‘گرلز انٹر کالج چلاس کو خواتین کیمپس کا درجہ دے دیا گیاہے’

چلاس (شہاب الدین غوری) قراقرم یونیورسٹی دیامر کیمپس چلاس کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمحمد شاہنواز خان نے کہا ہے کہ گرلز انٹر کالج چلاس کو خواتین کیمپس کا درجہ دے دیا گیاہے۔ قراقرم یونیورسٹی دیامر کیمپس میں گذشتہ سال 42 طالبات نے داخلہ لیا تھا۔رواں سال بھی داخلوں کی شرح حوصلہ افزاء ہے۔

اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال طلبہ و طالبات کیلئے ہمارے پاس ہاسٹل کی سہولت موجود نہیں تھی امسال دور دراز سے آنیوالے طلبہ و طالبات کیلئے ہاسٹل کا بھی بندوبست کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 143 طلبہ نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا امسال امید ہے کہ داخلہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کیمپس میں طلبہ کیلئے دو سالہ ایم اے ایجوکیشن کا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اور یہ پروگرام دو سال کے بعد تمام یونیورسٹیوں میں مکمل پر ختم کیا جا رہا ہے اور اس پروگرام کے بجائے چار سالہ پروگرام شروع کیا جائے گا۔۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تھرڈ ڈویژن حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے دیامر کیمپس میں داخلے دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں باقاعدہ درس قرآن کی کلاسسز ہوتی ہیں، جس کیلئے جید علماء کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں بہترین آڈیٹوریم، لائبریری و دیگر سہولیات موجود ہیں۔ دیامر کیمپس کو کامیاب بنانے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ بھر پور تعاون اور سرپرستی کررہے ہیں اور ضلع دیامر کے عوام وائس چانسلر کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

ڈاکٹر شاہنواز نے کہا کہ نئے تعلیمی سال کا آغاز مارچ کے اوائل تک ہوگا۔ اس وقت دیامر کیمپس میں بی ایس سوشیالوجی، بی بی اے، بی ایس ایجوکیشن ، بی ایس فوڈ اینڈ نیوٹریشن، ایم اے ایجوکیشن کے علاوہ انگلش لنگوئجز کورس ، آئی سی ٹی، ای سی ڈی اور چائنیز لنگوئجز کورس میں داخلے ہورہے ہیں۔ داخلوں میں ضلع دیامر کے علاوہ جی بی کے دیگر علاقوں سے بھی طلباء کی دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔ انشاء اللہ دیامر کیمپس KIUکے بہترین کیمپس کے طور پر ابھرے گا اور پورے پاکستان سے لوگ اس کیمپس میں پڑھنے اورپڑھانے آئینگے۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے دیامر کیمپس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی 50فیصد فیس صوبائی حکومت ادا کررہی ہے، جس پر ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے مشکور ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments