کارگل جنگ کے بیس سال

شاہ عالم علیمی 
مئی 2019 کو کارگل جنگ کے بیس سال پورے ہورہے ہیں۔  مئی 1999 سے جولائی 1999 تک جاری رہنے والی اس جنگ کے تباہ کن نتائج نکل ائے،  ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں  پاکستان کے تقریبا دو ہزار پانچ سو سے تین ہزار جوان جان سے گئے سینکڑوں لاپتہ ہوئے کچھ واپس لوٹے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے مطابق اس جنگ میں پاکستان کے چار ہزار جوان جان بحق ہوئے، پاکستانی فوج کے جنرل ریٹائرڈ شاہد نے ندیم مالک کے ساتھ ایک گفتگو میں دعوی کیا تھا کہ اس جنگ میں پاکستانی فوج کے ہزار سے بارہ سو جوان شہید ہوئے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ نے یہ تعداد سات سو تک بتائی۔ جبکہ بھارتی فوج کے دو ہزار سے ڈھائی ہزار جوان جان بحق ہوئے۔
اس جنگ کے مین پلانر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف تھے۔ اور اس جنگ کی بنیادی وجہ کشمیر نہیں سیاچن کا محاز تھا۔ 1984 میں بھارت نے سیاچن پر قبضہ کیا پاکستان سیاچن کو گنوا چکا تھا لیکن بھولایا نہیں تھا۔ پاکستانی فوج کے کچھ جنرلوں کا تب سے یہ ارادہ تھا کہ کسی طرح سیاچن کا بدلہ لیا جا سکے۔ ان میں جنرل پرویز مشرف پیش پیش تھے۔ جب کارگل جیسے مہم کے بارے میں سابق ارمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو بتایا گیا تو انہوں نے اسے رد کردیا تھا۔ 1997 میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو اس قسم کے مہم کے حوالے سے بریف کیا گیا۔ اس وقت پرویز مشرف  ڈائیریکٹر جنرل ملیٹری اپریشنز تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ادھے گھنٹے کے قریب بریفنگ کے دوران وزیراعظم بینظیر بھٹو خاموشی سے جنرلوں کو سنتی رہیں۔ بریفنگ جب “اس طرح ہم پورے کشمیر پر قبضہ کرسکتے ہیں ” پر  ختم ہوا تو وزیراعظم بھٹو صرف ایک جملہ بولا؛  “واٹ نیکسٹ! یعنی اس کے بعد”! اس پر وہاں موجود سب جنرل ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور خاموشی چھا گئی۔ تاہم وزیراعظم بینظیر بھٹو نے کہا؛  میں بتاتی ہوں اس کے بعد کیا ہوگا،  ہم نے اگر اس طرح کشمیر پر قبضہ کر بھی لیا تو دنیا اس کو نہیں مانےگی۔ ہم پر فوج واپس بلانے اور کشمیر کو خالی کرنے کے لئے دباو ڈالا جائے گا نہ ماننے کی صورت میں ہم پر پابندیاں عائد کی جائیں گی دنیا میں ہم تنہا ہوجائیں گے مشکلات بڑھ جائیں گی اور مجبوراً ہمیں واپس انا پڑےگا سو یہ پلان قابل عمل نہیں ہے”۔
1998 میں وزیراعظم نوازشریف نے پرویز مشرف کو ارمی چیف بنایا، انھی دنوں جنرل جاوید حسن کمانڈنٹ ایف سی این اے  تھے، جاوید حسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود ساختہ جیو پولیٹیکل سٹیریجسٹ تھے،اکثر سرحدوں میں جاکر حملے کا پلان بناتے اور اپنے سنئیرز اور جونئیرز کو ایسے پلان کے حوالے سے بتایا کرتے۔ تیسرے اہم کردار جنرل محمود احمد تھے، جو کمانڈنٹ نیشنل ڈیفنس کالج کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے اور ڈائیریکٹر جنرل ملیٹری انٹلیجنس تھے اور ایک جذباتی ادمی تھے۔ جبکہ جنرل حسن کا خیال تھا کشمیری اہستہ اہستہ کشمیر کے مسلے میں دلچسپی لینے سے کترارہے ہیں اور مسلح جدوجہد سے دور ہوتے جارہے ہیں کم و بیش یہی خیال خود جنرل پرویز مشرف کا بھی تھا۔ یہ سب لوگ حادثاتی طور پر نہ صرف ایک ہی وقت میں فوج کے ٹاپ عہدوں پر فائز ہوئے تھے بلکہ ان کا بھارت،  کشمیر ایشو اور دوسرے معاملات جیسے ملکی سیاست وغیرہ کے حوالے سے بھی ایک ہی رائے تھی۔ کہا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو یقین دلایا تھا کہ بھارت کی نسبت پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے بھارتی ایسے نہیں ہیں کہ ہمارے حملے کا جواب دے سکے، ایک بار ہم نے ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تو پھر دنیا بھی ہمارے ساتھ ہوگی،  اور بس ان کا کھیل ختم۔
سنئیر صحافی اور مصنف نسیم زہرا اپنی کتاب ‘کارگل سے بغاوت تک-پاکستان کو ہلادینے والے واقعات” میں لکھتی ہیں کہ “ایک میٹنگ میں جنرل حسن نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوا تو میری گردن حاضر ہے،  اس پر ان کے کمانڈر جنرل محمود نے جھٹ سے کہا کہ یار تمہاری کیوں میری حاضر ہے،  اور خود چیف جنرل مشرف نے دونوں کو تسلی دیتے ہوئے کہ بھائی تم دونوں چھوڑ دو میری گردن حاضر ہے”۔ یہ بات الگ ہے کہ بعد ازاں سب غلط ہوا اور جاوید حسن معافیاں مانگنے لگے خدا را مجھے معاف کریں اور اب دعاوں کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا وغیرہ وغیرہ اور مشرف نے محمود کو فارغ کردیا۔ محمود نے مشرف کا امریکہ کے ساتھ اتحادی بننے پر سخت تنقید کی،  کتاب لکھ ڈالی۔ کتاب اس قدر باعث ندامت ثابت ہوئی کہ پرویز مشرف نے ساری کی ساری بیس ہزار کاپیاں خرید کر تلف کرنے کا حکم دیا اور ایسا ہی کیا گیا۔
عوام الناس میں ایک غلط فہمی یہ  پھیلائی گئی ہے کہ 1999 میں اگر وزیراعظم نواز شریف فوج کو واپس نہ بلاتے تو پاک فوج نے کشمیر فتح کرنا تھا، حالانکہ یہ دو طرح سے نامعقول بات ہے؛ اوّل اج کی دنیا میں کوئی فوج کوئی لشکر بندوق کی نوک پر کسی علاقے پر قبضہ نہیں کرسکتی۔ اج دنیا میں بندوق سے زیادہ سیاسی عمل دخل کا زور ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپ کلاشنکوف لیکر نکل جائیں گے اور سری نگر تک فتح کرلیں گے۔ ایسا ممکن ہوتا تو جیسا کہ ہم نے اوپر زکر کیا محترمہ بینظیر بھٹو اس وقت  جنرلوں کی بریفنگ سن کر ان کو ہاں کہہ دیتیں۔ ایسی سوچ بچگانہ اور جذباتی سوچ ہوسکتی ہے تاہم  حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ دوم یہ کہ اس جنگ کے حوالے سے دراصل وزیراعظم نواز شریف کو علم ہی نہیں تھا۔ سنیئر صحافی سہیل وڑائچ کی نواز شریف کے انٹرویوز پر مشتمل کتاب ‘غدار کون’ میں اس حوالے سے کھل کر بات کی گئی ہے۔
جبکہ  نجم سیٹھی کے مطابق اس کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے۔ ان دنوں جنرل مشرف بحیثیت چیف اف آرمی سٹاف چین کے دورے پر تھے۔ ادھر ان کے خاص ادمی لیفٹینٹ جنرل محمد عزیز چیف اف جنرل سٹاف صورتحال سے اگاہ کرنے کے لیے مشرف کو فون کیا۔ یہ فون کال ریکارڈ کی گئی اور کسی طرح بھارتی حکومت تک پہنچا دی گئی۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ” میرا خیال ہے غالباً یہ چینیوں نے ہی ریکارڈ کیا ہوگا اور پھر انھوں نے اسے امریکیوں تک پہنچایا ہوگا کہ دیکھو بھائی ان کو روکو یہ کیا کرنے جارہے ہیں۔ جبکہ امریکیوں نے اسے بھارتی سرکار تک پہنچائے ہوں گے”۔  وزیراعظم نواز شریف سے  اس جنگ  کے حوالے اس وقت کے انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واچپائی نے دریافت کیا تو وزیراعظم شریف کے مطابق وہ حیران ہوگئے اور پوچھنے لگے بھائی یہ اپ کیا کہہ رہے ہیں ہم نے تو اپ پر کوئی جنگ مسلط نہیں کیا، بقول نواز شریف ان کو اس سب کا بہت بعد میں علم ہوا۔
بہرحال یہ بات واضح ہے کہ یہ جنگ جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کا ایڈونچر تھا جو کامیاب نہ ہوا۔ اس سے پاکستان بہت مشکل صورتحال سے گزرا، ہزاروں جوانوں نے اپنی کی  قربانی دی اور پاکستان کو تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان  اٹھانا پڑا۔ نتائج سے بچنے کے لیے جنرل مشرف نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا جس سے پاکستان کی تاریخ میں جمہوری تسلسل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور عوامی منڈیٹ اور آئین کی توہین ہوئی۔
این ایل ائی کے ان ہزاروں جوانوں کو سلام جنھوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، اپنے بھائی معتبر شاہ کو سلام جنھوں نے اپنے دوسروں ساتھیوں کی طرح بہادری سے اپنا فرض نبھایا اور ستارہ جرات حاصل کیا، اپنے علاقائی شاعر و گلوکار مظفرالدین بیگانہ کو سلام جو ہزاروں دلوں کی دھڑکن اج بھی ہیں تاہم کارگل وار نے ان کو بیس سال پہلے ہم سے جدا کردیا۔
آخر میں کیا ہم اس جنگ اور موجودہ دگرگوں حالات کی تناظر میں سوچ سکتے ہیں کہ ہمیں بندوق کی طاقت کی ضرورت ہے یا کسی اور طاقت کی؟ سوچیئے زرا!
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments