میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلام محمد خان اور بونی کا نظام سقـہ

تحریر : شمس الحق قمر

 بونی بالائی چترال کے نئے ضلعے کا صدر مقام ہے یہاں کی آبادی تقریباً 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے  رقبے کے لحاظ سے بونی  ضلع بالائی چترال کا سب سے وسییع منطقہ ہے ۔ بالائی چترال کے تمام علاقوں کا جھکاو ہمیشہ سے بونی کی طرف  رہا ہے ۔ تعلیم ، صحت اور عدالتوں کے لئے بالائی چترال کی تمام آبادی یہاں کا رخ کرتی ہے ۔ جتنا گاوں بڑا ہے اُتے اس کے مسائل بھی گمبھیر ہیں ۔  صحت کے مسائل ، کشادہ اور پکی سڑکوں کا فقدان اور بجلی کے علاوہ  یہاں کا سب سے بڑا مسلہ پینےکے صاف  پانی کا رہا ہے  یعنی بونی مسائل کی آماج گاہ کا نام ہے ۔  مجھے یاد ہے کہ سن 2006 میں WASEP  کے اُ س  زمانے کے ذمہ دار آفیسر ڈاکٹر تمیز  صاحب نے بونی میں پینےکے صاف پانی اور گندے پانی سے  پھیلنے والی بیماریوں اور پانی  کے فی گلاس آلودگی پر ایک تحقیق کی نتیجہ جب سامنے آیا تو بونی ٹیک لشٹ کے علاقے میں 60 فیصد بیماریوں کی وجہ آلودہ پانی  بتائی گئی اس کے علاوہ سب سے حیرت ناک بات یہ تھی کہ ایک گلاس پانی میں ایک ہزار جراثیم کو جنم دینے والا مواد پایا گیا ۔  اس سروے نےکے نتائج نے نے علاقے کے لوگوں کو کو خوب جھنجھوڑا ۔  لہذا علاقے کو صاف پانی کی سہولت دینے کےلئے AKDN   کے اداروں کے علاوہ سرکاری اداروں نے  بھی سر توڑ کوشیشیں  شروع کیں لیکن   کچھ نا گزیر وجوہات کی بنا پر ایک طویل عرصے تک اس پر کام نہ ہو سکا۔ آخر میں 2010 کے عشرے کی شروعات میں اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام شروع ہوا لیکن اس کام کو کامیاب بنانے کےلئے ہمیشہ کےلئے زمہ داری اٹھانے کی ضرورت تھی جس کے لئے کوئی تیار نہ تھا  پھر اللہ کے فضل سے علاقے میں  کچھ رضاراروں نے  اس کار خیر کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا اور  بلا معاوضہ  مینٹٰنننس کے بار گراں کو اپنے شانوں پر اٹھایا ۔  بونی می پینے کے صاف پانی کے منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بہت ساری شخصیات کا حصہ ہے لیکن میں اُن لوگوں کی بات کرنا چاہتا ہوں جو میرے محلے میں میرےاڑوس پڑوس میں  رہتے ہیں اور WASEP   کے پانی کی نگہبانی کرتے ہیں ۔  جن میں رفیع اللہ ، بڈان دور بونی ، دیدار علی خان ٹیک لشٹ بونی اور غلام محمد خان ٹیک لشٹ بونی کلیدی کردار کے حامل ہیں ۔ یہ افراد بغیر کسی معاوضے کے دن رات اپنے محلے میں پانی کے استعمال کو دیکھنے کے لئے  گھومتے رہتے ہیں ۔ جہاں جہاں پانی فضول میں ضائع ہوتا ہے وہاں جاکر یہ ان خاندوانوں سے باہمی   مشاورت کے ذریعے اُنہیں سمجھا دیتے ہیں کہ  پینے کے صاف پانی کا بہتر استعمال کتنا اہم ہے ۔  لیکن بار بار غلطی پر یہ لوگ جرمانہ بھی لگا لیتے ہیں ۔

            اِس وقت میں ان تین شخصیات میں سے صرف ایک یعنی غلام محمد خان کی آنتھک کوششوں کو آپ کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں ۔  میں یقین سے کہتا ہوں کہ  پاکستان میں ہر بندہ غلام محمد خان جنتا زمہ داری اور خلوص سے بغیر عوض کے کام کرے تو ہم اپنے ملک کو گل گلزار بنا سکتے ہیں ۔  غلام محمد خان  محکمہ زراعت میں ایک بہترین ملازمت سے وابستہ رہے ہیں اور اِس وقت ذاتی کاروبار میں مصروف عمل ہیں ۔  میں جب بھی گاوں ( بونی ٹٰیک لشٹ ) جاتا ہوں تو موصوف سے راستے میں ملاقات ہوتی ہے حال احوال پچھتے ہی پانی کا ذکر چھڑ جاتا ہے ۔   اور ہماری ملاقاتوں کا اتفاق بھی اُسی وقت ہوتا ہے جب موصوف کہیں نہ کہیں سے فصول بہتا ہوا پانی بند کرکے آرہا ہوتا ہے ۔  اس کام میں اٗنہیں مصروف پاتے ہوئے مجھے بھی دلی آسودگی ہوتی ہے ۔ اُں کے ساتھ جب جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو میں اُن کے سامنے اُن تمام لوگوں کو لعن طعن کرتا ہوں جو پانی کو فضول میں بہا دیتے ہیں ۔  موصوف کا سب سے نا پسند دیدہ فعل پینے کے صاف پانی کے نکل کو کھلا چھوڑ کر گاڑی صاف کرنا یا گھاس وغیرہ کو پانی دینا ہے ۔

میں نے ایک مرتبہ غلام محمد سے کہا کہ پانی کا بے جا استعمال اگرچہ غلط ہے تاہم اس پانی سے گاڑی دھونا یا گھاس کو پانی دینا تو کفران نعمت ہے ۔ انہوں نے بولا کہ بھائی لوگ اس طرح نہیں سوچتے ہیں  کاش تمام لوگ آپ کی طرح سوچیں تو ہم اپنے علاقے کو یورپ بنا سکیں گے ہوش ارو کہ نو ؟ ( ہوش اروا کہ نو غلام محمد خان کا تکیہ کلام ہے )  ۔ ان صاحب سے پانی کے استعمال پر تفصیلی گفتگو کے بعد میں سیدھا گھر آیا ۔ نکلے کو کھولا تو پانی بڑے دباو سے آرہا تھا ۔ میں نے سب سے پہلے دیدار علی خان کا پوچھا کیوں کہ وہ میرے ساتھ ہی گھر میں رہتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ وہ  آج گاوں میں نہیں ہے لہذا میں نے فٹ سے نکل کھول دیا اور گاڑی کی صفائی شروع کی ۔ کوئی ادھا منٹ گزر چکا تھا کہ پیچھے سے ایک دہشت ناک آواز ائی  ” تمہاری تعلیم یافتہ ہونے پر مجھے افسوس ہے ۔ آپ جیسے کرپٹ لوگوں کی وجہ سے ہم ترقی نہیں کرتے ۔ منافق ہو تم ۔ اوپر سے کچھ اور اندر سے کچھ ”  میرے پیچھے غلام محمد خان کھڑے تھے ۔ میں نے پانی فوری طورپر بند کیا اور غلام محمد خان  مزید کچھ بولے بغیر واپس ہو گئے ۔  مجھے ایسی شرمندی زندگی میں کبھی نہیں ہوئی تھی اور جو الفاظ انہوں نے میرے لئے استعمال کئے وہ سب میرے لئیے بجا تھے  میں نے اپنے کئے پر سوچا تو میری نظر میں مجھ سے زہادہ منافق اور کوئی نظر نہیں آیا ۔

            دل میں عجیب جذبات  منڈلانے لگے ۔ سوچتا رہا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی زندہ ہیں جو دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہمہ وقت مصروفِ عمل  ہیں اور دوسری طرف   ہم جیسے لوگ بھی اسی کرہ ارض میں ہیں  جو بولتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ۔ اللہ اس شخص کی عمر میں برکت دے  اور ہمیں پینے کا صاف پانی ملتا رہے ۔ آمیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments