سانحہ گونر فارم اور چلاس ہسپتال

تحریر : ضیاء اللہ گلگتی

27۔ اکتوبرکو صبح گلگت سے مردان جانے والے بدقسمت سوزوکی کو ضلع دیامر کے حدود گونر فارم کے مقام پر جمی برف سے ٹائر پھسل کر گہری کھائی میں جاگری سوزوکی میں ٹوٹل 9سوار تھے۔جس میں سے تین موقع پہ ہی جان کی بازی ہارگئے۔۔ سانحہ گونر فارم میں پیش آنے والے واقعات میں اہل دیامر والوں نے انسانیت کے ناطے اپنے بساط کے مطابق جو ان سے ہوسکتے تھے وہ خدمت کرکے دکھایا۔مصیبت کی اس گھڑی میں مردان سے تعلق رکھنے والے پردیسی مہمانوں کے دکھ میں برابر شریک رہے۔اس میں ریسکو 1122 والوں نے بھی انتہائی پھرتی اور جلد سے جلد ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوے، ریسکو 1122 والے بھی مبارک باد کے مستحق اللہ ان کو جزائے خیردے۔اور مقامی لوگوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت ہمدردی محبت اور بھائی چارگی کی مثال قائم کردی۔ جب مقامی لوگوں نے سوزوکی میں پھسے ہوئے ڈرائیور کو نکل کر اس سے پوچھا آپ چلاس میں کسی کوجانتے ہیں،تو ڈرائیور نے کہاکہ شیرافضل عرف جیلا کو جانتاہوں اور کسی کو نہیں جانتاہوں، جب اس سے شیرافضل کے نمبرمانگ کر رابطہ کیاکہ توشیرافضل عرف جیلا کاتعلق کھنر تھلپن اور سابق چیئر مین لالمست خان کا بھانجا نکلا،وہ فوراً جائے وقوعہ پہ پہنچ کر زخمیوں کو لیکر چلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا۔ چلاس سرکای ہسپتال میں دروازے سے داخل ہوتے ہی انسان کو یہ احساس ہوتاہے کہ وہ کسی ہسپتال کی بجائے جیل میں پہنچ گیاہے۔ایمرجنسی وارڈ میں ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کو لیٹاہوا دیکھ کر مریضوں اور ان کے لواحقین کی بے بسی اور لاچارگی کا احساس دل کو زخمی کردیتاہے۔شیرافضل وارڈز کہ اندر داخل ہوکر جب سرجن اکرام اللہ سے بات کرکے کہا کہ ڈاکٹر صاحب زخمی کی طبیعت مسلسل بگڑ رہی ہے،تو سرجن موبائل فون پر گپ شپ اورہنسی مذاق میں مصروف نظر آئے۔دوسری طرف زخمی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں چلے جانے کااندیشہ ہے۔سرجن کی بے حسی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے شیرافضل کے دماغ گھومنے لگا بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گیا۔اب شیرافضل بھی سمجھ گیاکہ یہ سرجن بناء چماٹ کھائے سمجھنے والاہی نہیں۔سرجن کی ھٹ دھرمی اور بے وقوفی کی وجہ ایک زخمی موت کے منہّ میں چلاگیا۔اس کے بعد شیرافضل نامی نوجوان نے اکرام اللہ نامی سرجن صاحب کی طبیعت بھی ٹھیک کر کے بھیج دیا۔اصل میں اکرام اللہ نامی سرجن منسٹر حاجی جانباز کا بھتیجاہے۔وہ اس اندوہناک موقع پہ بھی اپنے سیاسی روپ دھارنے پہ تلا تھا۔ لیکن چلاس کے سر جن صاحب کو یہ بات کون باور کرائی کہ وہ ایک مقدس پیشے سے وابستہ ہیں جو عبادت اور خدمت کے زمرے میں آتاہے،ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بھی پرائیویٹ کلینک کا وقت دیتے ہیں،تاکہ ان کی آمدنی میں روز افزوں اضافہ ہوتاچلا جائے جو ڈاکٹرمعروف ہوتا ہے اس کی پرائیویٹ فیسوں میں ہر ماہ اضافہ ہوتارہتاہے۔ہسپتالوں کا ایم ایس چاہیے کتنا دردمند،ہمدرد اور خوش اخلاق ہو مریض جب متعلقہ ڈاکٹر کے پاس ہے تو اسے پریشانی اور مشکل پیش آتی ہے،کیونکہ ڈاکٹر ہسپتالوں میں چند گھنٹے گزارنے کیلئے آتے ہیں انہیں پرائیویٹ کلینک جانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ہسپتالوں کی راہداری اور گزرگاہوں میں لاچار اور شدیدتکلیف میں مبتلا مریضوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے،لیکن ڈاکٹروں کا اپنا شیڈول ہوتاہے وہ تو مرض کی نویعت دیکھ کر مریض چیک نہیں کرتے،بلکہ اپنی سہولت اور دلچسپی سے ہی کام کرتے ہیں۔اگر کوئی تعلق یاسفارش والا مریض آجائے تو وہ گھر سے بھی اسے چیک کرنے آجائیں گے،لیکن اگر کوئی پردیسی روڈ پہ ایکسڈنٹ ہو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو،اسے دوسرے دن یا پرائیویٹ ہسپتال کا وقت دیتے ہیں،تب تک اس کے جان چلی جاتی ہے، جس طرح چلاس کے سیاستدانوں میں ہمدردی،خلوص اور احساس کی کمی ہوگئی ہے ڈاکٹر بھی اس میں سر فہرست ہیں ہمارے معاشرے میں اسلامی جذبہ خدمت،اقدار روایات کی پاسداری ماند پڑچکی ہے ہر ڈاکٹر اپنے جاننے والے کے لیے سب کچھ کرتاہے دوسرے بھائی کی بھلائی اور اس کی پریشانی کی سد باب سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔یہی قباحتیں ہمارے زہنوں میں رچ بس چکی ہے۔جس کی وجہ سے ہرشعبہ زندگی میں انحطاط اور زوال بڑھ رہاہے۔جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے۔چلاس کے اکرام اللہ نامی معروف سرجن کو پردیسی امیر غریب کی کوئی تمیز نہیں رہی۔مریض مررہا ہو تو اس کا علاج شروع کرنے سے پہلے اپنے روپ اور برم جمانے کی کوشش کرتاہیں۔ چلاس میں شعبہ صحت کی بدحالی کے زمہ دار صرف حکمران ہی نہیں،اس تباہی میں چلاس کے مقامی نمائندے،ہسپتال کے انتظامیہ،ڈاکٹرز و دیگر سٹاف بھی برابر شریک ہیں۔ کسی بھی ہسپتال کا سب سے اہم شعبہ ایمرجنسی ہوتاہے جہاں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف سمیت سہولیات کی مکمل فراہمی اولین ترجیح کادرجہ رکھتی ہے۔لیکن ہماری حال کچھ یوں ہوتی ہے کہ ایمرجنسی کے بیڈز کی چادریں جلدی تبدیل نہیں کی جاتیں اور ان پر پڑے خون کے دھبے بتارہے ہوتے ہیں کہ زخمی نے کس طرح ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یہاں دم توڑا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments