جارج سینٹی کا مقدمہ اور گلگت بلتستان

تحریر : مہدی علی

امریکا میں ایک 14 سالہ بچے پر دو بچیوں کے قتل کا مقدمہ مسلسل دو بار چلا ایک بار دس منٹ میں فیصلہ ہوا تو دوسری دفعہ فیصلہ ہونے میں ساٹھ سال کا کاطویل عرصہ بھید گیا۔ پہلا فیصلہ امریکی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے یہ 1944 کی بات ہے کہ امریکی ریاست کیرولانا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دو بچیاں اپنے سائیکل پر مے پوپ کیپھول جمع کرنے جا رہی تھی راستے میں ان کی ملاقات کسی علاقے میں رہنے والے سیاہ فام بہن بھائی سے ہوئی سائیکل چلاتی بہنوں نے چلتے چلتے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے مے پوپ کے پھول کہاں ملے گی؟ میپوپ ایک مشہور جنگلی پھول ہے جس کی بہت ہی اچھی خوشبو ہوتی ہے لیکن سیاہ فام بہن بھائیوں کو مے پوپ کا پتا نہیں تھا اس لیے جواب نہیں دے پایا تو ان سے مایوس ہوکر پھولوں کے تلاش میں آگے نکل گئی اور بظاہر بات یہاں ختم ہوگئی تھی لیکن شام کو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور یہ دونوں بہنیں گھر نہیں پہنچیں تو علاقے کے لوگ رات بھر لالٹین لئے بچیوں کو تلاش کرتے رہے پھر ایک پادری نے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک گھر کے قریب دو لاشیں پڑی دیکھی ان لاشوں کے ساتھ سائیکل بھی موجود تھی لیکن ان معصوم بچوں کو کس نے مار ڈالا ؟ جب اس قتل کے رپورٹ آئی تو سارا کیس الٹ گیا کیونکہ ڈاکٹروں کو کوئی شواہد نہیں ملا لیکن اس صورتحال نے سب کو چکرا کر رکھ دیا پولیس کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل تھا کہ آخر ان بچیوں کو کس مقصد کے لئے ختم کیا گیا ؟ نہ ہی کوئی ثبوت ملا اور نہ ہی اس کیس کو داخل دفتر کیا جاسکتا تھا کیونکہ یہ بچیاں سفید فام تھی اور امریکن پولیس نے وہی کیا جو آج بھی تیسری دنیا کے پولیس کرتی ہے یعنی جس پر بھی شک ہو اس شخص کو پکڑا جائے اور اس پر تشدد کرکے اقرار لیا جائے پولیس کے لیے ایک چیلنج یہ بھی تھا کہ وہ بغیر ثبوت کے کسی سفید فام پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اس لیے سارے قوانین سفید فام کی حمایت میں ہوا اگر پولیس ان کو گرفتار کرتی تو مقامی حکومت ان کا جینا حرام کر دیتی اس لیے پولیس نے ایک آسان شکار چنا وہ تھا سیاہ فام کا وہ بچہ تھا جن سے مقتول بچیوں نے پھول کے بارے میں پوچھا تھا اس کی بہن تو صرف سات سال کی تھی اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا پولیس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے جارج کے گھر پہنچا اور اسے ان کے بڑے بھائی کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا یہاں سے ایک جھوٹے الزام کی شروعات ہوئی بچیوں کے قتل کا کوئی گواہ نہیں تھا لیکن پولیس اپنی بہتر کارکردگی دکھانے اور شہرت کمانے کی خاطر جارج کوقاتل ٹھہرایااور ایک جھوٹا الزام ان کے سر ڈال کراس چودہ سالہ بے گناہ بچے کو مار پیٹ کر کے قتل کا اعتراف کروا لیا جبکہ سوائے پولیس کے کوئی گواہ نہیں تھا اس کے بڑے بھائی کو تو چھوڑ دیا گیا لیکن جارج کو قید کر لیا گیا چودہ سالہ بچہ اپنے والدین سے تن تنہا اندھیری کوٹھری میں بند رہا اور یہاں اسے کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہ دی گئی اور نہ ہی ان کے والدین نے پولیس سے بحث کرنے یاپوچھنے کی زحمت کی جب جارج کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا تو صرف ایک پولیس اہلکار نے ایک کاغذ پر لکھ کردیا کہ جارج نے اپنا گناہ قبول کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اس نے لوہے کے اوزار سے بچیوں کو قتل کیااور اس نے لاشوں کے قریب ہی آلہ قتل چھپایا گیا ہے امریکی قانون کے مطابق اس کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ نہ ہونے کی ڈر سے پولیس نے جارج کو ایک جیوری کے سامنے پیش کیا اس جیوری میں سفید فام لوگ شامل تھے جو سیاہ فاموں سے نفرت کرتے تھے دنیا کو انسانیت کا درس دینے والا امریکی قانون کے تحت سیاہ فام سفید فام سے ہاتھ نہیں ملا سکتے،ان کے رسٹوران میں کھانا نہیں کھا سکتے، ان کی آبادی، اسکول، ہوٹل اور سفر کے لیے بیٹھنے کی جگہ الگ ہوتے تھے ان قوانین کا سب سے خطرناک پہلو یہ تھا کہ سیاہ فام عدالتوں میں جج یا جیوری کا حصہ بننے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی اسی قانون اور مائنڈ سیٹ کے تحت 1944 کے سال اول میں چودہ سالہ بچے کا مقدمہ سنا جارہا تھا لیکن مقدمے سے پہلے ہی علاقے میں حالات خراب کر چکے تھے سفید فام کی طاقت کی وجہ سے جارج کا سارا خاندان حملے کے ڈر سے کہیں روپوش ہو چکا تھا خود جارج کو بھی علاقے سے دور لمبیا کے جیل میں منتقل کردیا گیااس کا ٹرائل شروع ہوا تو صرف ایک گواہ پیش کیا گیا اس گواہ نے صرف جارج کو بچیوں سیراستے میں ملتے ہوئے دیکھا تھا لیکن ان میں سے کسی نے بھی جارج کو قتل کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی آلہ قتل ملا تھا جیوری سفید فاموں کی ناراضگی مول لینے پر تیار نہ تھا چونکہ وہاں سب منتخب نمائندے تھے پولیس اور گواہ کے بیانات آپس میں نہیں ملتے تھے پولیس نے عدالت کے سامنے تو متنازعہ بیانات دیئے تھے ایک بیان میں کہا گیا کہ جارج نے خود تسلیم کیا ہے کہ لڑکیوں نے اس پر حملہ کیا تھا اور صرف ڈیفنس میں اس نے انہیں قتل کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب دوسرا بیان یہ سامنے آیا کہ جارج نے جنگل میں بچیوں کاپیچھا کیا اور انہیں قتل کر دیا پولیس کے مطابق اس نے بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں ایک ہزار فٹ کے فاصلے پر ایک کھائی میں چھپا دی یہ بات بھی شبہے سے کم نہ تھی۔ بچیوں اور جارج دونوں کے کپڑوں پر کوئی بھی نشان موجود نہیں تھا پھر تقریباً ایک ہزار فٹ تک لے جانا ناممکن تھا مقدمے کے کمزور پہلوؤں پر جارج کے سیاہ فام ہونیکی وجہ سے صرف تین گھنٹے مقدمہ مکمل کرنے کے لیے جمع ہوا اور صرف 10 منٹ میں انھوں نے جارج کو سزاموت سنادی گئی یہ سزا بجلی کی کرسی پر بٹھا کر کرنٹ کے ذریعے مارنے کا حکم ہوا 14 سالہ جارج کو اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا اسے اپنے خاندان سے ملنے کی بھی اجازت نہ دی گئی سزائے موت کی کوٹھری میں تنہا رہا 16 جون1946 کو چودہ سالہ بچے کو الیکٹرک چیئر پر بیٹھا دیا گیا جارج اپنی سزا کے بعد سے اپنے پاس ایک بائبل رکھتا تھا اور آخر وقت تک یہی کہتا رہا کہ وہ بے گناہ ہے جب اسے چیئر پر بیٹھایا گیا تو جلاد نے دیکھا کہ الیکٹرک چیئرپرفیٹ نہیں آرہا یہ الیکڑک چیئر اس کے ننے جسم کے سائز کے مطابق نہ تھی اس چیئر کو تنگ کرکے جارج کو بیٹھایااور منہ پر پٹی باندھی گئی پھر1000 وولٹ بجلی کے جھٹکے دیکر اس کے کانپتے ہوئیجسم کو روح سے آزاد کردیا گیا بیسویں صدی میں امریکہ میں سزائے موت پانے والا سب سے کم عمر شخص تھا اس کی موت کے بعد 2014 میں جب اس واقعے کے زیادہ تر کردار موت کی وادی میں سوچکیاور سزائے موت ہونے کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل تک کا حق نہیں دیا گیا اس سے بڑی ناانصافی ریاست کے گورنر کی تھی اس کا نتیجہ بھی انتہائی تکلیف دہ تھاکچھ لوگوں نے اسے کہا ایک اور کیس میں سزائے موت کے مقدمے میں ایک سفید فام عورت کو 20 سال قید کی سزا دی گئی ہے اس لئے جارج کی سزا بھی عمر قید میں بدل دی جائے اس پر رحم کیا جائے تاہم گورنر اس وقت سینٹ کا الیکشن لڑرہا تھا اسلئے گورنر خوف کی وجہ سے سزا میں معافی کی اپیل مسترد کردی بلکہ یہ بھی لکھ دیا کہ وہ مقدمے کے تفتیشی افسر سے ملے ہیں انہیں معلوم ہوا ہے کہ جارج نے دونوں بہنوں کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بڑی بہن سے زیادتی کرنا چاہتا تھا اور یہی نہیں وہ قتل کے بعد لاش سے زیادتی کے لیے واپس آیا لیکن تب تک لاش ٹھنڈی ہو چکی تھی اس لیے وہاں سے اسی حالت میں چھوڑ کر واپس چلا گیا ان کا یہ بیان سب سے حیران کن تھا کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی زیادتی کے شواہد نہیں تھا اور پولیس نے بھی ایسا کچھ نہیں کہا تھا لیکن گورنر صاحب نے نہ صرف رحم کی اپیل مسترد کی بلکہ اپنی سینیٹ کی سیٹ بچانے کی خاطر انصاف کا خون کردیا جوں جوں وقت گزرتا گیا مقدمے کے حقائق سے پردہ اٹھتا گیااور تمام لوگوں کا تجسس بڑھتا گیا14 سالہ بچے کے لیے اس کا اپنا وزن بمشکل سے 40 کلو گرام تھا اس کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اکیلا دوبچیوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو ایک ہزار فٹ تک لے جاسکے یہ ممکن نہیں تھا ابھی اسکی بہن زندہ تھی انہوں نے اپنے بھائی کو بے گناہ قرار دلوانے کے لیے گواہی دینے کی حامی بھر لی آخر خدا خدا کرکے اکتوبر 2013 میں جارج کے گھر والوں نے عدالت میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے مقدمہ دائر کیا اور کہا گیا چودہ سالہ جارج کو اپنے دفاع کا پورا حق نہیں دیا گیا اس لئے ٹرائل دوبارہ کیا جائے اس درخواست کی دو روز تک سماعت ہوئی اور ماہرین نے ثابت کیا کہ جن حالات میں جارج کو سزائے موت ہوئی وہ حیران حیران کن اور کسی شبہ یا مشکوک سے کم نہ تھا چنانچہ عدالت نے درخواست منظور کر لیا اور جنوری 2014 میں جج کی عدالت میں مقدمہ شروع ہوا جارج کی بہن نے گو اہی دی کہ میرابھائی قاتل نہیں تھا اور ان بچیوں سے راستے میں ملاقات کے وقت میں ان کے ساتھ تھی۔عدالت میں قتل ہونے والے دونوں بچیوں کے خاندان کے کچھ افراد بھی زندہ تھے اس مقدمے میں پیش ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہم ان بچیوں کا قاتل جارج کو سمجھتے ہیں اس وقت کے شواہد جارج کیخلاف تھا تبھی اسے سزا سنائی گئی جارج کی بہن کا انکار کرتی ہوئی کہتی ہے کہ ہائے آج عدالتی کاروائی کے وقت وہ گواہ یا جیوری کے آراکین زندہ نہیں رہے حتیٰ کہ واقعے کا زیادہ ترعدالتی ریکارڈ بھی موجود نہیں جبکہ ایک ایسے شخص نے بھی گواہی دی جو لاشوں کی تلاش میں شامل رہا تھا وہ ابھی تک زندہ تھا جو آج بھی جارج کے حق میں تھا اس کا کوئی تحریری اعترافی بیان موجود نہیں تھا اس وقت کے جیوری نے فیصلہ سنانے میں جلد بازی سے کام لیا گیا صرف ایک پولیس اہلکار کے بیان پرسزا دیا گیا جو کم عمر تھا اوراعترافی بیان بھی پولیس نے زبردستی لیاتھااس بیان کی کوئی حیثیت نہیں

ہوتی لاشیں ملنے کے 83 دن کے اندر سزائے موت دے دی گئی تھی یعنی تین ماہ بھی پورے نہیں ہوسکے لیکن اسے بے گناہ قرار دینے کے لئے ستر سال لگا آخرکار جارج کو اس بنیاد پر بے گناہ قرار دے دیا کہ جارج کو دفاع کا حق نہیں ملا۔ ریاست بے گناہ شخص کو انصاف دینے میں ناکام رہی جس پر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جس تیزی سے یہ فیصلہ کیا گیا وہ طریقہ ہی غلط تھا انہوں نے اسے سب سے بڑی ناانصافی قرار دیا اور لکھا کہ جارج کا اعترافی بیان ممکنہ طور پر زبردستی لیا گیا 70 برس بعد جارج اور اس کے گھر والوں کو انصاف تو مل گیا لیکن ظاہر ہے اس کا فائدہ صرف ریکارڈ کے درستگی کی حد تک ہے اسی طرح چیف جسٹس ثاقب نثار نے جی بی کے ساتھ کیا۔ جارج کو تو ستر سال بعد انصاف مل گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کو انصاف کے تمام دروازے بند کر دیئے ہمارا ایک ہی نعرہ پانچواں صوبہ پانچواں صوبہ دریا میں ہمیشہ کے لئے بہ گیا ا?ئینی حیثیت کے بارے میں پائی جانے والی بحث سترہ جنوری کو اپنے اس فیصلے کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دفن کردیا۔ثاقب نثار کونسی بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں معلوم نہیں؟ جس میں حق انتخاب اورحق نمائندگی دونوں سے محروم کردیا جسٹس ثاقب نثار جاتے جاتے ایک انتہائی خطرناک کھیل کھیلا کر جی بی عوام کے امید کی کرن ہی بجھادی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ملک عزیز پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع فراہم کیا گیا ثاقب نثار نے وہی سلوک کیا جو امریکن جیوری نے جارج کے ساتھ کیا ۔۷۰ صفحات پر مشتمل فیصلے میں یہاں کے عوام کو سیاہ فام قرار دیا گیا بابارحمتے نے گلگت بلتستان کے ہزاروں شہیدوں کے ساتھ غداری کی گئی اس فیصلے سے جی بی کے عوام تو سراپا احتجاج ہے لیکن مودی سرکار بھی خوش ہے چونکہ 2009 کے آرڈر پر انڈیا کا سخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھااب بابا رحمتے نے مودی کو خوش کرکے چلا گیا لیکن افواج پاکستان اور دیگر اداروں سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اس حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عبوری صوبہ بنانے کے لئے عملی اقدام کی جائے ورنہ پاکستان مخالف گروہ پھر سے مضبوط ہوگا۔

وطن کی خاک مجھے ایڑیاں رگڑنے دیں

مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments