شیر خدا  کی شیر دل بیٹی حضرت زینبؑ

تحریر: ایس ایم شاہ

تاریخ بشریت میں  چند خواتین ایسی آئی ہیں جنہوں نے ایک تاریخ رقم کرلی ہے۔ جناب مریم، جناب آسیہ، جناب خدیجہ،  جناب فاطمہ زہر اکے بعد حضرت زینب ؑہی وہ  عظیم ہستیاں ہیں کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج تک آپ کا کوئی ثانی نہیں ۔ اس  میں جہاں آپ کے نسب کا اثر ہے تو ساتھ ہی حسب بھی بے مثل ہے۔آپ کی ولادت باسعادت کے بارے میں کئی اقوال ہیں ان میں سے سب سے مشہور ٥جمادی الاوّل  ٦ہجری ہے۔آپ کا نام  بھی آپ کے جد نامدار حضرت محمدؐ نے“ زینب” رکھا؛ یعنی باپ کی زینت۔ آپ کے مختلف القابات میں سے “عقیلہ” سب سے مشہور ہے۔ آپ ماں باپ دونوں طرف سے ہاشمی ہیں۔ وراثت،نسب،حافظہ، معاشرہ اور ارادے سے مربوط تمام عوامل جو ایک انسان کی تقدیر ساز حیثیت کی حامل ہیں، بطور اتم آپ میں موجود تھیں۔   یہی وجہ ہے کہ آپ حیا میں حضرت خدیجہؑ کی مانند، عفت  میں اپنی مادرگرامی  حضرت فاطمہؑ جیسی اور فصاحت و بلاغت میں اپنے والد گرامی  کی شبیہ تھیں، حلم اور غیر معمولی صبر میں آپ اپنے بھائی حسنؑ سے مشابہت رکھتی تھیں  اور بہادری و قوت قلبی میں آپ حسینؑ کی مانند تھیں۔ آپ نے ایک ایسے معاشرے میں پرورش پائی،  جو مرکز عظمت و کمال کی حیثیت رکھتا تھا۔ پورے معاشرے کو ان کی فضیلت نے پاکیزگی اور سچائی سے بھردیاتھا۔آپ کی نشو ونما مدینے میں  حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کے ہاں انجام پائی۔ ابتدا میں آپ نے رسول خدا ﷺ کے نور کے سائے میں پھر حضرت فاطمہؑ و حضرت علیؑ کے یاروں اور خاندان نبوت کی ممتاز خواتین اور ان کی شاگردوں کے زیر سایہ پرورش پائی۔ بنا بریں آپ نے رسالت و  امامت کے گھرانے میں آنکھیں کھو لیں اورآپ نبوی، علوی اور فاطمی خصائص و کمالات کی وارث قرار پائیں۔ آپ کے جد امجد محمد مصطفی ﷺ مالک کون و مکان ہیں،        آپ کی نانی  ام المؤمنین حضرت خدیجہ کبریٰ ہیں،  آپ ہی وہ خاتون ہیں کہ  جس نے سب سے پہلے پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں، دین اسلام کو قبول کیا اورسب سے پہلے رسول اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھی،  آپ کے والد بزرگوار علی مرتضیٰ حق و باطل کی شناخت کا معیار اور مؤمن ومنافق کی پہچان کاپیمانہ ہیں،  آپ کی والدہ ٔ ماجدہ زہراء مرضیہ زنان عالم کی سربراہ اور آپ کے دو بھائی حسنؑ و حسینؑ بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ اس طرح حضرت زینبؑکی شخصیت  ایک باکردار اور شخصیت ساز گھرانے میں تشکیل پائی۔ آپ کے بارے میں حضورؐ کا ارشاد پاک ہے کہ “اس بیٹی کا احترام کیا کرو کیونکہ یہ خدیجہ کبریٰ کی مانند ہیں”۔حضرت خدیجہؑمیں جتنی خصوصیات پائی جاتی تھیں وہ تمام خصوصیات کامل طور پر حضرت زینبؑ میں بھی پائی جاتی تھیں۔  آ پ کے والد بزرگوار  نے  آپ کی شادی آپ کے چچازاد بھائی ،سخاوت کے دریا جناب عبد اللہ بن جعفر طیارسے کرائی ۔شادی کے بعد حضرت علیؑ ہر روز آپ کے دیدار کے لیے جناب عبد اللہ کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اورآپؑ جناب عبداللہ ا ورحضرت  زینبؑ کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔ جو سلوک آپؑ اپنے دو صاحبزادے ؛ حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑسے روا رکھتے ،  وہی رویہ  جناب عبد اللہ بن جعفر  سے بھی روا رکھتے  تھے۔ جب بھی حضرت زینبؑاپنے جدنامدار حضرت رسول خداؐکی زیارت کے لیے مسجد کا رخ کرتی تب  امام حسنؑ ایک طرف اور امام حسینؑدوسری طرف ان کے ساتھ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ امیر المؤمنینؑکسی کو مسجد کی طرف بھیجتے تاکہ وہ مسجد کی لائٹوں کو بند کرے کہ کہیں کسی نامحرم کی نظر اس مخدرہ عصمت  پر  نہ  پڑے ۔جناب عبداللہ سے شادی کے بعد خداوند متعال نے آپ کا دامن متعددموتیوں سے بھردیا۔ ابن سعد کے قول کے مطابق آپ کےپانچ بچے تھے:علی، عون، عباس،  محمد اور  ام کلثوم۔ انسان کی کامیابی کا راز خواہ مرد ہو یا عورت، اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں وقت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پر منحصر ہے۔ان خواتین کو ایک خاص امتیا ز اور کامیابی نصیب ہوگی جو اپنے بچے کو بااخلاق اور مہذب بناکرایک بہترین ماں ہونے کا ثبوت دیں۔آپ نے اپنی مادر گرامی کی سیرت کو اپناتی  ہوئی ان دونوں پہلوؤں کی طرف خصوصی توجہ دی۔ در نتیجہ آپ ایسے بچوں کی تربیت کر گئیں کہ حضرت عون  و محمد کربلامیں امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ کی ایک صاحبزادی امّ کلثوم تھی۔ ان کی شان میں کہا گیا ہے کہ آپ حسن وجمال، کمالات معنوی،عقلمندی اورتیز فہم ہونے میں معصومینؑ کے علاوہ باقی خواتین  میں بے مثل تھیں۔لہذا تمام مسلم خواتین کو آپ کی مانند اپنےبچوں کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

آپ اپنے گھر کا سار اکام خود انجام دیا کرتی تھیں۔آپ کے شوہر حضرت عبداللہ صاحب  استطاعت  اور صاحب جاہ و حشم کے مالک ہونے کے باوجود بھی  آپ نے  ان کوکبھی  گھر میں خدمت گار رکھنے نہ دیا اور تمام گھریلو امور عبادت سمجھ کر آپ خود انجام دیتی رہیں۔ یوں آپ قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نمونہ عمل  قرار پائیں۔ آپ نے اس حقیقت کو عملی جامہ پہناکر دکھا دیا کہ  عفت کے پردے میں رہ کرگھریلو امور کو انجام دینا نہ صرف معیوب نہیں بلکہ بہترین عبادت ہے۔

اخلاق اور روحانی زاویے سے بھی آپ اعلیٰ مقام پر فائز تھیں۔ آپ خضوع وخشوع اور عبادت و بندگی کے اعتبار سے اپنے پدر بزرگوار اور مادر گرامی کی حقیقی وارث تھیں۔ اکثر راتوں میں  آپ تہجد کی حالت میں صبح کرتیں۔ آپ ہمیشہ قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ آ پ کی شب بیداری اور تہجد کا سلسلہ پوری زندگی میں کبھی قطع نہیں ہوا۔حضرت سجادؑ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کی گیارھویں کی شب بھی ان تمام دلسوز مصائب و آلام اور تھکا وٹ کے باوجود بھی میں نے اپنی پھو پھی جان کو جائے نماز پر مشغول عبادت پایا۔ روایات کے مطابق آپ کی ایک عظیم خصلت ایثار ہے۔عاشورکے بعد بھی آپ ایثار کا پیکر بن کراپنے حصے کا کھانا بچوں میں بانٹ دیا کرتی اور خود بھوکی رہتی تھیں۔ آپ اپنی عفت اور حجاب کے لحاظ سے یگانہ تھیں کیونکہ اپنے والد بزرگواراور بھائیوں کی زندگی میں عاشور کے دن تک آپ پر کسی نامحرم کی نظر  نہیں پڑی تھی ۔ یحیی مازنی کا کهناہے کہ“میں نے کافی مدت مدینے میں حضرت علیؑکی ہمسائیگی میں زندگی گزاری۔ خداکی قسم !میں نے اس طولانی مدت میں کبھی بھی زینبؑ کو نہیں دیکھااور نہ ہی آپ کی کوئی آواز ہمارے کانوں سے ٹکرائی ”۔ صبر کے تو  آپ پہاڑ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد  جب آپ اسیر ہوکر  ابن زیاد کے دربار میں پہنچی تو اس نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ تمہارے خدا نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ تب آپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “میں نے خدا سے  اچھائی کے سوا  کچھ نہیں دیکھا”۔  آپ نے بھایئوں اور بیٹوں کو خدا کی راہ میں شہید ہوتے دیکھا،صبر کیا، اموال کو غارت ہوتے دیکھا، صبر کیا۔شہداء کے بچوں بچیوں کو پایا اور ان کو  اسیر ہوتے دیکھا،صبر کیا۔بھوک، پیاس،قتل وغارت گری، توہین، اسیری اور شہداء کے بدن کو بے گورو کفن  دیکھا، ان کے سروں کو نیزے پر بھی دیکھا، ان  تمام مواقع پر بھی صبر کیا ۔عام انسانوں کے لیے ایسے وقائع کا تصور کرنا بھی مشکل  ہوتاہے اور اس کا جگر خون هوجاتا هے۔   آپ مقام رضا پر فائز تھیں یہی وجہ ہے کہ جب آپ اپنے بھائی کی لاش پر پہنچیں تب اس خون میں لت پت لاش کو سینے سے لگاکر  خدا سے دعا کرتی ہیں:“ خدایا! ہماری طرف سے اس قلیل قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ عطا فرما”حضرت زینبؑ کی طینت ، طینت رسول اللہ ہے اور آپ نے جہاد بالنفس کے ذریعے لذائذ حیوانی کو ترک کر کے ایک ایسا مقام حاصل کیا جسے“عصمت صغریٰ” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔عصمت صغریٰ کامقام اولیائےالٰہی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ عصمت مجاہدۂ نفس اور لذائذ حیوانی کو ترک کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اسی قول کو آیت اللہ تبریزی اور آیت اللہ خوئی دونوں نے قبول کیا ہے۔یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپائمہ معصومینؑ کے بعد ایسی باعظمت ہستی ہیں جو عصمت کے دوسرے درجہ پر فائز ہیں اور دوسرے تمام نیکو کاروں اور پرہیزگاروں پر برتر ی رکھتی ہیں۔ آپ تمام مسلمان خواتین کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں اور  وہ اپنے دینی معاملات میں آپ کی طرف رجوع کیا کرتی تھیں۔ آپ انہیں درس تفسیر دیا کرتیں ، حلال و حرام بیان فرماتیں اور ان کے سوالات کے جواب دیا کرتی تھیں۔ آپ نے حلال و حرام کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا اور مشتبہ امور کو ترک کرنے کی تلقین فرمائی۔فصاحت و بلاغت تو  آپ کو اپنے والد گرامی سے ورثےمیں ملی تھی۔ جب بھی آپ کسی سے بات کرتیں  تب مخاطب گمان کرتاکہ شاید آپ کے والد بزرگوار ان سے بات کر رہے ہیں۔آپ نے اپنے منطقی، ولولہ انگیز اور بامعنیٰ خطبوں  سے اپنے انقلاب کا آغاز کیا۔ اس کا سب سے پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ نبیﷺ کے خاندان کو ایک ایسے خطرناک مرحلےسے نجات دلادی جس کی دشمن دھمکی دے رہے  تھے۔کیونکہ ہر لحظہ یہ خطرہ رہتاتھا کہ ابن زیاد کہ جس کا باطن خباثت اور اہل بیتؑ کی دشمنی سے پر تھا،  ابھی فتح کے نشے میں مست بیٹھا تھا ،کہیں ان کے قتل کا حکم صادر نہ کردے۔آپ نے ایسے موثر اور ماہرانہ انداز سے گفتگو کی کہ کوفے کے لوگوں کو مجہول الاصل  اولاد  زیاد کی حکومت سے کوسوں دور کردیا ۔ آپ نے اپنے خطبوں، بیانات، احتجاجات اور مجالس عزاکے ذریعے امام حسینؑ کے اہداف کو لوگوں پرواضح  کرکے رکھ دیا، امام کےپیغام کو سادہ لوح افراد تک پہنچایا۔ آپؑ نے کوفے میں اسیری کی حالت میں جو خطبے دیے ان سے بنو امیہ کے ہاتھوں کربلا میں سید الشہداء کی شہادت اور دوسرے تمام جرائم کا پردہ چاک ہوا۔ آپؑ نے بنو امیہ کے فریب، دھوکے اور ان کے ظلم وستم کی حقیقت کو فاش کیا۔ کوفے والوں کو ان کی عہد شکنی اور تاریک مستقبل کی طرف متوجہ   کراکےان کے درمیان انقلاب پیدا کردیا۔ ظالم، غاصب اور فریب کار حاکموں کی طاقت کی بنیادوں کو  ہلاکر رکھ دیا۔ آخر کار واقعہ کربلا  اورامام حسینؑ کی شخصیت اور ان کے اہداف اور ان  کے مددگاروں کے اہداف کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ شہیدوں کے  پیغام کو غفلت اور دھوکے میں پڑےہوئے افراد پر واضح کردیا  تاکہ اسیری اور خطبوں کا تسلسل، شہادت اور عاشوراکے پیغام کو دوسرے مراحل تک پہنچانے کاسبب بنے۔پس مدینے سے مکہ پھر مکے سے کربلا تک امام حسینؑ کا امتحان تھا، جس میں آپؑ سرخرو  ہوئے، عصر عاشور سےحضرت زینبؑ کا امتحان شروع ہوا، کربلا سے کوفہ، کوفے سے شام،  شام سے دوبارہ کربلا پھر مدینے سے باعزت نکلنے والا اہل بیتؑ لٹا  ہوا یہ  قافلہ تمام بھائی بیٹوں سے محروم ہوکر حضرت امام سجادؑ اور حضرت زینب ؑ کی قیادت میں مدینہ پہنچا۔ غرض آپ پیغمبر کربلا ہیں۔ آپ نے زندان شام میں ہی عزاداری امام حسینؑ کا اہتمام کیا،رہائی کاحکم ملتے ہی  چند روز تک شام  کی خواتین کو امت رسول کی آل رسول کے ساتھ سلوک کا تذکرہ کرتی رہیں۔  جب لوگوں میں آگہی بڑھتی گئی اور آل  رسول کی معرفت میں اضافہ ہوتا گیا تو یزید کی حکومت  کاتختہ الٹنے کا خطرہ لاحق ہوا  پھر اس نے مجبور ہوکر اہل بیت اطہارؑ کو رہا کر دیا۔ یوں تمام مسلمانوں کے لیے عزاداری امام حسینؑ حضرت زینبؑ کی ایک اہم امانت ہے ۔اسی وجہ سے شاعر نے کیا خوب کہا ہے: “کربلا  کے واقعے میں رنگ دونوں نے بھرا  ابتدا شبیرؑ نے کی انتہا زینبؑ نے کی”          آپ کی رحلت اور مدفن کے بارے میں بھی کئی اقوال ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ نے62ہجری، رجب المرجب کی پندرھویں کو رحلت فرمائی اور آپ کو  شام میں دمشق کے مقام پر دفنا دیا گیا۔ جہاں آج بھی ہزاروں لوگ آپ کی زیارت سے شرفیاب ہورہے ہیں۔

(اس آرٹیکل کی تالیف  میں  “شخصیت حضرت زینبؑ”، سید حسین- سید محمد علی شاہ، سے استفادہ کیا گیا ہے)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments