اولاد آدم اور معاشرتی‏ ‏کام   

تحریر: اناره صاحب ‏ خان

آج کل ہر بچہ پھر چاھے وہ وہ بنت حوا ہو یا ابن آدم تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلا ہوا ہے. لیکن اس تحریر میں, میں ان طالبات سے مخاطب ہوں جو اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ آئیں ہیں, صرف اسی لئے کہ وہ کچھ بن کر ہی اپنے وطن واپس جائیں گے. کچھ نہ صحیح تو اچھا فرد ہی بنیں گے. لیکن یہاں سوچنے کا مقام یہ آ جاتا ہے کہ یہ جذبہ صرف اس گاڑی کی حد تک ہی محدود کیوں ہوتا ہے جس میں انہوں نے سفر کیا ہو? ہمارے ایسے بہت سے اسٹوڈنٹس بھی ہیں جو اپنے مقصد کو پا لینے میں کامیاب ہوے ہیں. مگر صد افسوس کے ساتھ اکثریت ان طالبات کی ہے جو اپنے مقصد کے تو نام و نشان ہی بھول جاتے ہیں اور ساتھ ہی اچھا انسان بننے میں بھی ناکامیاب ہو جاتے ہیں. اور ایسا ان کے ساتھ ہوتا ہے جن کے ارادے پختہ نہیں ہوتے, جو  قاھر ہوتے ہیں, کام چور ہوتے ہیں, محنت سے جی چراتے ہیں, مستقبل کی جنہیں فکر نہیں ہوتی مستقبل تو چھوڑیں بندے کل تک بھی نہیں سوچتے, جن کے لیے سگریٹ کے دو کش زندگی بھر کی آرامی ھوتی ہے یا پھر جن کے لیے بے جا بے وقت سہیلیوں کے ساتھ بیٹھ کر  گپے ہانکنا اپنے مقصد کو سر کر لینے کے مشابہت ہوتا ہے.
صاحب اگر یہ سب ہی کرنا تھا تو پھر گھر سے نکلے ہی کیوں? یقین جانیں آپ کے ماں باپ ہیں دشمن نہیں جو ان کے پیسے حرام کر رہے ہیں, غیر اخلاقی کاموں میں ملوث ہوکر ان کی اور اپنی دونوں کی زندگیاں عذاب میں ڈال رہے ہیں. دیکھیں, اگر آپ نے گھر سے باہر قدم نکالا ہی ہے اس غرض سے کہ ماں باپ کا نام روشن کرنا ہے تو لڑکھڑائے نہیں نہ. حالات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھے, ذرا سی اونچ نیچ آنے پر اپنے گول کو نظروں کے سامنے لائیں. بجائے اس کے کہ “اقبال تیرے شاہین کو شاہینہ چھوڑ گئی” جیسے  اسٹیٹس لگائیں وہ وقت لانے کی کوشش کریں کہ جب سٹیٹس رکھنا پڑے کہ “اقبال تیرے شاہین کی پرواز سے جل رہا ہے زمانہ…” اس کے برعکس پاپا کی شہزادیاں بھی مقابلے میں اعلی ظرف کا مظاہرہ کر رہی ہیں. پتا ہے تمہاری کمزوری کیا ہے? لوگوں کو بہت دیکھتی ہوں فلاح کیا کر رہی ہے.. کیا پہن رہی ہے.. میں کیوں نہ کروں. ارے وہ چھوڑوں تم یہ بولو کہ تم کیا کر رہی ہو? تم اپنے ساتھ کتنی سنسیر ہو? دوسروں کو دیکھتے دیکھتے تمہارے گھنٹے, گھنٹے کے دن, دن کے مہینے اور مہینے کے سال گزر جائیں گے. اور آخر میں جب ڈگری ختم ہونے کا دن ہوگا تب تمہیں وہی وقت جسے اصل میں تمھارے نظر کرم کا انتظار تھا زندگی کے ایسے چوراہے پر لاکر  کھڑا کر دے گا جہاں صرف افسوس کرنے کے تمہارے پاس کچھ نہ ہو گا. پھر تمہیں اس وقت کے سنہرے دن یاد آینگے.. جب تم کہا کرتی تھی. ابھی امتحانات میں ٹائم ہے کافی چلو شاپنگ پر چلتے ہیں, فیس بک کی وہ سکرولنگ جیسے اس میں کوئی بزنس ڈیل کرنی ہو, او ھا سب سے حسین لمحہ تو وہ جب امتحان شروع ہونے سے ہفتہ قبل سٹیٹس لگتا تھا “ڈو ناٹ ڈسٹرب ایگزام ٹائم” اور ایگزام ختم ہونے کے بعد تک لوگوں کے گڈلک پر “تھینکس”. اور اگر کچھ نہ ہو کرنے کو تو اس نے مجھے یہ کہا! کہاں تو کیوں کہا? اور اگر کچھ نہ کہا! تو کیوں نہ کہا? انہیں الجھنوں میں الجھ کر بیسٹیز کے ساتھ وقت برباد.
دوسری طرف اقبال کے شاہین جو مارکیٹس, روڈ پر اپنے علاقے کی بہنوں کو دیکھ “جو جو جو” جیسے مشہور ڈائیلاگ  بول کر حسین شامیں گزارنے میں مصروف. اور پھر دن بھر کی  محنت کے بعد اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر غیر اخلاقی چیزوں میں ملوث! پھر چاہے وہ سگریٹ ہو شراب ہو یا پھر چرس. اور اگر کچھ تھوڑا شریف شاہین ہو تو دوستوں کے ساتھ لڈو کھیلنے میں رات کے باره, اور ہارنے والے سے چائے پراٹھوں کا فرمایشی پروگرام رات دو ایک بجے تک. اور پھر جب مردانگی کا جنون سرچڑھ کر بولنے لگے تو بے وجہ لانجھوں میں ملوث ہوکر اپنے گھر والوں کے لئے عذاب.
خدارا.. تھوڑا غور کریں وقت تو نکل چکا ہے مگر جو تھوڑا ہاتھ میں ہے اسے کم از کم صحیح استعمال کریں. تاکہ بعد میں جب آپ سے چھوٹے آپ سے پوچھیں ہاں بھائی! وہاں تھے کیا بنا? تب وهی سستے بہانے بنانے کی نوبت نہ آئے کہ یار, کیا بتائیں بجلی نہیں تھی ہمارے زمانے میں, پانی کا تو پوچھو ہی مت زمین کے اندر سے نکالنا پڑتا تھا, زمینوں کے کام  تو اللہ جی پڑوسیوں کے بھی کرنے پڑھتے تھے. اور دل کے ایوان میں آواز گونج رہی ہو “مواقع ہی مواقع تھے فائدہ اٹھانے کے لئے ٹائم نہیں نکال سکےبس”.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments