یاسین: لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوام سراپا احتجاج، ایف آئی آر ختم کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم

یاسین ( معراج علی عباسی ) یاسین میں سینکڑوں کی تعداد میں عوام بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج، محکمہ برقیات کے اہلکار اور انتظامیہ غائب، راجہ جہانزیب ، غلام محمد ، محمد ایوب شاہ اور ایس ایچ او یاسین مردہ باد کے نعرے۔

درکوت، تھوئی، ہندور، برکولتی اور دیگر علاقوں سے تقریباََ چار ہزار کے قریب عوام نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تھانہ یاسین کے سامنے تین گھنٹے تک مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کرکے احتجاج کیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بجلی ہماری بنیادی حق ہے اور ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ جہانزیب کو اس لیے نمائندہ منتخب نہیں کیا تھا کہ ہمیں سڑکوں پر آنے پہ مجبور کیا جائے۔

مقررین نے کہا کہ ہم نے غلام محمد کو تین بار عوامی نمائندہ منتخب کیا اور ایوب شاہ کو بھی باری دی لیکن سب نے ہمارے ساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں کیا۔ جو آرام دہ گاڑیوں میں بیٹھ کر اور مہنگے ہوٹلوں میں رہ کر ہماری غریبی کا مذاق اُڑ ا رہے ہیں ۔
مقررین کا مزید کہنا تھا کہ یاسین میں سیلی ہرنگ پاور ہاؤس پر 36 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ تھوئی پاور ہاؤس پر 35 کروڑ خرچ ہوئے ہیں جبکہ بتھریت پاورہاؤس پر35 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے لیکن بجلی کا نام و نشان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلام محمد ، راجہ جہانزیب اور محمد ایوب شاہ کے گھروں کے باہر لگے ہوئے ٹرانسفارمرز کو فوری طور پر ہٹایا جائے بصورت دیگر ہم خود ان کو اُٹھا لینگے۔

مقررین نے کہا کہ یاسین کا کوئی عوامی نمائندہ موجود ہی نہیں ہے سب کمیشن مافیا ہے اوراپنی بیوی بچوں کو لیکر عیاشیاں کر رہے ہیں۔

احتجاجیوں کے نمائندوں جن میں گوہر ایڈوکیٹ ، کریم اللہ ایڈوکیٹ ، سابق وائس چیر مین ضلع کونسل غذر ندیم ایوب ، نمبر دار سرفراز ، ایکس ایس ایچ او عباس ، ایکس صوبیدار میجر افضل آمان کے ساتھ تحصیلدار یاسین اور ایس ڈی پی او یاسین کی مذاکرات کے بعد گزشتہ دنوں بجلی کے خلاف ہونے والی احتجاج میں درج ایف آئی آر ختم کرنے کی یقین دھانی کروائی۔ انہوں نے بجلی چار دن بغیر کسی لوڈ شیڈنگ سے جاری رکھنے کا وعدہ بھی کیا جس پراحتجاجی پرامن طور پر منتشر ہوگئے ۔

احتجاج سے گوہر ایڈو کیٹ ، کریم اللہ ایڈوکیٹ ، ندیم ایوب ، شاہ رحیم ، محمد مدد شاہ ، خلیفہ ظفر سمت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔
ہ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments