دل کے پاگل پن کا علاج گلگت میں

سابق صدر آصف علی زرداری سے سلیم صافی نے سوال کیا کہ آپ اقتدار میں آکر گلگت بلتستان کو صوبہ بنائیں گے ؟،آصف زرداری کا جواب تھا کہ ہم اقتدار میں آکر گلگت بلتستان میں آکسیجن کی کمی سے دل کے بڑھتے امراض پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں گے،بظاہر اس بات کو مذاق تصور کیا گیا لیکن یہ مذاق نہیں حقیقت ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں دل کے امراض کی شرح بڑھ چکی ہے ۔

دل تو پاگل ہے ،دل تو دیوانہ ہے لیکن گلگت بلتستان کی خوبصورت وادیوں اور حسیں نظاروں سے یا اونچے کہساروں اور بل کھاتے دریاوں سے یہ دل مچلتا ہے یا ناقص خوراک اور آکسیجن کی کمی کا مسلہ ہے فی الحال دل کے پاگل پن اور دیوانہ پن کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا ہے ،ہو سکتا ہے کہ اس مسلے پر بھی تبدیلی حکومت جے آئی ٹی تشکیل دے اور اس کی رپورٹ بھی سانحہ ساہیوال کی طرح چوں چوں کا مربہ آئے وجہ کچھ بھی ہو لیکن گلگت بلتستان میں دل کچھ زیادہ ہی دیوانہ اور پاگل ہو کر سرجری طلب کا طلبگار ہوتا ہے وقتی علاج نہ ہو تو پھر لمبا بیمار ہوتا ہے لیکن سرجری کے لئے اسلام آباد پہنچاتے پہنچاتے پاگل پن اور دیوانہ پن اس حد تک جاتا ہے کہ،،،، ،خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک ،،،،کے مصداق ہمیشہ کے لئے خاموش بھی ہوتا ہے ،،،اک دل ہی تو ہے جس سے زندگی کی رعنائیاں بھی ہیں اور عشق کی کہانیاں بھی ،جب دل خاموش ہو تو دنیا بھی خاموش ہوتی ہے ،

تجھے کچھ عشق و الفت کے سوا بھی یاد ہے اے دل

سنائے جا رہا ہے ایک ہی ا فسانہ برسوں سے

گلگت بلتستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح انتہائی پریشان کن صورتحال اختیار کرگئی ہے آغاخان ہسپتال کراچی کے کارڈیک سینٹر سے تصدیق ہوئی ہے کہ دل کے مریضوں کی سب سے زیاد ہ تعداد گلگت بلتستان کی ہے،ڈاکٹروں کے مطابق گلگت بلتستان میں دل کے امراض میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ خطے میں لوگوں میں پائی جانے والی ذہنی امراض جن میں ڈپریشن سرفہرست ہے ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں ڈپریشن کی بیماری سب سے زیادہ ہے جو ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجہ بن رہی ہے جبکہ غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی دل کی امراض کے باعث بن رہا ہے ماہرین کے مطابق موٹا گوشت اور کھانوں میں تیل کا زیادہ استعمال اور غیر معیاری مصالحہ جات کا کثرت سے استعمال بھی دل کی بیماریوں کی وجہ بن رہا ہے، گلگت بلتستان میں بیماری سے متعلق تشخیص کی سہولت نہ ہونا بھی لمحہء فکریہ ہے، گلگت بلتستان میں گھریلولے استعمال کا تیل اور گھی وغیرہ انتہائی غیر معیاری اور مضر صحت فروخت ہورہے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں دل کے امراض کی شرح مزید بڑھ رہی ہے۔

گلگت بلتستان میں دل کے ابتدائی اٹیک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی کوئی ہسپتال موجود نہیں ،سابقہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تو خیر سے کسی شعبے میں کوئی کام نہیں ہوا تھا تو اس شعبے میں کیا کام ہوتا ،مسلم لیگ ن کی حکومت نے حکومت کے تین برس صرف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے صرف کئے ،محکمہ صحت میں کئی انقلابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کے تعاون سے پہلا ایم آر آئی سینٹر قائم کیا ،تمام ہسپتالوں میں ڈیجیٹل ایکسرے مشینوں کی تنصیب ،دواؤں کے لئے فنڈ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی ہسپتال بھی قائم کئے ،اور سب سے بڑھ کر صوبے میں 150ڈاکٹروں کی تعداد کو پانچ سو تک پہنچایا ،اب سب سے بڑا انقلابی اقدام ہے کہ گلگت بلتستان کے پہلے کارڈیک ہسپتال کا سنگ بنیاد وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے رکھا ،یہ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے اس ہسپتال کی تکیمل سے گلگت بلتستان کے مریضوں کو طویل اور صبر آزما سفر کے بعد اسلام آباد اور کراچی کے ہسپتالوں کے دھکے کھانے نہیں ہوں گے ،گھر کی دہلیز میں ہی دل کے تمام امراض کا علاج ہوگا ،یہ ہسپتال اٹھارہ ماہ کی مدت میں مکمل اور ڈیرھ ارب روپے کی لاگت آئے گی ابتدائی طور پر پچاس بیڈ ہوں گے بعد میں اسے سو بیڈ تک پہنچایا جائے گا ،گلگت بلتستان کے اور تاریخ ساز بڑے منصوبوں کی طرح گلگت بلتستان کے عوام کے لئے یہ تحفہ بھی نواز شریف حکومت کا فراہم کردہ ہے اور اس منصبوبے کے لئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی محنت اور کوششیں واضح ہیں ،یقیناًگلگت بلتستان میں دل کے امراض کے لئے پہلا ہسپتال وزیر اعلی گلگت بلتستان اور مسلم لیگ ن کی حکو مت کے اہم کارناموں میں سے ایک کارنامہ تصور کیا جائے گا ۔

گلگت بلتستان کارڈیک ہسپتال کی تعمیر کے بعد امراض قلب کی علاج کی سہولتیں فراہم ہوں گی تو بڈھے بھی پکار اٹھیں گے عمر میں کیا رکھا ہے دل ابھی جوان ہے

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

کس مصیبت میں جان ہے پیارے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments