موسمیاتی تبدیلی، گریتا اور لیڈر

موسمیاتی تبدیلی سادہ الفاظ میں زمین کی سطح میں درجہ حرارت میں اضافہ کو کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کاربن گیسوں کا بڑی مقدار میں اخراج ہے اس کا براہ راست زمہ دار خود زمین پر موجود انسان ہے۔ بڑے پیمانے پر صنعتوں اور دوسری طرف ان صنعتوں کے لیے بڑے مقدار میں جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے گرین ہاوس گیسوں کا بڑی مقدار میں اخراج ہوتا ہے جس کی وجہ سے زمین کی سطح پر درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے اور یہ قدرتی نظام کو درہم برہم کررہا ہے۔ اس سے زمین کے اطراف میں قطبین میں موجود برف بڑی تیزی کے ساتھ پگھل رہی ہے اور پہاڑوں میں موجو گلیشئیرز بھی اسی طرح پگھل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے ممالک اور شہر جو سمندر کے ساتھ واقع ہیں ان کے پانی میں ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔ جبکہ گلیشئیرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے نہ صرف دنیا کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے بلکہ سیلاب سے تباہی اور زمین کی ماہیت میں تبدیلی بھی واقع ہورہی ہےاس سے فصلیں اگانے میں مشکلات پیش آتی ہیں ابی حیات چرند پرند اور جنگالی حیات کو خطرے کا سامنا ہے اور یہ پاکستان اور دنیا سمیت ہمارے گلگت بلتستان چترال اور لداخ جیسے علاقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے

ملالہ یوسفزئی کی ایک بات بڑی مشہور ہوئی تھی کہ لیڈر بننے کے لیے اپ کو عمر رسیدہ ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اپ کے اندر ایک راہنما کی صلاحیت ہے تو اپ کسی بھی عمر میں لیڈر بن سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے گریتا تھنبرج Greta Thunberg کی جو سویڈن کی رہنے والی ہے۔ وہ اج موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ بلکہ وہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کام  کرنے والوں کی آواز بن گئی ہے۔

سولہ سال کی گریتا  ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی پر کام کررہی ہیں۔ اگست 2018 میں گریتا نے سکول جانے  کے بجائے  سویڈش پارلیمنٹ کے باہر  احتجاج پر بیٹھ گئی کیونکہ ان کا مطالبہ تھا کہ سویڈن کی  حکومت موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لے لیں اور اس پر کام شروع کردیں۔ گریتا کا یہ ‘سکول دھرنا’ موسمیاتی تبدیلی کی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے بہت مشہور ہوا۔وہ سکول جانے کے بجائے سویڈش پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتی  اور سویڈش راہنماوں سے مطالبہ کرتی کہ وہ کاربن کے زیادہ مقدار میں اخراج کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کردیں جس کی وجہ سے سویڈن میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے اور جنگلات میں آگ لگنے لگی ہے۔

گریتا سے متاثر ہوکر دنیا کے متعدد ممالک میں   سکول کے طالب علم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور اپنی اپنی حکومتوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لے لیں  اور اس پر کام شروع کردیں۔

گریتا ٹیڈایکس سٹاک ہوم TEDxStockholm اقوام متحیدہ سمیت متعدد فورمز میں موسمیاتی تبدیلی اور اس سے زمین کو لاحق خطرات کے حوالے سے خطاب کرچکی ہیں۔ وہ سویڈن سے لے کر لندن اور لندن سے لے کر یوروپین یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز تک اپنا احتجاج ریکارڑ کروا چکی ہیں۔

‎حال ہی میں ڈیوس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عالمی راہنماوں پر‎ زور دیا ہے کہ؛  “میں اپ سے پرامید ہونے کو نہیں بلکہ خوفزادہ ہونے کو کہہ رہی ہوں۔ ‎میں اپ سے اس خوف اس ڈر کو محسوس کرنے کے لیے کہہ رہی ہوں جو میں روزانہ محسوس کرتی ہوں۔  ‎اور پھر میں چاہتی ہوں کہ اپ اس پر عمل کرنا شروع کردیں کیونکہ اج ہمارے پاس انسانی تہذیب کو بچانے یا نہ بچانے کے دو نقطے (اپشن) موجود ‎ہیں۔”

یہ بات قابل زکر ہے کہ 23 جنوری 2019 کو ڈیوس Davos میں ورلڈ اکنامک فورم World Economic Forum سے خطاب کرنے کے لیے گریتا  32 گھنٹے سفر کرکے ریل گاڑی کے زریعے سے سویڈن سے ڈیوس پہنچیں جبکہ سینکڑوں عالمی راہنماوں نے اس کے برعکس پندرہ سو زائد پرائیوٹ جہازوں میں آگئے۔ گریتا کے احتجاج کا یہ طریقہ دنیا کے راہنماوں کے منہ پر ایک طماچہ ہے جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔

‎یہی وجہ ہے کہ  12 دسمبر 2018 کو انھی راہنماوں سے اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے سمٹ کے دوران خطاب کرتے ہوئے گریتا نے کہا تھا

‎”۔۔۔۔ اپ صرف باتیں کرتے ہیں اپ صرف انہی غلط خیالات کا اظہار کررہیں جن خیالات نے اج ہمیں اس انجام تک پہنچایا ہے۔  ‎حالانکہ وقت ان باتوں کو دھرانے کا نہیں بلکہ ایمرجنسی بریک لگانے اور عملی کام کرنے کا ہے۔ اپ اتنے سنجیدہ نہیں کہ وہ باتیں کریں جو حقیقی ہیں۔ اگر اس نظام کے اندر حل تلاش کرنا اتنا ہی مشکل ہے تو آئیے اس نظام کو ہی بدل دیتے ہیں”۔

اسی ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحیدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹانیو گٹریس Antonio Guterres نے انتباہ کیا کہ؛  “دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ہار رہی ہے۔ انھوں نے دنیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سخت فیصلے کریں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے”۔

بدقسمتی سے پاکستان جیسے ممالک میں جس کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے اس حوالے سے علم و آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔ جب کہ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملی ہے جس سے کراچی جیسے شہر میں لوگ ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ یہی کراچی دنیا کے پانچ ان شہروں میں شمار ہوتا ہے جو آنے والے وقت میں جس کو پانی میں ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف پینے کا پانی دستیاب ہی نہیں ہے۔ کھیتوں اور فصلوں کو پانی پہنچانے میں ابھی سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے شمال میں ہمالیہ قراقرام اور ہندوکش کے پہاڑوں میں موجود گلیشئیرز تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ ہمسائے ممالک کے ساتھ پانی کا تنازعہ شروع ہوچکا ہے۔

دوسری طرف ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔

سردیوں کے اس موسم جہاں ہم سردی سے ٹھٹررہے ہیں دوسری طرف آسٹریلیا سے لیکر جنوبی چلی تک کرہ ارض کے جنوبی قطبی حصوں میں غیر معمولی گرمی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اسڑیلیا میں گرمی سے سٹرکیں پگھلنے کی اطلاعات ہے اور بڑے بڑے جھیل خشک ہورہے ہیں ابی حیات اور پرندے زندگی کی جنگ ہار رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران کی زاتی کوششوں سے کے پی کے صوبے میں گزشتہ تین چار سال میں جنگلات میں اضافے کے حوالے سے اہم کام کا آغاز کیا گیا اور اب بھی مرکزی حکومت دس ارب درخت لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے اور موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے کارکنوں نے اس کام کو خوب سراہا ہے۔ امید ہے کہ یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر کاربن اور گرین ہاوس گیسیز کے اخراج کو روکنے کے لیے اور بھی اہم کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ابھی تک موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی اہم سبق شامل نہیں کیا گیا۔ تمام صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سکولوں میں اساتذہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو اور گھروں میں والدین کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس اہم گلوبل ایشو کے حوالے سے اگاہ کریں۔

ہمارے یہاں دنیا کے اہم مسلوں پر عوامی رائے بھی بدقسمتی سے مثبت نہیں ہوتی۔ ہمارے روایے اور طرز عمل کی وجہ سے بہت سارے مسائل حل ہونے کے بجائے الجھتے رہتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی بھی ایسا ہی ایک مسلۂ ہے۔ معاشرے کا ایک فرد زاتی طور پر اس مسلے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور یہ اس مسلے کو حل کرنے کی طرف سب سے اہم اور بنیادی قدم ہے۔ ہم لوگ روزانہ کی بنیاد پر پولی تھین بیگ جسے حرف عام میں شاپر بھی کہا جاتا ہے بڑی تعداد میں زیر استعمال لاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے راویے میں تبدیلی لاکر یہ شاپر اور وہ تمام چیزیں جو پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں استعمال کرنا بند کردیں یا کم سے کم کریں تو اس سے ماحول کی آلودگی میں کمی کے ساتھ ساتھ ہماری آنے والی نسلوں اور کرہ ارض پر احسان بھی ہوگا۔ دوسری چیز ہم پانی کا استعمال بے غیر سوچے سمجھے کرتے ہیں۔ ہمیں پانی کا استعمال صرف ضرورت کے لیے اور احتیاط کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اپ کہیں جارہے ہیں اپ اپنی زاتی گاڑی کو زیر استعمال لانے کے بجائے پپلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں تو اپ اپنی بچت کے ساتھ ساتھ ایک زمہ دار گلوبل شہری ہونے کا ثبوت بھی دیتے ہیں کیونکہ اپ کی زاتی گاڑی سے خارج ہونے والی گیسوں سے کاربن فٹ پرنٹ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف پاکستان جیسے ملک میں پپلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ٹریفک جام سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ معاشرے کا ایک ایک فرد اساتذہ والدین اور طالبعلم ہر ایک کو ذیادہ زیادہ سے درخت لگانے اور جنگلات کی حفاظت کرنے کی اہمیت کا علم ہونا بہت لازمی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اگر اپ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھاتے ہیں تو اپ بھی ملالہ اور گریتا اور ان دوسرے لوگوں کی طرح نہ صرف ایک لیڈر ہیں بلکہ اپ ہیرو بھی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments