میری ڈائری کےاوراق سے ————-مولا نگا نگاہ ، ایک عہد ساز ادیب

کہتے ہیں کہ ادبا اور شعرا  اپنے معاشرے کے نبض شناس ہوتے ہیں ۔ اور غیر مرئی اندازِ اصلاح  سے تہذہب و تمدن میں پیدا  ہونے والی تمام نا ہمواریوں کو  اپنے اعلیٰ فنکارانہ طرز سخن سے مثبت فلسفہ حیات کی جانب راغب کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہ وہ  اعلیٰ ظرف مسیحا  ہوتے ہیں جو اپنے جانے کےبعد بھی قوم کے دلوں میں زندہ اور راج کرتے رہتے ہیں ۔  انہی نابغہ روزگار شخصیات کی صف میں مولا نگاہ کی شخصیت سب سے قد آور ہے ۔ کھو زبان ، ثقافت اور تہذیب کو  جو گران مایہ سرمایہ  انہوں نے  اپنی شاعری کی صورت میں عطا کی ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ ہماری زبان اور تہذہب پر مولانگاہ صاحب کے بے شمار احسانات ان کی اصلاحی نظموں کی صورت میں ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ۔ ُن کی نظموں کی خاص خوبیوں میں خیال کی بلندی ، اپنی تہذیب سے دیوانہ وار محبت ، معاشرے کی کمزوریوں پر کڑی نگاہ ، کسی بھی قسم کے تعصب سے پاک زاویہ نظر، مصلحانہ انداز فکر، بزلہ سنجی ، ندرت خیال کے علاوہ کھوار کے قریب الترک الفاط کو شگفتہ پیرائیے میں بیان کرنا شامل ہیں ۔

مولانگاہ صاحب کو نظم گوئی میں خاص ملکہ حاصل تھا جو کہ آج تک کسی شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔  موصوف اپنی نظموں میں  طنزو مزاح کوایک خاص ادبی مہارت کے ساتھ استعمال کیا کرتے تھے ۔  آپ کے طنزکے تیر کبھی بھی خطا نہ ہوئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مولانگاہ صاحب کے تیر اپنے نشانے پر پیوست ہونے کے بعد پار نہیں ہوتے بلکہ  اپنے ہدف کے اندردائمی جگہ پاکر شکار کو گدگدا تے رہتے ہیں ۔ کھوار زبان کے شائسہ استعمال میں کھوار زبان کی تاریخ میں آپ یکتا نظر آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جدید زمانے کے میاں بیویوں کے طرز معاشرت پر اپنی نظم کے اشعار میں فرماتے ہیں

 بیوی :

روئےمتے مس رینیان کیہ تو خبارا

شمعِ مجلس رینیان کیہ تو خبارا

بو کیاغ پاشیس رینیان کیہ تو خبارا

کوئے غیری بیس رینیان کیہ تو خبارا

میاں :

تتے خبیس رینیان کیہ تو خبارا

البت پھار بیس رینیان کیہ تو خبارا

بیوی :

متے بلقیس رینیان کیہ تو خبار

تختہ نشیس رینیان کیہ تو خبارا

میاں :

            متے نجس رینیان کیہ تو خبارا

            تہ بازو پھڑیس رینیان کیہ تو خبارا

یہ ایک طویل نظم ہے ۔ جس میں بنیادی طور پر مرد اور عورت کی نفسیات کو پرکھا گیا ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ کھو معاشرے میں  عورت کے لباس کی اہمیت اور  تہذیب و تمدن میں صنف نازک کی سادگی و نزاکت پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے ۔ لوگوں کی زبان سے اپنے لئے مس کا لفظ سن کر سادگی کے رو میں بہہ جانا ایک خالص نسوانی نفیسات ہے ۔ مولا نگاہ صاحب نے اس نظم میں بیوی کی جدت پسندی کی وجہ سے اگرچہ ازدواجی زندگی میں  ہم آہنگی کے فقدان ذکر کیا ہے تاہم پسِ پردہ اس نظم سے  ازدواجی زندگی کے کئی ایک  مثبت آصلاحی پہلو  بھی  نمایاں نظر آتے ہیں ۔  فنی اعتبار سے اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ نظم کے ہر شعر میں مختصر نفس مضمون کو ردیف کی طوالت سے گہرائی و گیرائی ملتی نظر آتی ہے  ورنہ وطویل ردیف سے نظم میں خیال کی بلندی غارت ہو جاتی ہے لیکن مولا نگاہ کے ہر ردیف اپنے اندر ایک قللزم سموئے نظر آتی ہے ۔ مولانگاہ صاحب زندگی میں صرف یہی ایک نظم اپنے پیچھے چھوڑ جاتے تو بھی امر ہوتے لیکن  انہوں نے کھوار زبان کو ایک بیش بہا خزانے سے مالامال کیا۔  اداب کے اس تابندہ ستارے کے ظاہری غروب سے کھوار ادب کی دنیا میں ہ سو افسردگی چھا گئی ۔ ہمارے بہت سارے ادب دوست رفقا نے بجائے مولا نگاہ کے خاندان کو تعزیت کرنے کے آپس میں ایک دوسرے سے اظاہر تعزیت کرتے رہے  ۔

کھوار زبان کے  مشتاق احمد یوسفی ( شہزاد علی خان  بونی) نے مولا نگاہ کے انتقال پر مجھے فون کیا کیوں ہم مولانگاہ صاحب کی ہر آنے والی نظم کو سنتے اور اُس پر ادبی تنقید  و تبصرہ کرتے ۔ شہزاد کے مطابق مولانگاہ صاحب جیسے مصلح قوم شاعر کا دوبارہ پیدا ہونا قرنوں پر محیط ہوگا ۔ شہزاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اُنہوں نے مولانگا صاحب سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کھو قوم کے طرز حیات سے متعلقہ  ثقافتی آوزار کے متروک  ہونے کے بعد اُن کے نام بھی کھوار زبان سے آہستہ آہستہ مفقود ہوتے جا رہے ہیں ۔ کیا ان پر کوئی قلم اُٹھا یا جا سکتا ہے ؟ یہی کہنا تھا کہ موصوف نے ایک مقامی رسالے کے لئے اسی موضوع پر ایک نہایت ہی جاندار مضون لکھا جس میں تمام ترک شدہ اوزاروں کے ناموں کے علاوہ ان کے استعمال کے طریقے بھی بتائے گئے تھے جو کہ کھوار زبان پر تحقیق کرنے والوں کے لئے لعل و جواہرات سے کم  نہیں ۔ صاحب موصوف کی تخلیق ملاحظہ کیجئے تو اس میں اصلاح کے کئی ایک پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔

ڈیٹ سینہ کاہک انگونیاں  سپاہیو غون

کڑوپ رسشتو بازار بیتی شیر منڈہیو غون

تان کھویان سف کولی لاکھی ای واردیا تان

اشپیرو چادار پوردوئی لوٹ صوفیو غون

بارکئین حکوم منتظیر اٹینشین ہ ہیت

بوشاک انسپیکشن کویان ڈی آئی جیو غون

کھیش ریکو دی چرق نو کوروئے پھلوکان ژیبوئے

پولوسوہردی دی البت ہر ہردیو غون

ہمیشہ بور بور تہ لاڑیر کروئے کوری غیچھان

لکہ ہیس وردی انجیرو ای بونگیو غون

پریشر کوکر دولہ پھانئی ہیس نو تان لاچھور

کوڑ ہورو چاپڑئیان موڑتو بلینجیو غون

ہار ای کچ کلاہ و کوروم مکر اوچے فریب

کھسپ ہو چنگاک گوااہو گواہیو غون

            مشینی مرغیوں پر یہ نظم بھی ایک طویل نظم ہے ۔ پہلی مرتبہ پڑھنے سے الفاظ کے سطحی بیان پر گدگدی معلوم ہوتی ہے اور ہنسی آتی ہے لیکن غور کرنے پر تمام انسانی پیشوں کی کمزیوں اور ناہمواریوں کی واضح تصویر کشی کا احساس ہوتا ہے  ۔ اس نظم میں شاعر نے صوفی سے لیکر موچی اور سپاہیوں تک کا ذکر ہلکے پھلکے انداز سےکیا ہے لیکن شاعر کا کمال دیکھئے کہ ہر پیشے کی توقیر و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اُن کی کمزوریوں سے پردہ چاک کیا ہے ۔ مولانگاہ صاحب کی یہ نظم اگر کسی صوفی نے پڑھی ہے تو مجھے یقین ہے کہ اُس نے اپنے گریبان میں ضرور جھانکا ہوگا  کیوں کہ شاعر کے الفاظ و بیان میں وہ جادو ہے کہ جس سے آپ  اپنے مخاطب پر گہرا اثر مرتب کئے بغیر خاموش نہیں ہوتے  ۔ اگر کسی وردی پوش نے وردی میں ہونے کے باوجود کہیں غلطی سے نشہ کرنے کا مرتکب ہوا ہو تو وہ زندگی بھی ہشیار رہے گا ۔ اس نظم میں جتنے بھی انسانی پیشوں کا ذکر ہوا ہے وہاں اُن کو اپنے پیشوں سے محبت کرنے اور اپنے فرائض کو حسن و خوبی سے انجام دینے کا سبق بھی ملتا ہے ۔  موصوف کھوار زبان کی جگت بازی میں  شائستگی کے معراج  پر نظر آتے ہیں ۔ اگر ہم کھوار زبان میں ایک ہی لفظ سے کئی ایک معنی و مطالب نکالنے کی بات کریں تو موصوف کا ہر لفظ اپی جگہے پر الفاظ و معانی کی ایک کائینات سموئے ہوئے نظر آتا ہے ۔ ذومعنی الفاط کو تیر بہ ہدف کرنے میں اگر کھوار زبان میں کوئی ادیب یا شاعر ہے تو وہ مولانگاہ صاحب کی ذات ہی ہے ۔

            بابا محمد سیار کی فارسی شاعری کو ترجمہ کر کے کتابی شکل دینا آپ کے کار ہائے نمایاں میں سے ایک ہے اس کے علاوہ “نقطہ نگاہ ” آپ کی اپنی شاعری کا مجموعہ ہے  جو کہ  کھوار زبان کے ادب کا  گرانمایہ  سرمایہ ہے ۔ میرے دل میں  ایک احساسِ افسوس ہمیشہ کھٹکتا رہے گا کہ میری مولانگاہ نگاہ صاحب سے باالمشافہ ملاقات زندگی میں  کبھی نہیں ہوئی ۔ لیکن آپ کے تخیل سے اتنا قریبی رشتہ تھا کہ آپ کے جانے کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ سب کچھ لٹ گیا ۔  آپ نے میری تحریر کے اندر این چیز پر ضور نظر رکھی ہوگی  وہ یہ کہ  میں نے آپ کے کے لئے مرحوم کا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں  کہ مجھے زندگی میں  اُن سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا  لہذا میرے لئے وہ آج بھی وہی ہیں جو کل تھے ۔اللہ آپ کو آپ کے مزاج کے مطابق آخری آرام گاہ عطا فرماے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments