شیشپر گلیشئرپھیلاو: ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل، کمیٹی سفارشات دو دنوں میں چیف سیکریٹری کوپیشں کرے گی

گلگت ( پ ر ) چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ خرم آغا کی خصوصی ہدایات پرحسن آباد نالے میں شیشپرگلیشئیر کے پھیلاوٰ سے KKH کو درپیش ممکنہ خطرے سے بچانے کیلئےNHA کو ضروری احکامات جاری کر دئے گئے ہیں جبکہ حسن آباد پل کو نقصان کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر بحالی کیلئے پاک فوج اور NHA ایمرجنسی پل بھی FWOکو فراہم کر رہے ہیں تاکہ بروقت پل کی تنصیب ہو سکے۔

چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی زیر صدارت شیشپر گلیشئر کے باعث رونما ہونے والے حالات کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ میں ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں مندرجہ ذیل ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے اسی دن موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات دو دنوں میں چیف سیکریٹری کو ارسال کرے گی۔

۱۔سیکریٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان۔ ۲۔ چیف انجینئر پی ڈیپلو ڈی گلگت ۳۔ کمشنر گلگت ۴۔ڈی آئی جی گلگت رینج
۵۔ ڈی جی جی بی ڈی ایم اے ۶۔ ڈی جی ریسکیو 1122 ۷۔ ڈی سی ہنزہ ۸۔ کنزرویٹر وائلڈ لائف
۹۔ ڈائریکٹر ہیلتھ گلگت ریجن ۱۰۔ ڈائریکٹر واٹر مینجمینٹ گلگت بلتستان ۱۱۔ ڈائریکٹر فوڈ گلگت بلتستان۔ ۱۲۔ ڈائریکٹر این ایچ اے

اس کمیٹی کو ذمہ داریاں بھی سونپی گئی کہ حفظ ماتقدم کے تحت کئے گئے اقدامات کا ازسر نو جائزہ لیں اور بوقت ضرورت متاثرہ آبادی کو محفوظ مقام پر منتقلی کیلئے سہولیات کا بھی جائزہ لیں۔

گلگت بلتستان کا خطہ گلیشئرسے گرا ہواہے ۔ جس کی وجہ سے یہاں کی بیشتر آبادی اور اراضی مختلف قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ ماضی قریب میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں گلیشئرکی غیر معمولی پھیلاو اور پگھلاؤ نے متعلقہ حکام کی توجہ اپنی طرف مبذول کیا ہے۔

خوردوپین گلیشئر شمشال کا بڑھنا ہو یابدصوات میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہو یا شیشپر گلیشئر میں پیدا ہونے والی غیر معمولی حرکت ، جی بی ڈی ایم اے ہمہ وقت اسباب و محرکات کے تجزیے سے لیکر ممکنہ خطرات کے سدباب اور تدارک اور متاثیرین کی داد رسی کیلئے مصروف عمل ہے۔

نومبر 2018میں شیشپر گلیشئر میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی تو جی بی ڈی ایم اے کیطر ف سے گلیشیئر کا باقاعدہ مشاہدہ شروع کر دیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ گلیشئر تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

مئی 2018سے تا دم تحریر اس گلیشیئر کا حجم کافی بڑھ چکاہے جو کہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہیں۔ کیونکہ مذکورہ گلیشئر اور آبادی کا درمیانی فاصلہ گھٹ کر تقریباً 5.5کلو میٹر رہ گیا ہے۔ گلیشئر کی غیر معمولی حرکت کے ساتھ ساتھ جو مصنوعی جھیل پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کی وجہ سے معرض وجود میں آئی ہے، نیچے موجود آبادی ، تنصیبات اور انفراسٹرکچر کیلئے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

گرمیوں میں اچانک پگھلاؤ یا گلیشئر کا نیچے آبادی تک آنا خطرناک ہو سکتاہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے اور ممکنہ خطرات کے سدباب اور تدارک کیلئے جی بی ڈی ایم اے نے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل طے کیا اور مربوط پالیسی وضع کی ہے۔

اسی سلسلے میں ایک قومی سطح کی ٹیم کا قیام این ڈی ایم اے کی مدد سے ڈی جی جی بی ڈی ایم اے کی سربراہی میں عمل میں لایا گیا جو کہ ماہرین پر مشتمل ہے تاکہ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیکرتدارک کیلئے بروقت ہدایات جاری کر سکیں۔

مذکورہ ماہرین پر مشتمل ٹیم درج زیل محکموں سے تعلق رکھتے ہیں۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ۲۔جیولوجیکل سروے آف پاکستان ۳۔ سپارکو ۴۔فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ۵۔واپڈ ۶۔این ڈی ایم اے ۷۔نیسپاک ۸۔ آرمی انجنیئرز

ماہرین پر مشتمل یہ ٹیم صورت حال کا جائزہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد او ر ڈی ڈی ایم اے ہنزہ کی طرف سے کئے گئے فیلڈ کے دورے کی روشنی میں لے رہی ہے۔ تازہ ترین صورت حال کے مطابق گلیشیئر اس وقت بھی حسن آباد گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے جی بی ڈی ایم اے کیطرف سے محکمہ PWDکو ضروری حفاظتی بند بنانے کیلئے ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ جس کے مطابق تمام حفاظتی کام15اپریل تک مکمل ہو جائینگے۔ یہ حفاظتی بند خاص طور پر سرکاری، غیر سرکاری اور رہائشی مکانات کے تحفظ کیلئے بنائے جارہے ہیں۔

علاوہ ازیں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی ہدایت پرکسی بھی ناگہانی صورت حال میں انسانی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر ڈی ڈی ایم اے ہنزہ کی طرف سے اے ڈی جی بی ڈی ایم اے کی سرکردگی میں تشکیل شدہ ٹیم علاقہ مکینوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور وقتاً فوقتاً تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کر رہے ہیں۔

ہنگامی صورت حال کے وقت گھروں سے نکلنے کے راستے اور محفوظ مقامات کا تعینDDMA ہنزہ اور AKAHکی مدد سے کیا گیا ہے اور علاقہ مکینوں کو اس بارے میں آگاہی بھی دی جا چکی ہے۔ پاک آرمی نےLIDARسروے بھی مکمل کیا ہے جس کا ڈیٹا پروسس کرنے کے بعد 15فروری تک متعلقہ حکام کورپورٹ فراہم کی جائے گی جس سے مزید اقدامات درست سمت میں اٹھانے میں مدد ملے گی۔

محکمہ خوراک کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بالائی علاقوں میں 4سے 5ماہ کا خوراک محفوظ کرے اور محکمہ صحت دوائیوں کا اسٹاک اور میڈیکل عملے کی موجودگی کو یقینی بنائے گا۔

سپارکو اور محکمہ موسمیات سیٹلائٹ کے ذریعے جبکہ DDMAہنزہ زمینی سطح پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور رپورٹ متعلقہ حکام تک پہنچا رہے ہیں۔

چیف سیکریٹری نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیا ہے کہ ہر صورت میں عوام کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments