یہ اراضی کھیل و ثقافت کی ملکیت ہے،نوجوان نسل محروم 

تحریر: شفیع اللہ قریشی 

کھیلوں کے ذریعے ہی ہم نئی نسل کو منفی سرگرمیوں سے بچاسکتے ہیں اور کھیلوں کے میدان آباد کرنے سے قوموں کا مستقبل صحت مند معاشرے کے تشکیل کی ضمانت ہے۔کھلاڑی امن کے سفیر ہوتے ہیں اور تندرست و توانا افراد ہی قوموں کا مستقبل بہتر بناسکتا ہے۔نوجوان نسل زئی و خیلی کو طاق میں رکھ کر علاقے میں امن و امان کیلئے کردار ادا کرتی  نظر آرہی ہیں کیونکہ کھیلوں کے ذریعے محبت ، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔نوجوان کھیل کو د کے ساتھ تعلیم پر بھی توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ تعلیم کے بغیر ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں۔کھیلوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں،کھیلوں کو فروغ دیکر زئی و خیلی اور نفرتوں کا خاتمہ کیاجاسکتا ہے۔ضلعی ہیڈکوارٹر شہر چلاس میں نوجوانوں نسل کا ٹورنامنٹ کا انعقاد خوش آئند ہے اور اس سے دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہونگے اور کرکٹ،فٹبال ودیگر کھیل کا پذیرائی حاصل ہوگی اور نوجوان نسل کھیلوں کے میدان آباد کرنے کیلئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا ہوگا۔جس کے لیے صوبائی حکومت گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات کرنے کی کوشش ضروری ہے۔کھیل کود تعلیم کا اہم حصہ ہے،تعلیم اور کھیل کود کو الگ نہیں کیا جاسکتا،ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتے ہیں ، تعلیمی اداروں کے اندر کھیلوں کا انعقاد کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں،تعلیمی ادارے اگر ایک طرف طلباء کی ذہنی نشونما کرتی ہے تو دوسرے جانب کھیل کھود کے ذریعے ایک صحت مند طالب علم  کو بھی معاشرے کو فراہم کرتی ہے۔کھیل صحت مند زندگی کے حصول کیلئے نہایت ضروری ہے ۔ ’کھیل ‘ یعنی کوئی بھی ایسا کام جو ہماری ذہنی اور جسمانی نشونما میں اہم کردار ادا کرے۔چلاس ہرپن داس میں موجود اراضی صرف بے نام تختی ہی رہ گیا ہے۔جہاں لکھا گیا ہے کہ یہاں سے ریت و بجری وغیرہ اٹھانا منع ہے۔یہ اراضی کھیل و ثقافت کی ملکیت ہے۔تو بتایا جائے یہ ملکیت کھیل و ثقافت کی ہے تو ایسے سالوں سے غیر فعل کیوں رکھا،نوجوان نسل سے اتنی دشمنی کیوں؟گذشتہ کئی سالوں سے دیامر بھر میں کھیل کا کوئی میدان موجود نہیں سوا پولو گراؤنڈ کے۔کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے ۔ کھیلنے سے دماغ تر وتازہ ہوتا ہے اور ایسی قائدانہ صلاحیتوں کو اُبھارتا ہے جو کوئی اور چیز نہیں اُبھار سکتی ۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے “A sound body has a sound mind.” اگر کھیل نہ ہو تو ہمارا جسم بالکل لاغر و کمزور ہو جاتا ہے ۔ بہت سی بیماریاں اس کو گھیر لیتی ہیں اور وہ جلد بڑھاپے کی طرف بڑھنا شروع کر دیتاہے ۔ اور اس کی خود اعتمادی لڑکھڑانے لگتی ہے ۔ کھیل خواہ کسی بھی قسم کے ہوںIndoor یا Outdoor ، ہر طرح سے انسانی نشونما پر اثر ڈالتے ہیں ۔ جیسا کہ Indoor کھیل ، جس میں چیس ، لوڈو ، کیرم ، سکواش ، سنوکر، ٹیبل ٹینس ، سکربل اور ڈارٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ اس سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی قابلیت بھی اُبھرتی ہے ۔ Outdoor کھیل ، جس میں کرکٹ، فٹ بال ، باسکٹ بال ، والی بال ، مختلف قسم کی دوڑیں ، ٹینس اور بیڈمنٹن وغیرہ سرِ فہرست ہیں ، جو ہمارے جسم کو چُست ، لچکدار اور پھرتیلا بناتے ہیں ۔ جو بچہ فزیکل فیٹنس کے اصول سے واقف ہو وہ خود کو ہر کھیل کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔ اور اس سے اس کی انفرادی اور اجتمائی طور پر کام کرنے کی صلاحیت بھی ظاہر ہو تی ہے،ضلع دیامر اس جدید دور میں بھی کھیل کھیلنے کے گراونڈ سے محروم ہیں ۔ڈگری کالج طلبہ ہو یا اسکول کے،دیامر کا ہر ایک مستقبل احساس کمتری کا شکار ہے اور سب کے سب اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شہر چلاس کا مقامی ائرپورٹ پر جان جوکھوں پر ڈال کر سخت ترکول پر کھیلنے پر مجبور ہیں۔کھیل  کے دوران زخم ہونا معمول بن چکا ہے۔کھیلوں کے شوقین ہمیشہ جب کوئی عسکری وفد کا ہیلی کاپٹر لینڈ کرتی ہے تو مایوس ہوکر نہیں کھیلنے پر پھر مجبوری کے عالم اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔کھیل کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں نے بھی اس میدان میں قدم رکھ دیا ہے ۔ اسی لیے اب اسکول میں جب بچہ پہلا قدم رکھتا ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ ہی کھیل کی طرف بھی متوجہ کرایا جاتا ہے ۔ جسے اسکول لیول پر غیر نصابی سر گرمیاں(Co-Curricular Activities) کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے ۔ تاکہ بچہ شروع سے ہی چُست اور توانا ہواور تعلیم پر بھی خوشی سے توجہ دے ۔ جبکہ کالج اور یونیورسٹی لیول پر اسے باقائدہ ایک مضمون فزیکل ایجوکیشن (Physical Education)کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے ۔ جس میں کھیل میں دلچسپی لینے والے طلباء داخلہ لے کر اس شعبے میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں ۔ اور یہ ہر طرح کے بچوں کا ویلکم کرتا ہے ۔ یعنی اسپیشل بچوں کو بھی آگے بڑھنے کا بھر پور موقع دیتا ہے ۔ اور ان کھیلوں سے متعلق تعلیمی ادارں میں مختلف قسم کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔ جن میں کئی قسم کے کھیلوں کے مقابلے کروائے جاتے ہیں اور پھراس میں پوزیشن لینے والوں میں سند ، انعامات اور ٹرافی تقسیم کی جاتی ہے ۔مگر افسوس ! آج بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کھیل صرف وقت کا ضاع ہے یا پھر فارغ وقت گزارنے کا ذریعہ ہے ۔ یہ لوگ بچوں کو صرف تعلیم پر زور دینے کیلئے مجبور کرتے ہیں کیونکہ شاید یہ لوگ کھیلوں کی اہمیت اور ان کے بے شمار فوائد سے انجان ہیں ۔ جبکہ کھیل انسان کی شخصیت کو سنوارنے میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ کھیل کود سے انسان میں فرماں برداری ، تحمل مزاجی ، صبر ، انتظام اور قوتِ برداشت بڑھتی ہے ۔ انسان اتفاقِ رائے سے کام کرنا اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا سیکھ جاتا ہے ۔ اور اس میں دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے اسے شکست دینے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ ہر کھیل کے اپنے قوائد و ضوابط ہوتے ہیں جو کہ کھلاڑی کو نظم و ضبط کا پابند بناتے ہیں ۔ کھیل کے دوران جب کھلاڑی ناکام ہو جائے تو وہ ہمت نہیں ہارتا اور ناہی غصّہ یا ناراض ہوتا ہے ۔ کیونکہ ایک کھلاڑی بخوبی جانتا ہے کہ ہار جیت تو کھیل کا حصّہ ہے ۔

اسی پر ہنری نیوبولٹ کا کہنا ہے کہ ’کھلاڑی کو انعام کی پروا کئے بغیر کھیلنا چاہئے ۔‘ اور اسی کو وہ سامنے رکھ کر دوبارہ کوشش کرتا ہے ۔ اور جیت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔ جس سے انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے ۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ کھیل روح کی غذا بھی ہے۔کھیل سائنسی طرزسے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ کھیل سے انسان کا دماغ تیز ہوتاہے اور صحیح کام کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ جسم کے اعضاء طاقتور اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔کھیلنے سے انسان کا جسم بالکل فِٹ رہتا ہے اور بیماریاں بھی دور رہتی ہیں۔کیونکہ کھیل ورزش کی ہی ایک قسم ہے اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتی ہے۔ضلع دیامر سب سے پرانا ڈسٹرکٹ میں شامل تھا مگر آج ہم عوام صوبائی حکومت اور منتخب وزراء کی بدنیتی یا خرگوش کی نیند سمجھے۔شہر چلاس میں کھیل کود کے لیے ایک گراؤنڈ تک  نہیں ہے۔اگر حکومت گلگت بلتستان دیامر سمیت پورے جی بی میں اپنی توجہ کھیلوں پر بھی مرکوز کر کے اس پر ٹھوس اقدامات کریں تو عموما معاشر نہ صرف صحت مند ہوگا بلکہ ہسپتالوں سے بھی نجات حاصل ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments