ستائش کے دہلیز پہ شکوئے

اعجاز ہلبی 

ٓہمارے ملک کا روز اول سے یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں ترقیاتی منصوبوں کے نقشہ سازی میں مستقبل بعید تو کجا ؟ مستقبل قریب کے محرکات کو بھی نظرانداز کیا جاتا ہے مثلا روڑ بنا نے کے بعد سیوریج بچھانے کے لیے روڈ کا کھودنا ، مارکیٹ تیار ہونے کے بعد پارکینگ کا سوچنا وغیر ہ آجکل پورے ملک میں تجاویزات کے خلاف جاری کاروائی اس بات کا عملی ثبوت ہے او ر اس غیردانشمندانہ منصوبہ بندی کی وجہ سے سب سے زیادہ پریشانی قانون نافذکرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ کو دریپش ہے۔ گلگت بلتستان کے مارکیٹس اور بازار ایریاز میں آج کل گاڑیوں کی تعداد میں روز بہ روز بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے پیدا شدہ پارکینگ کے مسائل کو لے کر مقامی انتظامیہ اور پولیس انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے۔ گاہکوچ بازار کا شمار بھی ان ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں ہوتا ہے جہاں گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ انتظامیہ کے لیے باعث پریشانی ہے۔ عوام کو ان مسائل سے بروقت نجات دلانے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ذمہ دراں ، عملے کے ساتھ مسلسل مصروف و معمور بگشت ہے۔ اور بلا امتیاز رنگ ونسل اور منصب ، قانون شکن افراد کے خلاف کاروائی کرتے رہتے ہیں۔اس سلسلے کی سب سے دلچسپ واقع یہ ہوا کہ جمعے کے صبح ڈسٹرکٹ کورٹ گاہکوچ کے سامنے نوجواں نائب تحصیلدار ثاقب احمد نے قانون شکنی کے پاداش میں سٹی تھانہ گاہکوچ کے پولیس وین کا چالان کردیا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے نائب تحصیلدار صاحب کی اس غیر جانب دارانہ اقدام پر شاباش دی اور ائندہ کے لیے انبوہ امیدیں وابسطہ کی۔ یہ واقعی ایک احسن قدم اس لیے بھی ہے کہ قانون کے محافظوں کو یاد دلایا گیاکہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

ہم اپنے سرکاری اہلکاروں ، مقامی انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی کا دگرصوبوں کے اہلکاروں سے تقابلی جائیزہ لے لے تو ہمیشہ سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ یہاں ڈسپلین ہے، انصاف ہے، برابری ہے، احتساب ہے اور سب سے بڑھ کر قابلیت اور معیار ہے۔ ۔ اس کی وجہ شاید یہاں کے نوجواں بیوروکریٹس کا حب الوطنی ہے۔ جو اپنے کام کو نوکری سے زیادہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کی موجودگی ، انکساری ، عاجزی اور خوداری سے عبارت ہے۔ لیکن ستائش کی دہلیز پہ شکوہ یہ ہے کہ۔اس طرح کے قابل انتظامیہ کے ہاتھوں میں معقول واسائل ہونے کے باوجود۔۔۔

روڈ کی منٹیننس پر کوئی توجہ نہیں حالانکہ سالانہ ایک ملین سے زائد رقم مختص ہوتا ہے۔

غذر روڈ کے شروغ سے اخر تک ایک بھی ٹریفک سائین بورڈ نہیں اور نہ ہی حد رقتار متعین ہے

خطرناک موڑوں اور نکڑز پر حفاطتی حصار کا کوئی بندوبست نہیں

مرمت طلب جگہوں پرعشروں سے کوئی کام نہیں ہورہا ہے ۔

کم عمر بچوں کی ڈراونیگ پر کو پابندی نہیں

ؓبازار ایریا میں گاڑیوں کی حد رفتار مقرر نہیں

ڈرائیونگ لرنینگ سکول کا کو ئی بندوبست نہیں وغیرہ وغیرہ

ان مذکورہ چیزوں کی اہمیت بہت وسیع ہے۔ ان میں بعض تو ریونیو جنیریشن کا بہترین زریعہ بھی ہیں مثلا ڈرائیونگ لرنینگ سکول کا قیام ، حد رقتار کا تعین کرنا اور کم عمر ڈرائیورز پر پابندی لگانا۔ روڈ کی منٹیننس پر توجہ علاقے کی خوبصورتی کا موجب بن سکتا ہے۔ حفاطتی حصار اور حد رقتار کا تعین کرنا ٹریفک حادثات کو بہت حد تک کم کرسکتا ہے۔ روڈ دیویلپمنٹ فنڈز کی مد میں گورنمنٹ ہر سال معذو ر دیکھائی دیتی ہے۔ او ر تاخیری حربے ازمانے پر مجبور ہوتی ہے۔ اور اب بھی یقیناً دسٹرکٹ گورنمنٹ ان کاموں کے لیے خطیر رقم کا نہ ہونا جواز بنائے گی۔ لیکن خلوص اور عظم مصمم ہو تو ہرکام کا حل موجود ہوتاہے۔ اس طرح کے کاموں کا حل ہمیشہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فارمولے سے نکلتاہے۔ مثلا اگر تمام گاڑیوں سے ماہانہ ۳۰۰ روپے روڈ منٹیننس فیس کے نام پہ جمع کیا جائے جیسا کہ خیبر پختوننخواہ میں ہے۔ تو ایک محتاط اندازے کے مطابق غذر میں ۱۶۰۰۰ گاڑیاں موجود ہیں۔ ان سے ممکنہ ماہانہ امدنی ۴۸ لاکھ روپے اور سالانہ پانچ کروڑ چھہتر لاکھ روپے ہوسکتی ہے۔ اس جمع شدہ رقم کو کارپٹینگ اور مرمت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس پروجیکٹ سے آغاخاں رورل سپورٹ پروگرم کا ماڈل یا خود ا دارہ ہذا کی خدمات حاصل کر کے رحیم یار خاں شہر کے طرز کا ماڈل بنا سکتے ہیں۔ اور یہ امید قوی ہے کہ ثاقب احمد جیسے پر عظم نوجواں افیسرز اور ان کے روشن خیال حکام بالا (بیوروکرٹس) ذکر شدہ مسائل کو اولین ترجعی بنیاد پرحل کرینگے ۔ یہ ان کیلیے اور علاقے دونوں کے نیک نامی کے لیے بہت اہم ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments