“کلبهوشن یادیو اور عالمی عدالت انصاف”

تحریر: فیض اللہ فراق

اصل نام کلبهوشن سدھیر یادیو ہے۔ 16 اپریل 1970 کو مہاراشٹر ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انڈین پولیس میں افسر تھے. کلبهوشن یادیو نے تعلیم سے فراغت کے بعد انڈین نیوی سے ملازمت کی شروعات کی. کئی سال انڈین خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ رہے اور پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے مشن پر چل پڑے۔ یادیو ایک جعلی پاسپورٹ کے ذریعے چاہ بہار کے رستے بلوچستان میں داخل ہوئے۔ کمال مہارت سے اپنا نیا نام حسین مبارک رکھا.

“را” کے مقاصد کی تکمیل کیلئے کلبهوشن یادیو نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز بلوچستان اور کراچی سے کیا. یادیو کو شاید یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس ملک کے دفاع میں ایک طاقت ور خفیہ ادارہ بھی پیش پیش ہے جس کا پوری دنیا میں ڈنکا بجتا ہے۔

کلبهوشن نے بلوچستان کی مختلف علیحدگی پسند ملک دشمن جماعتوں کے رہنماؤں اور کراچی میں سیاست کا لبادہ اوڑھے چند بهیڑیوں کو اپنے ساتھ ملانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مختصر عرصے میں کلبهوشن نے اپنے ساتھ کئی افراد کو جوڑا اور ایک گروہ بن گیا جسے کلبهوشن نیٹ ورک کہا جاتا ہے. اس گروہ کا سرغنہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی کا افسر کلبهوشن یادیو تھا.

اس نیٹ ورک نے بلوچستان اور کراچی میں کشت و خون کا بازار گرم رکھا۔ کہیں پر لسانی کہیں پر مذہبی اور کہیں پر علاقائی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کیا اور سینکڑوں بے گناہ کلبهوشن نیٹ ورک کے نذر ہوگئے۔ اس پورے عمل میں کلبهوشن مقامی علیحدگی پسندوں کو بهر پور مالی تعاون بھی کرتے رہے اور ساتھ ساتھ سرپرستی بھی.

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے کلبهوشن نیٹ ورک کے نشانات کا بڑی مہارت سے تعاقب کیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کلبهوشن کے قریب پہنچ گئے اور یوں 3مارچ 2016 کو بلوچستان میں ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے کلبهوشن کو گرفتار کیا گیا. تفتیش اور تحقیق کے بعد کلبهوشن نے اندرونی کہانی کو اگل دیا اور ویڈیو پیغام کے ذریعے انڈین خفیہ ایجنسی “را” کے سارے راز اور منصوبے دنیا کے سامنے عیاں کر دیا.

کلبهوشن نے واضح طور پر کہا کہ وہ انڈین خفیہ ایجنسی “را” کا ایک جاسوس ہے اور بھارتی نیوی میں بطور حاضر سروس کمانڈر خدمات انجام دے رہا ہے. کلبهوشن نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے علاقے بلوچستان اور کراچی میں انگنت دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے اور کئی بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل بھی لیکن دوسری جانب ہندوستانی حکومت نے وہی روایتی انداز اپناتے ہوئے منافقانہ طرز روش کو برقرار رکھا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے کیلئے کلبهوشن کے بارے میں صفائی دینا شروع کی۔

ہندوستانی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ کلبهوشن جاسوس نہیں ہے اور ساتھ اس بات کا اقرار بھی کیا کہ موصوف انڈین نیوی کا افسر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈین نیوی کے کسی افسر کا پاکستان کے علاقوں میں مسلسل خفیہ مشن کس بات کی دلالت کرتا ہے؟ جعلی پاسپورٹ اور فرضی نام لیکر کلبهوشن بلوچستان اور کراچی میں کیا کرتے رہے؟ بھارتی موقف کا پول اس وقت کهل گیا جب کلبهوشن یادیو کی ماں ان سے ملنے پاکستان آئی. اپنے بیٹے سے ملاقات کے بعد کلبهوشن کی ماں نے یادیو کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا ایک جاسوس ہے جو بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کیلئے کام کرتا رہا ہے۔

ان تمام حقائق اور حوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کلبهوشن یادیو کی پاکستان کے جنرل کورٹ مارشل سے 10 اپریل 2017 کو سزائے موت سامنے آئی۔ باوجود اس کے پاکستان کی اس وقت کی حکومتیں کلبهوشن کو کیفر کردار تک پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی جس سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع کیا اور 10 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف نے کلبهوشن کی سزا پر عملدرآمد روک دیا. جس سے تمام پاکستانیوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ عالمی عدالت انصاف کو کلبهوشن کی لہو رنگ سرگرمیاں نظر نہیں آئیں۔ بلوچستان اور کراچی میں ہیوی سرمایہ کاری کے ذریعے کلبهوشن نیٹ ورک نے پاکستان اور پاکستانی عوام کا جو نقصان کیا اس کا ازالہ کون کرے گا؟ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل کی سزا پر عملدرآمد کون کرے گا؟ ان تمام سوالات کی منتظر پاکستانی عوام کی ساری توجہ اب عالمی عدالت انصاف پر ہے.

17 فروری سے کلبهوشن کیس کی سماعتیں ہونے جارہی ہیں اور توقع ہے کہ عالمی عدالت انصاف ایک قاتل اور خونخوار جاسوس کو عبرت کا نشان بنا کر سچ، حق اور انصاف کا بول بالا کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments