دائین اشکومن کے مکینوں کا بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی دھرنا

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ اشکومن پاور ہاؤس سے بجلی کی فراہمی میں تعطل،گاؤں دایئن کے عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ،شدید ٹھنڈ میں عوام کی کثیر تعداد چٹورکھنڈ مرکزی شاہراہ پہنچ گئی،ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیا،گاؤں ہاسس میں بھی احتجاج کی اطلاع،محکمہ برقیات کی جانب سے نیا شیڈول جاری کرنے اور منصفانہ لوڈ شیڈنگ کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔اشکومن ڈیڑھ میگاواٹ پاور ہاؤس کے ایک مشین میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے علاقے میں بجلی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے،بعض علاقوں میں مبینہ طور پر تین روز سے بجلی بند ہے جس سے علاقے کے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے،جمعرات کی صبح گاؤں دائین کے عوام نے چٹورکھنڈ مرکزی شاہراہ پر آکر محکمہ برقیات کے خلاف ٹائر جلا کر شدید احتجاج کیا،اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دائین کے عوام گزشتہ 72گھنٹوں سے روشنی کے لئے ترس رہے ہیں ،آٹا پیسنے کے لئے بھی بجلی دستیاب نہیں ،ان کے بقول محکمہ برقیات عوام دائین کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہا ہے،جس دن بجلی کی باری ہوتی ہے اس روز بھی بجلی نہیں دی جاتی ۔احتجاج کی اطلاع ملنے پر محکمہ برقیات کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین سے مذاکرات کئے ،اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اشکومن پاور ہاؤس کی مشینیں بوسیدہ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے آئے روز مشینوں میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے ،گزشتہ دنوں سے ایک ٹربائن میں فنی خرابی کے باعث شیڈول متاثر ہوا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ رواں سال جون تک اشکومن فیز ٹو مکمل ہوگا،تب تک بجلی کا بحران حل نہیں ہوسکتا،تاہم مظاہرین کے اصرار پر انہوں نے نیا شیڈول جاری کیا جس کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی نیز اس شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی یقین دہانی پر مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق گاؤں ہاسس میں بھی بجلی کی بندش کے خلاف عوام نے احتجاج کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments