر جواب دے سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments