کالمز

صفدر بالاور… خون عطیہ کرنے کی ہاف سنچری مکمل

صفدر بالاور نے گزشتہ دنوں گلگت بلتستان پولیس کے ایک اہلکار جو کشروٹ جیل کے باہر دوران ڈیوٹی ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوئے تھے انھیں اسلام آباد انٹرنیشنل ہسپتال میں اپنے خون کا عطیہ دے کر کسی بھی مریض کو پچاسویں بار خون دینے کی ایک خوبصورت مثال قائم کی.

جب صفدر کو ایمرجنسی میں خون دینے کا بتایا تو وہ اسی لمحے تیار ہوئے. ساتھ فورا ہسپتال پہنچے. خون دینے بیڈ پہ لیٹے اور باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ وہ آج خون عطیہ کرنے کی اپنی ہاف سنچری مکمل کر رہے ہیں. میں دل ہی دل میں سوچنے لگا "آج اگر یہ بندہ پچاس خون کر چکا ہوتا تو ہیرو ہوتا مگر کسی سے ذکر کئے بغیر پچاس زندگیاں بچائی ہیں مگر پھر بھی گمنام ہی ہے.”

اس وقت میرے دل میں ان کے لئے ایک ہیرو سے بڑھ کر جذبات پیدا ہوئے. خون عطیہ کرتے وقت اس کے چہرے میں جو خوشی تھی اسے باسانی محسوسس کیا جا سکتا تھا.

شہروں میں بہت سارے نوجوانوں کے دلوں میں خون عطیہ کرنے کے حوالے سے ایک انجانا سا خوف موجود رہتا ہے. کچھ کو جسمانی کمزوری کا ڈر، کچھ کو کسی اور بیماری کے لگنے کا شک، کچھ کو تکلیف زیادہ ہونے کا احساس… کاش یہ لوگ سمجھ جائیں کہ صفدر بالاور آج پچاس بار خون عطیہ کرنے کے بعد بھی آپ سے زیادہ فٹ، تندرست، ہشاش بشاس اور سب سے بڑھ کر اپنی زندگی سے خوش ہیں.

راولپنڈی اسلام آباد میں گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں کے لاکھوں لوگ آباد ہیں. حادثات اور ایمرجنسی حالات میں مریض کے خاندان والوں کو روتے، بلکتے اور فریادیں کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے. خون عطیہ کرنے کا جذبہ معدوم ہوتا جا رہا ہے. آپ صرف ایک لمحے کے لیے اپنے کسی بھی عزیز کو ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ اور وینٹی لیٹر پر ہونے کا خیال کریں اور اس وقت بروقت خون کی دستیابی کو ان کی زندگی سے تعبیر کیا جائے تو آپ کی کیا حالت ہوگی؟ اللہ پاک ہم سب کو ایسے حالات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمائے مگر صرف ایک بار اس حوالے سے ضرور سوچئے گا.

آپ روز نیکی کے سینکڑوں کام کرتے ہوں گے مگر جو سکون اور خوشی کسی انسان کی جان بچاتے ہوئے انھیں اپنا خون عطیہ کرتے ہوئے ملے وہ شاید ہی کسی اور کام سے نصیب ہو. یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے بس صرف اپنے ضمیر کو جنجھوڑنے اور سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.

صفدر بالاور ایک سال امریکہ میں مقیم رہے اور اس ایک سال کے دوران بھی وہ دو بار وہاں خون عطیہ کر چکے. کیوں کہ امریکہ میں چھ ماہ کے بعد دوبارہ خون عطیہ کیا جا سکتا ہے. جبکہ پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں ہر تین ماہ کے بعد خون عطیہ کیا جا سکتا ہے.

راولپنڈی میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ٹرانسفیوژن میں تیرا بار خون عطیہ کرنے پر انھیں سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا ہے. باقی ہسپتالوں اور اداروں میں بھی بوقت ضرورت اسی حساب سے خون عطیہ کر چکے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے. جب تک ہمت ہوگی یہ کام جاری رہے گا.

حادثات اور ایمرجنسی حالات کے علاوہ خون کی عطیات میں کمی کا براہِ راست اثر تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں پر بھی پڑ رہا ہے جن کو دس سے پندرہ دنوں میں خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیا کے ایک لاکھ مریض ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ خون عطیہ کرنے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے. ہر تندرست فرد، ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے۔ جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بھی قابو میں رہتا ہے۔ تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آ جاتا ہے.

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں رضاکارانہ طور پر مفت خون کا عطیہ دینے کی شرح صرف دس فیصد ہے۔ ضرورت پڑنے پر یا تو خون خریدا جاتا ہے یا رشتے داروں سے لیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال پینتیس لاکھ خون کے عطیات اکٹھے کیے جاتے ہیں، جن میں نوے فیصد رشتے داروں سے اور صرف دس فیصد مفت رضاکاروں سے لیے جاتے ہیں۔ اور 75 فیصد اسپتالوں میں خون کی منتقلی کے حوالے سے کمیٹیاں موجود ہی نہیں ہیں۔

صفدر بالاوراسلام آباد میں بالاور ہاؤس میں پچھلے ایک دہائی سے مقیم ہیں. انہیں صرف ضرورت مندوں کو خون دینے کا ہی شوق نہیں بلکہ یہ کھیلوں کے ذریعے صحت مند معاشرے کے قیام اور گلگت بلتستان کی موسیقی اور وہاں کے فنکاروں سے محبت بھی کھل کر ہی کرتے ہیں. خون کے عطیات جن مریضوں کو دیئے ہیں ان میں سے اکثر کے بارے میں انھیں کوئی علم بھی نہیں کہ وہ کون لوگ تھے. البتہ ان کا کہنا ہے کہ چلاس اور گلاپور کے کچھ مریضوں کو خون کا عطیہ دیا تھا جنھوں نے انھیں ایک فیملی ممبر جیسی حیثیت دی.

صفدر بالاور کا یہ کام صدقہ جاریہ ہے. ہمیں صفدر جیسی روش اپنانے کی ضرورت ہے جس میں کسی کی جان لے کر یا کسی کی جان لینے کی دھمکی دے کر فخر کرنے کے بجائے مشکل اور مصیبت میں کسی کی جان بچا کر رب کا شکر بجا لانا ہوگا.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: