غالب آج بھی غالب ۔۔۔۔ 

کاغذی پیرہن میں ملبوس ان پیکرشوخ نقوش کو کیا ثبات ، مرزا کو ہم سے گئے مدت ہوئی۔وہ کیا دن ہوں گے جب کہ دہلی میں اسد نیم جاں ، ضعف بدوش و جاں بکف عصا ٹیک ٹیک کر سرراہ دم بھر کو سستانے بیٹھے تو دام شنیدن بچھاکر گردش چرخ نیل فام کی اور ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے۔ ان منزلوں کی اوٹ میں ڈھلتے روزوشب کی مدعائے عنقا کو خوب سوچا کرتے تھے ۔ خوب تو یہ کہ اس سہل و پرکیف زندگی سے بھی وہ نادم و نالش دیکھائی دے ہیں۔آشفتگی کا عالم یہ کہ ذکرِ پری وش سے نقش سویدادرست کیاکرتے۔ جن کے ہجرووصال میں اندرون مکتب غم دل ایک ہنگام و آشوب سابپا رہتا ۔ وہ جن کی وصال میں دورہ بادہ و جام کے رنگ ہیں تو انہی کی ہجرسے سوزنہاں کو سوزش و تاب۔ گومرزا کے ہاں ذوق وصل ورنج ہجر ہرچند میں بادہ وسبو لازم ہے۔ پندار محبت کا بھرم ایسا کہ عشاق و یاراں کے درمیاں نامہ بر کے ناز نخرے تک کافروگزاشت روا نہیں۔محبت ہی کیا، سخت جانی کا یہ عالم کہ حواس کے بل پر حوادث روز وشب تابہ جنبش نقش و نین کا ایسا محاصرہ کئے رکھتے کہ ادھر کوذرا سا خیال بہکا ادھر گنجینہ معانی سے الفاظ کے سیل رواں ہوئے۔ ادابندی میں بندش، خیال اور لفظ ایسے مکمل و محال کہ گفتگو کی جیومیٹری بیان ہو جائے۔ دائرہ نظر کی پرکھ ایسی کہ چوکونی ،مخمس و مسدس حتی کہ ہشت پہلو زاویوں سے مناظر بیاں ہوتے دیکھے ہیں۔فاصلہ ونقطہ اور قاب و قوسین کی رنگین نقش نگاری تو قوس قزح کوبھی مقدورکہاں۔مرزاصاحب دیکھنے کوتو طبعاًکمہلاہٹ و اضمحلال مزاج ایسے کہ کسی گورِ غریباں کا چراغِ مردہ ہو مگردرون خواب، بیان وجود وشہود میں باہم بروئے کارایسے کہ معاملہ تھمنے کو نہ آئے ۔خوئے ثقیل بیانی چاہ و طلب سے نہیں بلکہ معانی و محال میں فطرتاً حساس اتنے کہ محل و محرکات و قوعہ پراس قدر ہمہ جہت فکرو تدبر سے کام لیتے کہ بیان میں کسر اوردلِ غمخوار والم شناس کو کسک نہ رہ پائے۔ گویا سادہ بیانی اس قدر سادہ ترین کہ کوئی کلام عام نہ لگے ۔تجربہ کاراتنے کہ عمومی اسماء و مصادر کو بھی برمحل ووقوع ایسی مہارت سے پیوست کرتے کہ نقاد ونکتہ دان تہی دست و تنگ دامان رہ جاتے، سامع پر ایسا وجد طاری ہوجائے کہ گویا بہ ذبان مرز انہیں اپنے جی کی بپتا سنائی دے۔روزمرہ امور و مسائل سے ایسی سادہ ترین مثالیں چراتے ہیں کہ گویاموئے آتش دیدہ سے حلقہ وزنجیر بننے تک کے عمل کی بارہا چھان پھٹک کی گئی ہو۔برہنگی بیرون لباس و خلعت کا نقادایسا کہ گوروکفن تک پیچھا نہ چھوڑے۔ تلخیوں کا شناسا ایسے کہ علاج رنج و الم میں گام گام کی خاک چھانتا پھرے اور خوش مزاجی کا یہ عالم کہ کعبہ جانے کو منہ نہیں پاتا۔ انا ایسا کہ خم وبادہ کا ادھار خمار تشنہ کامی سے چکاوے اورطاق نسیاں سے بے خود ایسے کہ بیان حال دلِ نومید سے کوئی کوفت نہیں۔شیخ و ناصح سے دوستی مگر بیربھی بس اتنی کہ مرزا میکدے سے آوے کہ ناصح جاتا کیئے ۔زیست کی شکست وریخت کی تلخ نوائیوں میں شاعری کا حسن ازبسکہ چاند پر دھبے کا جیسا، جاذب بھی مگر داغ بھی۔فی زمانہ اشہب ماہ وسال کو حوادث کا تازیانہ ایسا کہ سرپٹ بھاگے اورعقدہ عقائد، تجرید و تخلیق اور آداب واطوار سے ثقافت میں پھٹاپھٹ بدلاو لاوئے۔ناگزیر الفت ہستی کہ اب لب و رخسار جاناں پر دھن کی ملع چڑھائی جاتی ہے۔آب و تکریم کی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ فحش بینی وفحش کاری از خود مقبول و مقتدر پیشہ بن چکی ہے۔ ناگاہ کہ محلات میں ناز وادا کے جلوے بکھیرنے والی گلہائے ناز کے پہلومیں بپا طوفان بھی محض ایک قطرہ خون ہو ۔عشق کو ہنوز زیر نہیں، ہاں مگر پابند خیال یار نہیں، بلکہ اب تو پابند خیالِ یاراں ہے۔ وہ فرہاد سے کوہ کن اب تیشہ و تیغ سے بے بہرہ قوی ہیکل مشینوں سے پہاڑوں کا سینہ چیر رہا ہے، اس پیشہ طلبگار مرد میں اب کوئی صرفہ کہاں،ایہہ، یہ کان کنی تو اب چھوٹے پیشے ہیں۔ ہاں البتہ مجنون کے لئے صحرا آج بھی چشم حسود ہے۔ اقبال کے دور سے لیلی مخملیں سنجاف کے بچھونوں کی دلدادہ ہوگئی تھی جو بقدرے رضا و رغبت جوں کا توں ہے۔ جبر واستبداد، عناد و طعمہ حرام خوری اب عناں گیر خرام کہاں۔مرزا آج ہوتے تو ان بے شرموں کو دیکھ کعبے جانے کا منہ بنا ہی لیتے جو طواف کعبہ کی سعادت کے بعد بھی چکروں میں ہیں۔ خانہ آبادی قصبوں میں خانہ بربادی کی نہج کو آن پہنچی ہے۔ راہ عام پر بیٹھے ہوں کو غیر اب ٹوکتے بھی نہیں۔ہماری گلی میں ہم ہی اجنبی کا عالم ہے۔ دور گزشتہ میں جوآدمی کو انسان ہونا جو میسر نہیں تھا اب کے میوہ ممنوعہ خوروں کو گوارا نہیں ۔ وہ جراحت ، ارمغانِ الماس اور داغ جگر اب تحفے نہیں بیماریاں ہیں جن کے علاج کے نرے اکسیردریافت ہوچکے ہیں البتہ غم ہستی کا علاج بجز مرگ آج بھی عنقا ہے۔ یہ بازیچہ اطفال بھی بطرز ایں اعجاز مسیحائی عوام کے جی کا روگ ہے۔عہد رفتہ میں جو گدھوں کو آم نہیں بھاتے تھے فی زمانہ انسان کو گدھے مرغوب ہیں۔وہ جوزلفِ جواں تھی ان کے ذلف کے سرہونے کی سند نہیں ، گلی گلی زلف و زیبائی کی دکانیں لگی ہیں۔حال یہ ہے کہ جوش ملیح آبادی بھی آج برسرخاک ہوتے تو نہ صرف ان کےِ کاکول سرکش بھی مشکبار ہوتے بلکہ کسی پری وش کا ہم ذلف ہوتے۔فلسفے نے سائنس سے بیر موہ لیا ہے تو پیران حرم کے نزدیک آہ کے اثر کو درکار عمر کی حدبھی بڑھ گئی ہے۔ اب آہ سے زیادہ لاٹھ میں اثر ہے اور نالہ بے کس سے زیادہ نکاسی کی ندیاں طوفان لاتے ہیں۔ ہوا کے دوش پر مرسل خطوط کی تیز ترین و رازدارنہ ترسیل سے نامہ بر کا خط کھول کھول کر لانے کانہ صرف خدشہ محو ہوچکا ہے بلکہ نامہ بر کا پیشہ بھی قریب از متروک ہے۔ تن آسانیوں کا یہ عالم ہے کہ دیوان غالب گود میں لئے شخص پر صدمہ زدہ ہونے یا ذہنی توازن میں خلل ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ اب بارشوں سے دوستی اور کچے مکان کے محاروں میں جی ہلکا ہو جاتا ہے۔ وہ عہد رفتہ میں اشاروں کنایوں میں گفتگو کرنے والی ساس بہوبھی مہاجرین ہند تو درکنار پوری پاک سرزمین چھان پھٹک کر بھی دسترس میں نہیں آتیں۔ فی زمانہ مزاحمتی شاعری مقبول عام ہے اور اس میں بھی عروض کے ہلکے اور اخلاق کے پھیکے اشعار کی دادرسی ہوتی ہے۔موت کا یومِ معین اب گھڑی گھڑی نظروں میں آتا رہتا ہے اورنیند نہ آنے کو خواب آورشیشی اور ابدی نیند کیلئے بھی سستی گولیاں مل جاتی ہیں۔خاک کی صورتیں ساری نہاں ہیں مگر امیدوں کو ہنوز بھرآوری نہیں ولیکن کیا کیا صورتیں جو پیوند خاک ہیںآج بھی برائے نان ونفقہ ورثاء بلحاظ سکہ رائج الوقت سودمند اور زندہ وسلامت ہیں۔ شب وروز کے تماشوں نے سیاسی ڈھب اوڑھ لیاہے اورذرائع ابلاغ عامہ کی بقا کا سیل درسیل ذریعہ ہے۔گردش دوراں یاانہی تماشوں کی تمازت ہے کہ کیا گلوکار کیا کھلاڑی سبھی صحافت کو مرغوب ہیں اور بزم صحافت کے بزرگ اب بازیچہ ملک وملت کے کرسی نشین ہے۔ ہنوزعوامی جمہوری طرز عمل کا سرمایہ دودِ چراغ محفل ہے۔مضطرب حق پرستوں کی ہمت دشوار پسند ایک نالہ نارسا سے سوا کچھ نہیں۔ عوامی حسرتیں بھی مائدہ لذت دردپر یاران وطن کا بقدر لب ودندان نکلتی ہیں اور وزراء و امراء وطن سے کام نکلوانا وہ پیشہ طلبگار مرد ہے کہ جو نہ بابِ نبرد سے کبھو حل نہ ہوا۔ احباب و حلقہ یاران ہنوز کوئی چارہ سازی وحشت نہ کرسکے۔ سماجی انصاف اور عوامی مسائل کا عقدہ مشکل جوں کاتوں ہے۔ گویا سیاسی وعدے اگر وجہ تسلی و شرمندہ معنی ہواتووعدے نہ ہوئے۔ موج سوز کاربن سے عالمی درجہ حرارت میں ایسا اندوہناک اضافہ ہورہا ہے کہ کہیں زہرہ ابر کو آب نہیں تو کہیں بستی بستی جل تھل ہے۔ ناگہاں زمین سے آسمان تک سوختن کا باب ہے اور آدمی ہے کہ روکش خورشید عالم تاب۔ علم و عمل ، تحقیق و ایجادات کے نشاط آہنگ انقلاب کے باوجود تخت و تاج پر چھینا جھبٹی ہے کہ معصوم انسانوں کے خون سے حولی کھیلی جارہی ہے۔ مظلوموں کی دیدہ بے خواب سے سیل گریہ رواں ہے تو شاہوں کے ایوانوں میں سازِ صدائے آب گونجتی ہے۔امراء میں نازش خاکستر نشینی عنقا ہے۔ از بس کہ اس جنون نارسا کو آپ کی نذرکرتا میں اپنی نواہائے بے صرفہ کو یہاں سمیٹتا ہوں۔ گوشہ بساط تجھ گنج معانی کے دو بول سے سوا تہی ہے۔ نفس جاں گداز میں ہمت کہاں کہ تیرے حلقہ گرداب تخیل کو آزمابیٹھے۔ بس دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب ہونے کو ترس رہا تھا۔ غالب آج بھی غالب ہے اور رہے گا۔مرزا اور ان کے مداحوں سے معذرت ۔۔۔۔ !

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments