غذر میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ

غذر (رپورٹر) محکمہ برقیات کے حکام کی نااہلی غذر میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے گلمتی اور سینگل پاور پراجیکٹ کی تعمیر کا کام التوا کا شکار۔ ان اہم منصوبوں کے رقم مختص ہونے کے باوجود کام کی رفتار ست روی کا شکار ہے۔ سالانہ بجلی کی مشینوں کی مرمت کی مد میں لاکھوں روپے خرچ ہونےکے باوجود مشینوں کا خراب ہونااور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بجلی کے تین اہم منصوبوں پر کام التوا کا شکار ہوگیا۔ ان اہم منصوبوں کے مکمل ہونے سے پورے ڈسٹرکٹ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمہ کا امکان تھا مگر اس وقت سینگل دو میگاواٹ، گلمتی ڈیڑھ میگاواٹ پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کام کی اس طرح بندش رہی تو ان منصوبوں کے مکمل ہونے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔ چونکہ گلگت بلتستان میں تعمیراتی کام کے لئے صرف چھ ماہ ہوتے ہیں اس کے بعد سردی کی آمد کے ساتھ ہی سردی کا بہانہ بناکر تعمیراتی کام کو روک دیا جاتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ کہ غذرمیں چار میگاواٹ پاور پراجیکٹ کے مختلف اہم منصوبوں پر کامسست روی کا شکار ہے جس باعث یہ اہم منصوبے مزید تاخیر کا شکار ہونے سے ایک طرف حکومت کو نقصان ہورہا ہے تو دوسری طرف عوام کو بجلی کی عدم فراہمی سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو بروقت مکمل کیا گیا تو غذر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بڑی حدتک کمی آسکتی تھی۔

دوسری طرف عوام کی نظریں سینگل اور گلمتی پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر تھی مگر ان منصوبوں پر کام بھی کچھوے کی رفتار سے جاری ہے اگر یہ منصوبے بروقت تعمیر نہ ہوئے تو غذر میں بجلی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments