معلمی عہدہ نہیں پیشہ ہے 

معلمی کسی بھی زمانے میں عہدہ نہیں رہا ۔معلم پیشوا رہا ہے اور درس و تدریس ایک معزز پیشہ رہا ہے ۔۔لیکن یہ معیار مانگتا ہے ۔۔اگر معلم زمامنے کے معیار پہ پورا اُترا ہے تو دور کے فرعون تک اس کے آگے سرتسلیم خم کرتے رہے ہیں ۔۔بڑے نامی گرامی شاہنشاہ ان کے استان پہ حاضری دیتے رہے ہیں ۔۔اس استاد کو کبھی سیلوٹ کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔۔معلمی عہدہ نہیں ۔اس کو گریٹ سے تولا نہیں جاسکتا ۔معلم انسانیتﷺ گریٹ لے کر دنیا میں تشریف نہیں لائے ۔معیار لے کر تشریف لائے ۔۔سقراط کے پاس کوئی گریٹ نہیں تھا ۔مولوی میر حسن کے پاس گریٹ نہیں تھا ۔۔ارنلڈ کے پا س گریٹ نہیں تھا ۔۔کرسی نہیں تھی ۔بڑی تنخواہیں اور مراعات نہیں تھیں ۔۔ان کو دور اور زمانے کی ضرورت تھی۔ ان کو قوم کی ضرورت تھی ۔ان کو تہذیب و تمدن اور زندگی کی ضرورت تھی ۔۔وہ کردار ساز تھے ۔وہ مسیحا تھے ۔وہ پیشوا تھے ۔وہ راہنما تھے ۔ان کی ذات سے انسانیت کے سارے سوتے پھوٹتے ۔۔وہ مہذب کائنات کے اس کھپ اندھیرے میں روشنی کی کرن تھے ۔ان کی للکار پہ کائنات لرزہ بر اندام ہوتی اور ان کی پکار پہ کائنات سراپا صدا ہو جاتی ۔۔یہی بندہ پر اسرار ہوا کرتے تھے ۔انہی کی ٹھوکروں سے صحرا و دریا دونیم ہوتے اور پہاڑ سمٹ جاتے ۔یہی استاد تھے۔۔ یہی استاد تھے یہی استاد ہیں اور جب تک دنیا باقی رہے گی یہی اساتذہ دنیا میں باقی رہیں گے۔۔مگر المیہ یہ ہے کہ اس استاد کو اپنے مقام کا احساس نہیں رہتا ۔۔کبھی وہ بے جا توقع کرتا ہے کہ زمانہ اس کا احترام کرے ۔۔مگر شاید وہ یہ احساس نہیں کرتا کہ وہ اس احترام کے قابل ہے بھی یا نہیں ۔کبھی وہ احترا م اور مقام کا معنی بھی سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ۔۔اس کو ’’سلوٹ ‘‘احترام لگتا ہے ۔اور ’’سر سر‘‘ کہنا مقام لگتا ہے ۔وہ کبھی کسی کے دل کے نہان خانے کی کیفیت کا ادراک نہیں کرتا ۔۔اس کے نزدیک دھن دولت کی اہمیت جب بڑھتا ہے تو اس سمے وہ اپنے مقام سے گرتا ہے ۔۔وہ اپنی روشنی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔وہ اس محبت اور احترام سے محروم ہوتاہے جو کسی کے احساسات میں اس کے لئے پیدا ہوتاہے ۔اصل میں وہ ایک معلم ہے ’’علم دینے والا‘‘ علم بانٹنے والا ۔وہ ایک ’’کردار ساز‘‘ ہے کردار بنانے والا ۔۔وہ ایک’’ راہبر‘‘ ہے راہ دیکھانے والا ۔ وہ امیدوں کی کرن ۔آرزووں کا محور ۔۔احترام کا پہاڑاور محبت کا سمندر ہے ۔۔اس کی شخصیت بے مثال ہے ۔وہ ہر عیب سے پاک ہے ۔شاگردوں کو اس بات پہ یقین ہوتا ہے کہ ان کا استاد جھوٹ نہیں بولتا ۔امانت میں خیانت نہیں کرتا ۔۔دنیا کے سارے لوگوں سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر اس کے استاد سے غلطی نہیں ہو سکتی ۔اس کا استاد جب مسکراتا ہے تو اس کے ساتھ ساری کائنات مسکراتی ہے ۔۔وہ جب خوش ہو تا ہے تو سارے پھول کھل جاتے ہیں ۔۔رات کو چاند اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔سورج کی روشنی شاید اس کے لئے زمین پہ اتری ہے ۔۔سمندر کی لہریں اس سے ڈرتی ہیں ۔پہاڑ کی بلندیاں اس کے آن بان کے آگے پست ہیں ۔۔اگر استاد اس معیار پہ پورا اترے۔۔ تو وہ بنی نوع انسان کی روح میں سرایت کر جاتا ہے ۔۔لیکن اس معیار پہ پورا اترنا کٹھن کام ہے ۔۔یہ ایسا مقام ہے جہان پہ سٹارز نہیں ہوتے ۔۔جہان پہ سلوٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔۔جہان پر بادشاہ سلامت کا تصور ختم ہوجاتا ہے ۔۔وہاں پر خود بخود سر جھک جاتے ہیں ۔۔پر پھیل جاتے ہیں ۔۔فرش عرش بن جاتا ہے ۔۔چشم بینا کے لئے تجلیاں اترتی ہیں ۔۔وقت پکار پکار کر کہتا ہے ۔۔کہ یہ لو گ گلشن انسانیت کے پھول ہیں اور عکاش کے تارے ہیں ۔۔تاریخ گواہ ہے کہ جس استاد نے یہ مقام حاصل کیا ہے زمانے نے اس کو سلوٹ مارا ہے ۔۔اس نے دلوں پر حکومت کی ہے ۔۔اس سے واضح ہے کہ معلمی عہدہ نہیں پیشہ ہے۔۔ استاد عہدے میں ترقی نہیں کرتا وہ معیار میں ترقی کرتا جاتا ہے ۔۔آخر کو اس مقام پہ پہنچ جاتا ہے کہ لوگ سارے عہدے بھول جاتے ہیں ۔۔۔اس کانام صرف استاد ہی رہتا ہے ۔وہ فرش نشین کرسی پہ بیٹھنا ہی بھول جاتا ہے وہ دنیا کی چکاچوند بھول جاتا ہے ۔۔اس کو نہ کسی سلوٹ کی آرزو ہوتی ہے ۔نہ شان و شوکت کی خواہش ۔۔یہ استادی کا مقام ہے ۔۔موجودہ حکومت کے اقدامات سے اساتذہ مطمین ہیں وہ استاد کو مقام دلانا چاہتی ہے ۔۔لیکن استاد کوخود اپنے آپ کو کسی سلوٹ کے قابل کرنا چاہئے ۔البتہ اس کی شناخت کے لئے الگ وردی ’’بلیک گاوں ‘‘ اس کی شان بڑھائے گی ۔۔معاشرے میں اس کی شناخت ہوگی ۔۔لیکن استاد کو پھر بھی غلط فہمی میں یا خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونی چاہئے کہ بلیک گاؤں اس کی شان بڑھائے گی ۔۔بلکہ اگر اس سے معمولی کوتاہی بھی ہوگئی تو پھر اس کے بارے میں پوچھنے کی بھی ضرورت نہ ہوگی۔۔ کہ یہ کون شخص ہے ؟۔۔۔۔۔۔معاشرے کی نظریں غضب کی تیز ہیں ۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments